بعثت نبوی کےمقصد سے منحرف افکار کا جائزہ
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ظلم، جبر، استحصال اور گروہیت کے مقابلے میں عدل، معاشی خوش حالی اور اجتماعیت کے۔۔۔۔

بعثت نبوی کےمقصد سے منحرف افکار کا جائزہ
تحریر: محمد علی ، ڈیرہ اسماعیل خان
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ظلم، جبر، استحصال اور گروہیت کے مقابلے میں عدل، معاشی خوش حالی اور اجتماعیت کے نظام کو غالب کرنا اور اس سے تمام انسانیت کو مستفید کرنا تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق (حق کا نظام) کے ساتھ بھیجا، تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو ناگوار ہو"۔ (سورۃ الصف: آیت 9)۔ اس آیت کریمہ میں آسان الفاظ میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بعثت کا مقصد دینِ حق کو تمام باطل نظاموں پر غالب کرنا ہے۔ اور یہی بات رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی جماعت کو سمجھائی تھی کہ ہمارا کام ظلم کے بین الاقوامی نظاموں کو ختم کرنا ہے اور اس کی جگہ عادلانہ نظام کو رائج کرنا ہے۔ یعنی حضور ﷺ کی دعوت شروع دن سے ہی انقلابی تھی، جس کا ثبوت وہ حدیث پاک ہے، جس میں اسلام کے ابتدائی ایام میں حضرت نبی اکرم ﷺ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک تاجر نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ یہ میرا بھتیجا محمد ﷺ، ان کی بیوی اور ان کے چچا زاد ہیں۔ ان کا یہ بھی گمان ہے کہ عنقریب قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے قبضے میں آجائیں گے، یعنی قیصر و کسریٰ کے نظامِ ظلم کا خاتمہ ہوجائے گا۔(مسنداحمد بن حنبل و ابن عبد البر فی الاستیعاب)
اوپر بیان کی گئی سورۃ الصف کی آیت اور حدیث مبارکہ کا مفہوم، حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت سےبھی ملتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا یہ طرزِعمل ہر دور میں نظامِ ظلم سے نکلنے کے لیے معیار بناتا ہے۔اس طرزِعمل میں وہ مکی دور بھی شامل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو (جنگ سے) باز رکھنے اور قرآن کے ذریعے علمی جہاد کا حکم دیا تھا۔ (سورۃ النساء، آیت 77؛ سورۃ الفرقان، آیت 52)۔ پھر ہجرت کے بعد وہ مدنی دور بھی آیا، جس میں غزوہ بدر واقع ہوا۔ اس جدوجہد میں پہلا دائرہ فتحِ مکہ تک قومی غلبے کا دور تھا۔ اس کے بعد، نبوی سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے خلفائے راشدینؓ کا بین الاقوامی انقلاب آیا، جس میں قیصر و کسریٰ کو فتح کیا گیا۔
درج بالا آیات کریمہ اور حدیث شریف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
1۔ حضرت نبی اکرم ﷺ کی کل قومی تبدیلی کی جدوجہد مکی دور میں عدمِ تشدد کی بنیاد پر مبنی تھی۔
2۔مدینہ میں ریاست کی تشکیل کے بعد، ریاستی حیثیت میں جہاد (جیسے غزوہ بدر) کا آغاز ہوا۔
3۔ میثاقِ مدینہ میں دیگر مذاہب کے ساتھ سیاسی اشتراکِ عمل کا پروگرام پیش کیا گیا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ان کے ساتھ مل کر رہنا اور امن قائم رکھنا ممکن ہے۔
4۔قومی نظام کی تکمیل (فتحِ مکہ) کے بعد، پوری دنیا میں تبدیلی کےعمل کو آگے بڑھایا گیا، جس کا نتیجہ خلفائے راشدینؓ کے دور میں قیصر و کسریٰ کی فتح تک پہنچا۔
ہندوستان میں مختلف ادوار میں اُبھرنے والی تحاریک و نئے رائج افکارکا جائزہ:
ہندوستان کی تاریخ میں مختلف ادوار میں متعدد تحاریک، فکری جماعتوں اور سماجی اصلاحات نے لوگوں کی ذہنیت اور معاشرے کی ساخت کو متاثر کیا۔ ان میں سے کچھ اہم تحاریک اور فکری رجحانات درج ذیل ہیں:
1۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے 1888ء میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کا مقصد برطانوی حکومت کا حامی بننا تھا، جسے وہ خود بیان کرتے ہیں، "بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ (برطانوی) کے سچے دل سے خیرخواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیار ہوں۔")روحانی خزائن، جلد 13، صفحہ 400(
مرزا قادیانی کا مقصد ہندوستانی عوام کو انقلابی راستے سے روکنا تھا۔ ان کا ظہور انگریزوں کی جانب سے نظامِ ظلم کو برقرار رکھنے کے لیے تھا۔ خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی دعوت انقلابی تھی اور ہندوستان میں امام شاہ ولی اللہؒ کی تحریک اسی اساس(نبوی سیاست)پہ چل رہی تھی،لہٰذا انگریز نے ہندوستانی عوام کو اس انقلابی راستے سے روکنے کے لیے مرزا قادیانی کو لانچ کیا، تاکہ ظالم(برطانوی سامراج)کا گریبان محفوظ رہے۔
2۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے 1942ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، جو اخوان المسلمین کا عجمی ورژن تھا۔ مودودی حسن البنا سے متاثر تھے، جو پین اسلامزم کے داعی تھے۔ پین اسلامزم کی سوچ کے تحت، وہ نیشنل اِزم کے خلاف تھے۔ پین اسلام اِزم کی یہ سوچ جماعت اسلامی میں آج بھی پائی جاتی ہے وہ قومی مسائل سے زیادہ بین الاقوامی مسائل پہ سیخ پا ہوتی ہے۔
نتیجتاً جماعت اسلامی کی سوچ نے مسلمانوں کو قومی انقلاب سے محروم رکھنے کی کوشش کی۔ یہ سوچ بین الاقوامی مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ آج تک ہم پر سامراج کے آلہ کارسرمایہ دار اور جاگیر دار مسلط ہیں اور ہم قومی عادلانہ نظام سے محروم ہیں ۔ حال آں کہ نبی اکرم ﷺکی جد و جہد اولاً قومی دائرے میں تھی،آپ ﷺنے قومی انقلاب کے بعد ہی بین الاقوامی انقلاب کی طرف قدم بڑھایا۔
3۔ غلام احمد پرویز (1903ء) برطانوی دور میں سول سروس میں خدمات انجام دیتے تھے۔ انھوں نے حدیث کا انکار کیا اور قرآن کی تفسیر کو حدیث سے الگ کرکے اپنی مرضی کے مطابق معانی پہنانے کی کوشش کی۔ نقصان یہ ہوا کہ اب انکارِ حدیث کے بعد کسی بھی شخص کو قرآنی احکامات کی اپنے انداز میں شرح کرنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔ انھوں نے عملی طور پر سنت کے خلاف تشریح کی۔ نبی اکرم ﷺکی نظامِ ظلم کے خلاف جد و جہد کو فراموش کرنے کی کوشش کی،حال آں کہ حضوراکرم ﷺکا عمل ہمارے لیے ہر دور میں بہ طور مثال ہے۔
4۔ جاوید احمد غامدی نے 19 اپریل 1998ء کو "دانش سرا" کے اجتماع میں کہا:"یہ کام جو آپ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، یہ دین کی دعوت کا کام ہے، یعنی ہم کو خدا کے دین کو سمجھنا ہے، اس پر عمل کرنا ہے اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ یہ نہ کسی انقلاب کا پروگرام ہے نہ کسی سیاسی عزائم کا۔"
غامدی صاحب کی تشریح ذاتی اِصلاح پر مرکوز ہے، جو ہمہ گیر سماجی تبدیلی کے پہلو کو الگ کرتی ہے۔ ان کا مؤقف اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ نبوی سیاست جامع اور ہمہ گیر تبدیلی پر مبنی تھی۔
غامدی صاحب نے اسلام کی تعبیر کے لیے سر نامہ میں جو آیت پیش کی وہ انبیاعلیہم السلام کی آمد کا مقصد بیان کرتی ہے، جب کہ غامدی صاحب کی تشریح تو صرف اِصلاحی قسم کی ہے وہ اس سے انبیاء کرام کی زندگی کاجامع پہلو الگ کر رہے ہیں۔ حال آں کہ اشاعتِ دین ، غلبۂ دین کے بعد کا عمل ہے،اگر آپ دیکھیں کہ مکی دور میں کتنے لوگ ایمان لائے اور فتح مکہ کے بعد کتنے لوگ ایمان لائے تو آپ کو اس پہلو کی سمجھ آ جائے گی۔
5۔ انجنیئر محمد علی مرزا کا بنیادی میدان فقہ، مشاجراتِ صحابہ اور مختلف مکاتبِ فکر پر تحقیق ہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر ایک دوسرے کی قائم خلافت کو قبول نہیں کریں گے۔انھوں نے نوجوانوں کی توانائیاں فقہی و فروعی مسائل میں ضائع کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کو عدل، امن، خوش حالی اور تحفظِ جان و مال کے لیے کام کرنا چاہیے۔
انجنئیر صاحب فرقہ وارانہ تفریق کو نیچے سے پیدا شدہ سمجھتے ہیں۔ حال آں کہ یہ تفریق اوپر یعنی نظام پہ قابض افراد کا ہتھکنڈا ہے کہ"تقسیم کرو اور حکومت کرو"۔ اگر ایک لمحے کو یہ مان لیں کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے تمام فقہی و مسلکی اختلاف ختم ہوجائیں گے تو کیا سیاسی مسائل، غربت،مہنگائی،بے روزگار،بد امنی اور لا قانونیت ختم ہوجائیں گی؟
6۔ اصلاحی طرزعمل کی تحاریک:اس میں مختلف تحاریک ہیں،جو محض شخصی اِصلاح سے تبدیلی چاہتی ہیں۔ذاتی اِصلاح بہت عمدہ طرزِعمل ہے، لیکن "ہمہ گیر تبدیلی بذریعہ شخصی اِصلاح" سیاست نبوی سے ثابت نہیں، حالانکہ نبی اکرم ﷺکی دعوت کا انداز جامع تھا۔آپ نے جماعت صحابہؓ پہ کام کیا اور پھر اس نہج پر فتح مکہ تک قومی تبدیلی کی تکمیل فرمائی۔جس کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے۔ لیکن یہاں اصلاحی جماعتیں"تبدیلی نظام" کے بجائے شخصی اِصلاح سے تبدیلی چاہتی ہیں،حال آں کہ نبوی سیاست سے یہ راہ نمائی ملتی ہے کہ نظامِ ظلم کو ہٹا کر نظامِ عدل قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کے لیے دین کے تینوں شعبوں(سیاست،شریعت اور طریقت)پر کام کرنا لازمی ہے،نہ کہ کسی ایک کو پکڑ لینا۔
ضرب المثل ہے کہ"آگ لگے پر کنواں کھودنا"جس کا آسان مطلب یہی ہوگا کہ توانائیوں کو غلط جگہ استعمال کرنا۔آج ان مختلف افکار و نظریات کے حاملین شعوری یا لاشعوری طور پہ یہی کام سرانجام دے رہے ہیں اور نظام کے لیے استعمال ہورہے ہیں،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے قرآن و سنّت کےجامع تصور کا مطالعہ کیا جائے اور نظام کی چالوں کو سمجھا جائے،تاکہ انسانوں کی توانائیاں صحیح جگہ استعمال ہوں۔