وی ایف ایکس (VFX) کے مصنوعی ہیرو یا تاریخ کے سچے شہ سوار - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • وی ایف ایکس (VFX) کے مصنوعی ہیرو یا تاریخ کے سچے شہ سوار

    ہر بچہ اس دنیا میں ایک کورے کاغذ کی طرح آتا ہے۔ اس کاغذ پر پہلا نقش والدین کا ہوتا ہے، پھر استاد کا اور پھر معاشرے کا۔معاشرہ اس کی ساخت و پرداخت میں..

    By Muhammad Usman Published on May 06, 2026 Views 213

    وی ایف ایکس (VFX) کے مصنوعی ہیرو یا تاریخ کے سچے شہسوار

    تحریر: محمد عثمان۔ میر پور، آزادکشمیر 

     

    ہر بچہ اس دنیا میں ایک کورے کاغذ کی طرح آتا ہے۔ اس کاغذ پر پہلا نقش والدین کا ہوتا ہے، پھر استاد کا اور پھر معاشرے کا۔معاشرہ اس کی ساخت و پرداخت میں کردار ادا کرتا ہے ۔ٹی وی سے اَب تک تریسٹھ سال کا یہ سفر اپنے گہرے اَثرات ہر نسل پر مرتب کرتا رہا ہے ۔چوپال یا میدانوں اور باغوں سے گھر اور پھر اپنی ذات تک محدود ہونے کو ترقی کا عنوان دے کر دل کو طفل تسلی دینے کے باوجود پوری دنیا ایک نئی الجھن میں گرفتار ہوگئی ہے ۔آج کی ڈجیٹل دنیا میں کارٹون سے آگے بڑھ کر فلم اینی میشن یا وی ایف ایکس (VFX) کردار بڑوں اور بچوں کو حقیقی دنیا سے کاٹ کر جو اَثرات مرتب کررہے ہیں، اس پر پوری دنیا میں سنجیدہ مباحث جاری ہیں ۔ہر خطے کے لوگ اپنے اپنے نکتہ نظر سے اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں ۔ آج ڈیجیٹل طوفان میں یہ کورا کاغذ ایسے لگ رہا ہے، جیسے کوئی بے لگام موجد اپنی مرضی کے رنگ بکھیر رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کے ذہنوں کی تعمیر میں کوئی فعال کردار ادا کر رہے ہیں، یا پھر ہم نے یہ عظیم ذمہ داری اسکرینوں اور بے حس الگورتھمز کے سپرد کر دی ہے؟

    آج کا بچہ جب کارٹون نیٹ ورک، یوٹیوب اور ویڈیو گیمز کی دلدل میں پھنستا ہے، تو اسے سپرمین، بیٹ مین اور آئرن مین جیسے کردار نظر آتے ہیں۔ یہ کردار نہ صرف اس کے خوابوں پر چھا جاتے ہیں، بلکہ اس کی اقدار کی بنیاد بھی بنتے ہیں۔ بچہ سوچنے لگتا ہے کہ طاقت کا مطلب صرف جسمانی برتری اور دشمن کو پیٹ دینا ہے، اور کامیابی کا راز جدید ٹیکنالوجی یا چمک دار سوٹ میں چھپا ہے،لیکن ہم نے کبھی اسے بتایا کہ یہ مصنوعی ہے۔ وہ بڑا ہوکر ایسی گیمز بناسکتا ہے ۔ہم اسے موبائل دے کر غوروفکر سے محروم کررہے ہیں ۔یہ بات ہمیں سمجھنی ہوگی۔

    اس کی اپنی تاریخ میں ایسے ہیرو گزرے ہیں جن کے معجزات کسی VFX (وی ایف ایکس) کے محتاج نہیں اور جن کی اخلاقی بلندی کسی افسانے سے بڑھ کر ہے؟

    لیکن افسوس! ہم نے اپنے گھروں اور اسکولوں میں ان قصوں کو کتابوں کی گرد آلود قید میں ڈال دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بچے مغربی سپر ہیروز کو زیبِ تن کرتے ہیں، ان کے پوسٹرز اپنے کمروں میں لگاتے ہیں اور انہی کی طرح بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔

    تھوڑی دور چین کی طرف دیکھیے۔ چین اپنے بچوں کو ”خام مال“ نہیں بلکہ ”قومی سرمایہ“ سمجھتا ہے۔ وہاں کا تعلیمی نظام بچوں کو کنفیوشس، سن زو اور چینی انقلابی ہیروز کی داستانوں سے روشناس کرواتا ہے۔ ڈیجیٹل مواد کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور مقامی ہیروز کو کارٹونز، گیمز اور فلموں میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ چینی بچہ یہ سوچ کر بڑا ہوتا ہے کہ اس کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے اور اس کے ہیرو لازوال ہیں۔ چین جانتا ہے کہ جو قوم اپنے بچوں کے ذہنوں کی تعمیر میں غفلت برتتی ہے، وہ اپنا مستقبل کھو دیتی ہے۔

    یہی وہ مقام ہے۔ جہاں ہمارا فرسودہ نظامِ تعلیم اور سماجی رویے مات کھا جاتے ہیں۔ آج ہمارا نظامِ تعلیم 25 سال کے نوجوان کو بھی ”بچہ“ سمجھ کر ذمہ داریوں سے دور رکھتا ہے، اسے صرف نوکری کا طالب اور جب کہ ہماری تاریخ تو وہ ہے جس نے محض 17 سال کے نوجوان اسامہ بن زید  [ایک غلام کے بیٹے ] کو وقت کی سپر پاور ”رومی سلطنت“ کے خلاف اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا کر کھڑا کر دیا تھا۔ اس لشکر میں جلیل القدر صحابہؓ ان کی قیادت میں شامل تھے۔ یہ وہ خوداعتمادی تھی جو ایک بچے کو غلامی کی پستی سے نکال کر ”قائد“ (Leader)کے منصب پر فائز کرتی تھی۔

    والدین! یاد رکھیے کہ آپ کے بچے کا کورا کاغذ کسی بھی وقت کسی بھی قلم سے لکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ نے اس پر حضرت علیؓ کی شجاعت کا نقش ثبت نہ کیا، تو کوئی اور اس پر سپرمین کی چادر تان دے گا۔ اگر آپ نے حضرت عائشہؓ کی علمی بصیرت کا سبق نہ دیا، تو کوئی اور اسے ”ونڈر ویمن“ کا بھرم دکھا دے گا۔

    ریاست بھی اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہو۔ چین کی طرح ہمیں بھی اپنے بچوں کو قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔ نصاب میں اسلامی ہیروز کی سیرت کو دلچسپ اور جدید انداز میں شامل کیا جائے۔ اینیمیشن، ڈرامے، کہانیاں، موبائل ایپس — ہر ذریعے سے بچوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ تمھارے ہیرو دنیا کے بہترین انسان ہیں۔

    بچوں کے ذہن خالی برتن نہیں ہیں۔ وہ پیاسے ہیں — کہانیوں کی پیاس، کرداروں کی پیاس اور آئیڈیلز کی پیاس۔ اگر ہم نے یہ پیاس اپنے چشموں سے نہ بجھائی، تو وہ دوسروں کے کنوؤں کی طرف بھاگیں گے اور اس دوڑ میں ہمیں وہ بچہ کھونا پڑ سکتا ہے جو کل ہمارے معاشرے کا معمار تھا۔

    Share via Whatsapp