احادیث مبارکہ کی ضرورت و اہمیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • احادیث مبارکہ کی ضرورت و اہمیت

    عمومًا جس قوم میں کوئی بڑی شخصیت پیدا ہوتی ہے،تو اُس قوم کے لوگ اُس شخصیت سے محض عقیدت و محبت کے حد تک تعلق نہیں رکھتے، بلکہ اُس کی تعلیمات پر بھی عمل

    By Muhammad Ishaq Published on Jul 31, 2026 Views 157
    احادیث مبارکہ کی ضرورت و اہمیت
    تحریر؛ انجینئر محمد اسحاق ۔ پشاور

    عمومًا جس قوم میں کوئی بڑی شخصیت پیدا ہوتی ہے،تو اُس قوم کے لوگ اُس شخصیت سے محض عقیدت و محبت کے حد تک تعلق نہیں رکھتے، بلکہ اُس کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہوتے ہیں ۔چھٹی صدی عیسوی میں دنیا میں ایک ایسی ہستی کا ظہور ہوتا ہے جو کہ ساری اِنسانیت کے لیے اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے سب سے اعلیٰ ترین شخصیت مانی جاتی ہے ۔ اور یہ شخصیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔
    آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور رسول ہیں۔ آپؐ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی وحی آتی تھی، جس کو آپ قرآنِ مجیدکی صورت میں محفوظ اورقلمبند کراتے تھے ۔قرآنِ حکیم چوں کہ ایک آفاقی کتاب ہے ۔ یہ قیامت تک ہر دور اور ہر علاقے کے لیے رہنما کتاب ہے ۔ اس لیے اس میں بنیادی طور پر صرف اصول بیان ہوئے ہیں ۔ قرآنِ حکیم کے ان اصولوں پرغور و تدبر کے ذریعے سے ہر دور کے فقہا اور علماءِ وقت نے تقاضے کو مدنظر رکھ کر قوانین اخذ کرتے رہے ۔ ان قوانین کو غلبہ دین کے لیےسوسائٹی میں لاگو کیاجاتا تھا ۔    
    قرآنِ مجید کے نزول کے بعد سب سے پہلے یہ کام آں حضرت ﷺ نےخود کیا ۔ آپؐ نے قرآن مجید کی عملی تعبیر پیش کی یوں قرآنِ حکیم کے بعض احکامات جو صرف اجمالاً بیان ہوئے تھے۔ آپؐ نے اپنے قول و فعل کے ذریعے سے عملاً اُن کی تشریح کر دی ۔ مثال کے طور پر قرآنِ مجید نے نماز کو فرض قرار دیتے ہوئے کہا؛ 
    واقیمو الصلٰوۃ  (اور نماز قائم کرو )۔ لیکن نماز کی تفصیلات قرآنِ حکیم نے نہیں بتائیں، کیسے پڑھنی ہیں؟ ہر نماز میں کتنی رکعتیں ہوتی ہیں؟ان نمازوں کے اوقات کیا ہوں گے ؟ وغیرہ ۔ 
    نماز کی یہ تفصیلات ہمیں آپﷺکی سیرتِ مبارکہ سے واضح ہوتی ہیں ۔
    اسی طرح قرآنِ حکیم  نے کئی مقامات پر دین کو غالب کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے " لیظھرہ علی الدین کلہ "(یہ کہ اس دین کو باقی ادیان پر غالب کریں ) ، لیکن غلبے کا مکمل روڈ میپ ہمیں آپؐ نے بتلایا ۔ عملی طور پر دین اسلام کا پہلا غلبہ آپ ﷺ اور آپؐ کی جماعت صحابہؓ کے ذریعے سے ممکن ہوا جو کہ رہتی دنیا تک ایک بہترین نمونہ اور مثال رہے گی ۔
    اسی لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے منکرینِ حدیث کی جانب سے حضورﷺ کے لیے بیان کیے گئے ڈاکیے کی مثال کی تردید کی ہے کہ ڈاکیے کا کام تو محض ایک خط کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہوتا ہے، اس کے پاس تو اتنا اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس خط اور پیغام کو کھول سکے ۔ پیغمبر اکرمﷺ پیغام رساں ضرور تھے، لیکن آپﷺ نے اسی پیغام (قرآنِ حکیم) کو کھول کر اپنی اُمت کے سامنے آسان اور وقتی تقاضے کے مطابق علمی اور عملی طور پر بیان بھی کر دیا ۔
    گویا دین کو مکمل طور پر سمجھنے اور غالب کرنے کے لیے قرآن و حدیث دونوں کا سمجھنا انتہائی ضروری ہے ۔
    اس موقع پر حدیث اور سنت کا اجمالاً تعارف سمجھنا ضروری ہے ۔ 
    حدیث : رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب آپ ﷺ کے اقوال، افعال، تقریرات (کسی کام کو دیکھ کر خاموشی سے اجازت دینا) اور اوصاف کو حدیث کہتے ہیں۔
    سنت :رسول اللہ ﷺ کا وہ طریقہ اور معمول جسے آپ ﷺ نے اختیار فرمایا، یا جس کی تعلیم دی اور اُمت کے لیے نمونہ بنایا، سنت کہلاتا ہے۔
    حدیث و سنت میں فرق : حدیث ایک جامع اصطلاح ہے، جس میں ساری سنتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں،لیکن سنت میں ساری احادیث نہیں آتیں ۔
    اسلامی فقہ چار بڑے مصادر سے بنی ہے۔
    1۔ قرآن 2۔ حدیث و سنت 3۔ اجماع 4۔  قیاس
    قرآنِ شریف شریعت کا بنیادی منبع اور ماخذ ہے ۔ شرعی قوانین بنانے کے لیے سب سے پہلی ترجیح اور فوقیت قرآنِ حکیم  کو دی جاتی ہے ۔
    قرآنِ مجید  میں چوں کہ احکامات اجمالاً ذکر ہوئے ہیں، اس لیے اگر اُن کی تفصیل مطلوب ہو تو سنت و احادیث کی طرف رجوع کیا جاتا ہیں ۔اسی طرح وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مسائل کے حل کے لیے اجماع اور قیاس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔
    پچھلے کچھ عرصے سے مغربی استعمار کے زیراَثر کئی سرگرم گروہ حدیثِ مبارکہ کے بارے میں ایک مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ احادیث شریعت کا باقاعدہ حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان سے شرعی قوانین بنائے جا سکتے ہیں ۔حال آں کہ سنت اور احادیث الگ کوئی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی ہی تفصیل اور تشریح ہے ۔
     قرآن میں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :
     وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل، 44)
    ترجمہ: (اے نبی) ہم نے تمھاری طرف اس ذکر(قرآن) کو اس لیے نازل کیا ہے، تاکہ تم بیان کر دو لوگوں کو، جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے ۔
    اس آیت کریمہ میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سپرد کی ہے کہ ہم جو آپ پر (قرآن) نازل کر رہے ہیں، آپ اس کی تبین فرمائیں ۔ تبین کا معنیٰ ہے کسی چیز کو کھول کر بیان کرنا ، یعنی اُس کی تشریح کرنا ۔
    مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے شارح اور مُبَیِّن ہیں ۔
    اَب لازمی بات ہے کہ ہم شارح کی شرح کے بغیر اصل متن کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکتے ۔ تو جس ہستی نے قرآنِ کریم کی عملاً شرع بیان کی ہے، اُس شرح کو پڑھے اور سمجھے بغیر قرآن کی جامعیت کو کیسے جان سکتے ہیں  اور صرف قرآنِ کریم سے ہی شرعی قوانین کیسے اخذ کر سکتے ہیں ۔
    ایک اَور چیز بھی سمجھنے کی ہے یہ تصور کر لیں کہ اگر دنیا کے ذہین ترین انسان کو انجینئرنگ کے شعبے کی ساری کتابیں دے دی جائیں اور اس سے کہا جائے کہ محض کتابیں پڑھنے سے آپ نے ایک کامل انجینئر بننا ہے تو ایسا ممکن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ انجینئر بننے کے لیے کتاب کے ساتھ ساتھ سمجھانے والا استاد اور عملی تربیت کے لیے یونیورسٹی کا ماحول بھی ضروری ہوتا ہے ۔
    بعینہٖ قرآنِ مجید زندگی گزارنے کے لیے ایک جامع کتاب ہے، لیکن اس کتاب کے پہلے معلم حضرت محمد مصطفیﷺہیں ۔ جنھوں نے علم سکھانے کے ساتھ ساتھ حکمت اور تزکیے کا کام بھی بہ خوبی سرانجام دیا ۔ 
    چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
    ”یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان فرمایا جو اُن میں سے ایک رسول معبوث کیا ، وہ اللہ کی آیات اُن کو پڑھ کر سناتا ہے اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے  اور اس سے قبل وہ صریح گمراہی میں تھے “۔ ( آل عمران ،164)
    گویا پیغمبر علیہ السلام کا کام محض قرآن پڑھ کر سنانا نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآنی تعلیمات پر حکمت اور تزکیہ و تربیت اور تصوف کا ایک جامع نظام بھی متعارف کرانا تھا۔ 
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر آج ہم نے مکمل دین کو سمجھنا ہے تو قرآن کی جامعیت کے ساتھ ساتھ حضوراکرمﷺ کی سیرتِ مبارک کا بھی دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کرنا ہوگا اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا تبھی ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔
    Share via Whatsapp