حضورِ انقلابﷺ کے آئینی اقدامات - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • حضورِ انقلابﷺ کے آئینی اقدامات

    حضور پاک ﷺ کی ذات مبارک اپنے آپ میں ایک مکمل آئین و دستورِ کامل ہے جو انفرادی و اجتماعی زندگی سے لیکر روحانی پہلو تک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔

    By Javed Hussain Published on Aug 28, 2026 Views 238
    حضور ﷺ کے آئینی اقدامات
    تحریر: جاوید حسین آفریدی(پشاور) 

    حضور ﷺ کی ذاتِ مبارک بے تحاشہ خوبیوں اور انسانیت دوستی کی منفرد اور عمدہ مثال تھی۔ مشہور برطانوی مستشرق جان ڈیون پورٹ اپنی استشراقی نظریات کے باجود اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ حضور ﷺ کی زندگی ایسی بے مثال ہےکہ رہتی دنیا تک کے مشہور اور کامل سے کامل لوگوں کی بھی پیش نہیں کی جا سکتی، مگر آپ ﷺ کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو ایک ایسے باشعور اور اہل جماعت کی تیاری بھی تھا، جس کی بدولت صدیوں تک دنیا میں دینِ اسلام کا ورلڈآرڈر قائم و دائم رہا۔ حضور ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی، جہاں ہر طرف جہالت اور افراتفری کا دور دورہ تھا، لوگوں میں قبیلوں، نسلی تفاخر اور اعلیٰ و ادنیٰ کا امتیاز گہرائی تک رَچ بس گیا تھا اور انسانیت مختلف طبقات میں بٹی ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں حضور ﷺ نے نہ صرف نبوت سے قبل، معاہدہ حلف الفضول کی شکل میں معاشرے کی بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ نبوت کے بعد دارالندوہ کے زیرتسلط ظالم سرداروں کے ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ کی جماعت آپؐ کی حکمت عملی سے ابوجہل، عتبہ و شیبہ کے ظالمانہ نظام کو بتدریج کمزور کرنے کا زریعہ بنی۔  ایک طرف قرآن کی انقلابی تعلیمات جماعت صحابہؓ کو دارارقم کے زیرسایہ تربیت کا زینہ چڑھاتی رہیں  تو دوسری طرف مخالف سرداروں کی قوتِ ارادی کمزور کرنے کےلیے حضورؐکی قیادت میں  مسلسل حکمت و تدبر سے کام لیتی رہی۔  یہی وہ حکمت و سیاست تھی، جس کے ذریعے نہ صرف کمزور مسلمانوں کو ہجرت حبشہ (اول و دوم) کے ذریعے قریش مکہ کے مظالم سے نجات دلانے کےلیے نجاشی کے دربار میں پناہ دلوائی تو دوسری جانب حضور ﷺ کی نظر ہر بدلتے حالات پر مرکوز تھی اور اس کےلیے جماعت صحابہ کو تیار کرنے کےلیے تربیت دیتے رہے۔ اس دوران "عقبہ اولیٰ و عقبہ ثانی" کے واقعات مدینہ کی طرف ہجرت کی بنیاد بنے اور خدا کے حکم سے نبوت کے تیرہویں سال ہجرت مدینہ کا فیصلہ صادر ہوا۔ مدینہ کی ہجرت کے ساتھ ہی حضور ﷺ نے نہ صرف ”میثاقِ مدینہ“ سے ریاستِ مدینہ کی بنیاد ڈالی جو دنیا کا پہلا عمرانی دستور بنا، بلکہ اس کی وُسعت اور ارتقائی مراحل کو جس حکمت سے پروان چڑھایا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، یہی وہ سنگ بنیاد تھا جو بعد کے پے درپے سیاسی و آئینی اقدامات کا ذریعہ بنا۔ غزوات سے لے کر صلحِ حدیبیہ تک اور جنگی قیدیوں سے لےکر  مدینہ منورہ میں بہترین انتظامات سے لے کر پرامن طور پر فتح مکہ کے تاریخی معرکے تک تمام حضور ﷺ کے آئینی اقدامات دنیا کی تاریخ میں بے نظیر مثال پیش کرتے ہیں۔
    حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں جتنے آئینی اقدامات یا سماجی معاہدے کیے اس میں ایک یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ معاہدے محض مسلمانوں کے مفادات کےلیے نہیں، بلکہ تمام انسانیت کے اجتماعی مفاد کے لیے ہوتے تھے،اسی لیےحضور ﷺ کو قرآن نے رحمت المسلمین نہیں، بلکہ رحمت اللعالمین قرار دیا ہے۔ آج کے دور میں ہم دیکھیں تو مسلمان خود کو دیگر انسانی معاشروں سے الگ تھلگ سمجھتے ہیں اور ایک قسم کے گروہی امتیاز کا شکار ہیں حال آں کہ حضور ﷺ کا پیغام تمام انسانی نسلوں اور قبیلوں کے لیے رہا ہے، اس لیے ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے دوران مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف یہودی قبائل شریک تھے، بلکہ وہ مشرکین جو میثاقِ مدینہ میں شریک ہوئے انھیں بھی پرامن طریقے سے ریاست میں رہنے کا موقع ملا ۔اسی طرح حضور ﷺ کے عدل و انصاف کے حوالے سے تاریخی واقعات آپ ﷺ کی سیرت میں ہمیں ملتے ہیں جو آپ ﷺ کے آئینی اقدامات میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ بخاری کی حدیث میں ذکر ہے کہ قریش قبیلے کی فاطمہ نامی ایک عورت کی چوری پر حسبِ قانون حد کا نفاذ ہوا تو حضرت اسامہؓ اس خاتون کی سفارش کے لیے حضورﷺ کے پاس آئے، جسے حضورؐ نے بڑی سختی سے رَد کیا اور فرمایا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی، تب بھی چوری کی یہی سزا ہوتی۔ اس سے معلوم پڑتا ہے کہ حضور ﷺ نے ایسے نظام کی داغ بیل ڈالی تھی، جس میں اقربا پروری، عدل کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی اور سیاسی و ریاستی معاملات میں بدعنوانی کو روکا جاتا تھا، گویا حضور ﷺ کی یہ حدیث اسلامی ریاست کے قانون کے لیے اصول بن گئی کہ مؤثر شخصیات قانون اور اصولِ انصاف سے بڑھ کر نہیں ہوسکتیں۔ پہلے خلیفۂ رسول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی مشہور تقریر بہت اہمیت کی حامل ہے، جب انھوں نے خلافت کی بھاری ذمہ داری اٹھائی تو فرمایا کہ اس نظام میں موجود طاقت ور لوگ ان کی نظر میں کمزور ہیں اور کمزور لوگ ان کی نظر میں طاقت ور ہیں، یہاں تک کہ وہ طاقت ورو ں سے ان کمزوروں کا حق نہ دلا دیں ۔
    اسی طرز پر نبی پاک ﷺ نے شوریٰ کا قیام عمل میں لا کر انسانی سوسائٹی کی تشکیل کا عملی پہلو واضح کیا، آپ ﷺ نے امور شوارئیت واضح فرمائے کہ وہ تمام منصوبہ بندیاں، تجاویز اور فیصلے جو انسانی معاشرے کی تشکیل سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں اہل الرائے سے رائے لی جائے گی اور باہم مشاورت کے ذریعے سے ہی آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ غزوہ احد میں ہمیں اس کی مثال ملتی ہے جب حضور اکرمﷺ کی رائے مدینہ شہر میں دفاعی جنگ کی تھی اور یہی رائے کچھ بزرگ و تجربہ کار صحابہؓ کی بھی تھی، مگر دیگر نوجوان صحابہؓ کی رائے پر شہر سے باہر جنگ کرنے کا فیصلہ ہوا، گوکہ بعد میں کچھ صحابہؓ کو حضور ﷺ کی حکمت کا اندازہ ہوا، مگر حضورؐ نے یہی فرمایا کہ جب مشورے سے ایک  فیصلہ ہوگیا ہے تو اب اسی عمل کیا جائے گا، اس واقعے سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایک تو مشترکہ امور کا فیصلہ شورائیت سے کرنا چاہیے اور جب فیصلہ باہم مشاورت سے ہوجائے، تب اس پر بغیر تغیر و تبدل کے عمل کرنا چاہیے۔ 
    حضورؐ قوانین کے نفاذ کے ساتھ معروضی حقائق کو بھی مدنظر رکھتے تھے اس لیے کبھی قیدیوں کو سزا دینا، کبھی ان کو معاوضہ لے کر چھوڑ دینا اور کبھی کچھ صحابہ کرامؓ کو دنیاوی علوم پڑھانے کے عوض چھوڑ دینا، جیسے آپ ص کے اقدامات نظر آتے ہیں۔ 
     صلح حدیبیہ کے موقع پر جب حضرت عثمان غنیؓ کو آپ ﷺ نے کفار سے مذاکرات کےلیے مکہ جانے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو یہ باور کرایا جائے کہ ہم صرف عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں اور پھر جب یہ خبر جماعت صحابہؓ کے کانوں تک پہنچی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے تو حضورؐ نے قصاص کا فیصلہ کیا، جسے بیعت رضوان سے جانا جاتا ہے، مگر جب یہ واضح ہوا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں تو آپ ﷺ نے جنگ کی بجائے صلح کا راستہ اپنایا۔  حضور ﷺ  کے پیش نظراس حکمت عملی کے دور رس نتائج نکلنے تھے، اسی لیے قرآن نے اس معاہدے کو ”فتح مبین“ قرار دیا۔ اس طرزِعمل کی بڑی وَجہ حضور ﷺ کا معاشرے میں انسانوں کے امن و سلامتی کے لیے فکرمند رہنا اور جماعت صحابؓہ کا زبردست ضبط اور ڈسپلن تھا۔
    نبی کریم ﷺ  کی اسی حکمت کی وَجہ سے بغیر کسی خون ریزی کے مکہ فتح ہوگیا، حضور ﷺ چاہتے تو سینکڑوں کفارِمکہ کو قتل کرسکتے تھے کیوں کہ پے درپے جنگوں کی وَجہ سے قریشِ مکہ کی سیاسی و سماجی طاقت انتہائی کمزور ہوچکی تھی، مگر حضور ﷺ کی صفت رحمت اللعالمین بدلے اور انتقام پر غالب آئی، نہ صرف یہ بلکہ حضورﷺ کی سیاسی حکمت و دوراندیشی کا واحد مقصد مکہ کے لوگوں کو اسلام کا نظام شعوری طور پر قبول کروانا تھا، نہ کہ جبری طور پر کہ اس سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہو جانی تھی۔ اس لیے تاریخ میں اس قدر بڑی فتح کی کوئی نظیر نہیں ملتی جو بغیر کسی جنگ کے مل جائے۔ آپ ﷺ اور ان کی تربیت یافتہ جماعت کے ایسے تمام اقدامات سے آج کے مسلمانوں کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
    اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے انسانیت کی خاطر تمام آئینی اقدامات کے ذریعے نہ صرف اپنی سوسائٹی کے سلگتے مسائل کو انسانی بنیادوں پر حل کیا، بلکہ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے ایک مستقل مثال پیش کردی۔ 
    فتح مکہ کی تاریخ ،صلح حدیبیہ کا واقعہ، میثاقِ مدینہ کی دستاویز  اورمعاہدہ حلف الفضول کے سماجی پس منظر سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے  کہ آج بھی اُمتِ مسلمہ انھی اصولوں پر کسی بھی سماج میں ایک مشترکہ (inclusive) نظام کو تشکیل دے سکتی  ہے، جیسے حضور ﷺ نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں مختلف آئینی اقدامات سے ثابت کر کے دکھایا۔
    Share via Whatsapp