سیرتِ نبوی ﷺ کے جامع تصور کی عصری ضرورت و اہمیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سیرتِ نبوی ﷺ کے جامع تصور کی عصری ضرورت و اہمیت

    بلاشبہ آج کے عالمی حالات نہایت سنگین ہیں۔ ظالم قوتوں نے ظلم و جبر کی انتہا کر رکھی ہے، جس کے باعث کوئی بھی انسان محفوظ نہیں اور ۔۔۔۔۔

    By طاہر طارق Published on Apr 20, 2026 Views 186

    سیرتِ نبوی ﷺ کے جامع تصور کی عصری ضرورت و اہمیت

    تحریر: طاہر طارق، راولپنڈی 

     

    جمعہ کےروز میں اپنے علاقے کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے گیا۔ خطبے سے قبل مولانا صاحب نے ایک درس دیا، جس کا موضوع تھا: ”نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا“۔

    بلاشبہ آج کے عالمی حالات نہایت سنگین ہیں۔ ظالم قوتوں نے ظلم و جبر کی انتہا کر رکھی ہے، جس کے باعث کوئی بھی انسان محفوظ نہیں اور بالخصوص مسلمان دنیا بھر میں ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں بھی اشرافیہ کے ظلم، مہنگائی کے طوفان اور ناانصافیوں نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات یقیناً ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے دور میں جہاں اس وقت کی ظالم قوت ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور ان جیسے مخالفین کے مقابلے میں نہ صرف استقامت دِکھائی، بلکہ آپ ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد میں قیصر و کسریٰ جیسی بڑی جابر طاقتوں کو بھی شکست دی۔ اگر ہم آج کے دور میں کامیابی کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف اور صرف آپ ﷺ کی سنت کو بطور نظام اپنانے میں ہی حاصل ہوسکتی ہے۔

    تاہم اس کے برعکس مولانا صاحب نے سنت کے حوالے سے سب سے پہلے کھانے کے آداب، جیسے دائیں ہاتھ سے کھانا اور منہ کے دائیں طرف سے لقمہ ڈالنا، پر گفتگو کی۔ اسی ضمن میں ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا جس میں ایک شخص نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے دائیں ہاتھ سے کھانے کا فرمایا، مگر اس نے تکبر سے انکار کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمھیں اس ہاتھ سے کھانے کی توفیق نہ دے اور اس کا دایاں ہاتھ مفلوج ہوگیا۔ یہ واقعہ سن کر میرا دل مطمئن نہ ہوسکا، کیوں کہ نبی کریم ﷺ تو رحمتٌ للعالمین ہیں اور آپؐ کی ذات سراپا رحمت ہے۔

    اسی طرح ایک اور واقعہ جس کی اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت ہے، حضرت عثمانؓ کے حوالے سے بیان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب وہ مکہ گئے تو انھوں نے شلوار کے پائنچے اونچے رکھے ہوئے تھے، جو وہاں کے ماحول کے خلاف تھا۔ جب لوگوں نے اعتراض کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ اَب اس واقعہ کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر کے (جس میں ہمیں جماعتی ڈسپلن، نبی کریم ﷺ کی درو اندیشی اور اسلام کے اگلے دور کی تیاری کا درس ملتا ہے) صرف پائنچوں تک محدود کردیا۔

    ایک اور واقعہ میں ایک صحابیؓ کا ذکر کیا گیا جو ایک غیرمسلم کے محل میں کھانا کھاتے ہوئے گرا ہوا لقمہ اُٹھا کر کھا رہے تھے، اور جب کسی نے اسے توہین قرار دیا تو انھوں نے بھی یہی فرمایا کہ یہ میرے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ 

    اس کے بعد مسجد میں قدم کیسے رکھنے ہیں، جوتے کیسے پہننے ہیں، اس پر رہنمائی فرمائی۔ 

    مولانا صاحب نے درس کا اختتام اس بات پر کیا کہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم چھوٹی سنتوں پر زور دیتے ہیں، حال آں کہ کوئی بھی سنت چھوٹی نہیں ہوتی۔

    یقیناً یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ہر سنت اہم ہے، اور آج سائنس بھی ان امور کی حکمت و افادیت کو تسلیم کرتی ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دین کا تعارف صرف انہی امور تک محدود کر دینا کافی ہے؟ کیا منبرِ مسجد پر بیٹھ کر ہزاروں افراد کو اسلام کا تعارف صرف کھانے پینے پہننے کے آداب تک محدود کر دینا درست طرزِ دعوت ہے؟

    حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت صرف اِنفرادی عبادات یا روزمرہ کے معمولات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایک مکمل نظامِ حیات شامل ہے، جس میں معاشرت، معیشت، عدل و انصاف، اور سیاست سب شامل ہیں۔ بدقسمتی سے عام طور پر ہمیں ہمارا مروجہ مذہبی طبقہ دین کا وہ پہلو کم سکھاتا ہے جو معاشروں کو بدلتا ہے، ظلم کے نظام کو چیلنج کرتا ہے، اور ایک عادلانہ نظام قائم کرتا ہے۔ نتیجتاً ہم ایسے مسلمان بن جاتے ہیں جو ظالم قوتوں کے مقابلے میں بے اَثر ہوجاتے ہیں۔

    آج اس بات کی اَشد ضرورت ہے کہ ہم دین کے اس جامع تصور کو سمجھیں، جو نہ صرف فرد کی اِصلاح کرتا ہے، بلکہ ایک عادلانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو ان کے مکمل تناظر میں سمجھیں اور ان پر عمل کریں، تو پاکستان نہ صرف خود ترقی کرسکتا ہے، بلکہ دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کی آواز بھی بن سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں، جو نوجوانوں میں شعور، فکری بےداری اور حریت کا جذبہ پیدا کر رہی ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو صحیح طور پر سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی اِنفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Share via Whatsapp