عشقِ رسول ﷺ سے نظامِ عدل تک: سیرتِ نبوی ﷺ کی سیاسی و معاشی تعلیمات
مطالعہ سیرۃ نبوی ﷺ کے سیاسی و معاشی تقاضے
عشقِ رسول ﷺ سے نظامِ عدل تک: سیرتِ نبوی ﷺ کی سیاسی و معاشی تعلیمات
تحریر؛ فہد محمد عدیل (گوجرانوالہ)
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں“۔حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ محبت ہر مؤمن کے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کے تقریباً 195 ممالک کی آبادیوں میں سے ایک بڑی تعداد بھوک، مفلسی، بدامنی، خوف، عدل و انصاف کے فقدان، ریاستی جبر، سیاسی عدمِ استحکام، دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز، معاشرتی جرائم اور اِنفرادی برائیوں کا شکار ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے گزشتہ دو سو سال سے یورپ کے افکار و نظریات پر بڑے پیمانے پر کام ہورہا ہے۔ آج تقریباً ہر ملک، خواہ اس کی اکثریتی آبادی مسلم ہو یا غیرمسلم، اپنے ریاستی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل نہ صرف یورپ کے افکار و نظریات میں، بلکہ ان سے تشکیل پانے والے نظاموں میں بھی تلاش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چاہے شعوری طور پر یا غیرشعوری طور پر، دنیا کے بیش تر ممالک امریکا جو سرمایہ دارانہ نظام کا نمایاں ترین نمائندہ ہے، یا یورپ کے بالخصوص برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ کے سیاسی، معاشی اور ریاستی ماڈلز کو اپناتے ہوئے اپنی کامیابی اور فلاح کا تصور کرتے ہیں۔
گو کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یورپ نے غیرمعمولی ترقی کی، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی عفریت نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ثمرات کو عام انسانوں کی بڑی تعداد سے بہت دور کر دیا ہے،جس دور میں اسلامی معاشی نظام کو غلبہ حاصل تھا، اس دور میں علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کے مختلف مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا اور بلاتخصیصِ رنگ و نسل انسانیت کی خدمت کے لیے وسائل فراہم کیے۔ آج بھی حقیقت دنیا کے سامنے ہے کہ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی غیرمعمولی ترقی کے باوجود دنیا کی ایک بڑی آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے اور صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
دوسری طرف چند امیرترین افراد اور طبقات کے پاس دنیا کے وسائل کا اتنا بڑا حصہ موجود ہے کہ اگر ان وسائل کو منصفانہ اور درست طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو دنیا سے غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور شعور کی نعمت کو ہر مرد و عورت تک پہنچانے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی اِنفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے جہاں عبادات اور معاملات میں رہنمائی فرمائی، وہیں آپ ﷺ نے ریاستی نظم و نسق، سیاسی معاملات اور معاشی نظام کے حوالے سے بھی عملی رہنمائی فراہم فرمائی۔ آپ ﷺ نے محض نظریاتی رہنمائی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مدینہ منورہ میں ایک ریاستی نظم قائم کرکے اس کے اداروں اور نظام کی عملی بنیاد بھی رکھی۔ بعدازاں خلفائے راشدینؓ کے دور میں ان اداروں اور نظامِ حکومت کو مزید منظم اور مستحکم کیا گیا۔ یوں اسلامی سیاسی و معاشی نظام نے ایک عملی صورت اختیار کی اور اسلام کے اجتماعی نظامِ حیات کے فروغ کی ایک مضبوط بنیاد قائم ہوئی۔ قرآنِ مجید نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ (سورۃ التوبہ: 33)۔ اسی قرآنی تصور کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ کی قائم کردہ ریاست اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں اس کے تسلسل کو اسلام کے اجتماعی، سیاسی اور معاشی نظام کے عملی نمونے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اہلِ علم کے ایک بڑے طبقے نے سیرتِ رسول ﷺ کے اس پہلو کو نظرانداز کر دیا ہے، جس کا تعلق دینِ اسلام کے سیاسی و معاشی نظام سے ہے۔ اس کے بجائے وہ یورپ کے سیاسی و معاشی نظاموں کی ظاہری جدت اور چکاچوند سے متاثر ہو کر اسی فکر و فلسفے کی بنیاد پر ریاستی اداروں کی تشکیل میں مصروف ہوگئے۔ حالاں کہ جدید یورپی ریاستی ڈھانچوں کے سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد بڑی حد تک سرمایہ دارانہ فکر و فلسفے پر قائم ہے، جس نے موجودہ دور میں انسانیت کی تقسیم، وسائل کے غیرمنصفانہ ارتکاز اور معاشی ناہمواری کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں غربت، بے شعوری اور استعماریت کو فروغ دیا ہے۔ اس کے برعکس دینِ اسلام نے سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں جو سیاسی و معاشی فکر و فلسفہ پیش کیا، اس کی بنیاد وحدتِ انسانیت، عدل و انصاف، مساوات اور رواداری پر قائم ہے۔
مثال کے طور پر اگر جدید معاشیات کے جزوی معاشی تصورات کا مطالعہ کیا جائے تو پیدائشِ دولت، تقسیمِ دولت، صرفِ دولت اور تبادلۂ دولت کے علاوہ صارف کے رویے، طلب و رسد، منڈی کی معیشت، عواملِ پیداوار، نظریۂ پیداوار، حکومتی مداخلت اور دیگر موضوعات شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام معاشی تصورات اور مسائل کے بارے میں سیرتِ نبوی ﷺ ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے؟ اسی طرح کلی معاشیات کے تحت قومی آمدنی، بے روزگاری، افراطِ زر، ریاست کی مالیاتی، زری اور تجارتی پالیسیاں، بین الاقوامی تجارت اور معاشی استحکام جیسے اہم موضوعات زیرِبحث آتے ہیں۔ ان تمام معاملات میں نبی مکرم، حضورِانور ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفائے راشدینؓ نے انسانیت کی کیا رہنمائی فرمائی، اس پر یا تو سرے سے گفتگو ہی نہیں کی جاتی یا اگر ایم اے اکنامکس کے اسلامیات کے نصاب میں کچھ موضوعات شامل بھی ہیں تو وہ نہایت سطحی انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ بالخصوص اس فکر و منہج کی روشنی میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ولی اللہی جماعت کے بزرگوں نے جو عظیم علمی و تاریخی کام انجام دیا، وہ ہماری نوجوان نسل کے دائرۂ علم سے تقریباً باہر ہے۔
ہمارے ملک کے رسمی اہلِ علم کی سوچ کی پرواز عموماً نبی اکرم ﷺ کی ان تعلیمات تک محدود ہے، جن کا تعلق اِنفرادی معاشیات کے دائرے سے ہے، جب کہ آپ ﷺ نے انسانیت کی رہنمائی کو اِنفرادی زندگی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اجتماعی اور ریاستی زندگی کے تمام دائروں تک وُسعت دی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ ﷺ کے معاشی افکار و نظریات کا عہدِجدید کے معاشی تصورات اور نظاموں کے ساتھ علمی و تقابلی مطالعہ کیا جائے۔ اگر جدید دور کے معاشی اداروں اور نظاموں کی بنیاد نبی اکرم ﷺ کے معاشی افکار، نظریات اور فلسفۂ معیشت پر استوار ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں انسانیت پر مسلط ہونے والی ناانصافیوں اور استحصال سے نہ صرف نجات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، بلکہ عدل و انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم، رواداری اور مساوات کی بنیاد پر ایسے معاشی ادارے تشکیل دیے جا سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآنِ حکیم ایک عظیم معجزہ یہ بیان کیا ہے کہ اس کی ہدایت کی بنیاد پر ہر دور کے تقاضوں کے مطابق عادلانہ نظامِ حیات قائم کیا جا سکتا ہے۔ چناں چہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے اور آپ ﷺ سے والہانہ عشق و محبت کا حقیقی تقاضا یہ بھی ہے کہ سیرتِ طیبہ کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے جو محض اِنفرادی عبادات و معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اجتماعی، سیاسی اور معاشی زندگی کے لیے بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آج جب کہ انسانیت سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ معاشی ناہمواری، غربت، استحصال، استعماریت اور عدمِ انصاف جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک ایسے عادلانہ سیاسی و معاشی نظام کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو عدل و انصاف، مساوات، رواداری، انسانی وقار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر قائم ہو۔ یہی وہ علمی و عملی جدوجہد ہے جو عشقِ رسول ﷺ کو محض جذباتی وابستگی سے آگے بڑھا کر انسانیت کی دنیاوی فلاح اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔









