نوجوان کا خواب، نظام کی دیوار: برین ڈرین یا ہوپ ڈرین؟
کسی بھی قوم کا نوجوان، محض ایک عمرانی طبقہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس قوم کے خواب، توانائی، تخلیقی قوت اور ممکنہ مستقبل کا امین ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔
نوجوان کا خواب، نظام کی دیوار: برین ڈرین یا ہوپ ڈرین؟
تحریر؛ سلیمان علی ، پشاور
کسی بھی قوم کا نوجوان، محض ایک عمرانی طبقہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس قوم کے خواب، توانائی، تخلیقی قوت اور ممکنہ مستقبل کا امین ہوتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ حقیقت اور زیادہ اہم ہوجاتی ہے، کیوں کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ (تقریباً 60فی صد سے زیادہ 30 سال سے کم عمر)۔ اگر اس انسانی سرمائے کو تعلیم، ہنر، صحت اور باوقار مواقع سے نہ جوڑا جائے تو یہی قوت قومی ترقی کا وسیلہ بننے کے بجائے معاشی اور سماجی دَباؤ میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔
ہمارا نوجوان مستقبل کے بارے بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے، بہتر تعلیم، عزت دار روزگار، معاشی خودمختاری، سماجی وقار اور ایک ایسے مستقبل کا خواب جس میں محنت اور کامیابی کے درمیان کوئی معقول ربط موجود ہو۔ مگر یہی خواب اس وقت بوجھ بننے لگتا ہے، جب اس کے سامنے ایک ایسا نظام کھڑا ہوجائے جو راستہ دینے کے بجائے رکاوٹ بن جائے۔ یہ رکاوٹ صرف بے روزگاری کی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی کمزوری، میرٹ پر کمزور اعتماد، تعلیم اور روزگار کے درمیان عدمِ مطابقت، مواقع کی غیرمساوی تقسیم اور ریاستی و سماجی ڈھانچوں کی بے حسی سے مل کر بنتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان کی ذاتی مایوسی ایک قومی سوال میں بدل جاتی ہے۔ کیا پاکستان صرف اپنے قابل دماغ کھو رہا ہے، یا اپنی اجتماعی امید بھی؟
پاکستان کی معاشی صورتِ حال اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ قومی غربت کی شرح 2023-24ء میں 25.3 فی صد تک پہنچ گئی، جو 2018-19 میں 21.9فی صد تھی ۔یہ اضافہ COVID-19، 2022 ءکے سیلاب، مہنگائی اور مسلسل معاشی دَباؤ کا نتیجہ ہے۔ روزگار سے وابستہ آبادی کا تناسب پندرہ سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں تقریباً 49.5فی صد ہے، جب کہ 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں سے تقریباً 28.4فی صد تعلیم، روزگار اور تربیت — تینوں سے یکساں طور پر محروم ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض معیشت کی کمزوری کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس نوجوان نسل کی صلاحیت، محنت اور مستقبل کے حوالے سے پھیلی ہوئی شدید غیر یقینی کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جو بتدریج امید اور اعتماد کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
جب ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی شفاف، منصفانہ اور قابلِ رسائی مواقع تک نہ پہنچ سکے، جب امتحانات، بھرتیوں، ادارہ جاتی فیصلوں اور ترقی کے راستوں پر غیرشفافیت، تاخیر، سفارش اور تعلقات کا غلبہ محسوس ہو، تو وہ صرف نوکری سے محروم نہیں ہوتا، بلکہ اپنے ہی معاشرے میں اپنی جگہ کے بارے میں متزلزل ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مسئلہ صرف نوجوان کی بے صبری یا کمزور برداشت نہیں رہتا۔اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ نظام نے محنت اور نتیجے کے درمیان موجود پل کو کمزور کر دیا ہے۔ اگر نظام زیادہ منصفانہ، شفاف اور جوابدہ ہوتا تو بہت سے مسائل اس شدت سے پیدا نہ ہوتے۔ چناں چہ نظام ہی ایک دیوار، ایک روکاوٹ بن جاتا ہے۔ اسی لیے نوجوان کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ نظام کی تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔
جب نوجوانون کو روزگار کے مواقع نہ ملیں تو یہ نفسیاتی اُلجھن کی طرف لے جاتا ہے ۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض مجموعی بیماریوں کے بوجھ کا چار فی صد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، اور اندازہ ہے کہ تقریباً 24 ملین افراد کسی نہ کسی درجے میں نفسیاتی معاونت کے محتاج ہیں ۔ مزید یہ کہ حالیہ علمی مطالعات بھی اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی عوامل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی دَباؤ، سماجی بے یقینی اور ادارہ جاتی ناامیدی صرف بیرونی حالات نہیں رہتے، بلکہ انسان کے باطن میں اضطراب، بے بسی، بے معنویت اور فکری تھکن کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ نوجوان جب مسلسل مقابلے، موازنے، تاخیر اور غیریقینی کا سامنا کرتا ہے تو اس کا مسئلہ صرف پیشہ وارانہ بحران نہیں رہتا، بلکہ مقصدِحیات کے بحران میں بدلنے لگتا ہے۔
پھر یا تو لوگ سسٹم سے مایوس ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر ان کی امیدوں پر یوں ہی پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ تو با الفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملکی سسٹم کی وَجہ سے برین ڈرین یا ہوپ ڈرین جیسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے رجحان پر مبنی رپورٹ کے مطابق 2022ء میں تقریباً 0.83 ملین اور 2023ء میں تقریباً 0.86 ملین پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ یہ اعداد و شمار صرف افرادی نقل و حرکت نہیں دِکھاتے، بلکہ ایک ایسے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں ملک کے اندر مواقع کی محدودیت نوجوان کو باہر کے اِمکانات کی طرف دھکیلتی ہے، لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ ”ہوپ ڈرین“ ہے۔ برین ڈرین وہاں دکھائی دیتا ہے، جہاں نوجوان جسمانی طور پر ملک چھوڑ دیتا ہے۔ ہوپ ڈرین وہاں بھی موجود ہوتا ہے، جہاں نوجوان ملک کے اندر رہ کر بھی اپنے مستقبل سے دستبردار ہونے لگتا ہے۔ وہ شاید جغرافیائی طور پر یہیں ہو، مگر ذہنی اور جذباتی طور پر اپنے معاشرے سے کٹ چکا ہوتا ہے۔ وہ قومی مسائل سے لاتعلق ہوجاتا ہے، اپنے خواب محدود کر لیتا ہے اور اپنی توانائی کو صرف ذاتی بقا تک محدود کردیتا ہے۔ اسی لیے ہوپ ڈرین، برین ڈرین سے زیادہ خاموش، زیادہ گہرا، اور زیادہ تباہ کن بحران ہے۔ کیوں کہ ایک قوم صرف ان افراد سے نہیں بنتی جو اس کی سرزمین پر رہتے ہیں، وہ ان امیدوں سے بھی بنتی ہے جو ان کے دِلوں میں زندہ رہتی ہیں۔
یہ قومی خسارہ محض اقتصادی نہیں، تہذیبی اور اخلاقی بھی ہے۔ جب باصلاحیت اور پُرامید نوجوان یا تو ملک چھوڑ دیں، یا ملک میں رہتے ہوئے بھی اپنی وابستگی، اعتماد اور اَمید کھو دیں، تو اس کا اَثر صرف روزگار کے میدان تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے اختراع کمزور ہوتی ہے، قیادت کے اِمکانات سکڑتے ہیں، اداروں پر اعتماد گھٹتا ہے اور معاشرے میں یہ احساس پھیلنے لگتا ہے کہ تبدیلی ممکن نہیں۔
اسی لیے اس مسئلے کا حل صرف نوجوان کو نصیحت کرنے میں نہیں، بلکہ نظام کی ہمہ گیر اِصلاح میں ہے۔
سب سے پہلے میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی انصاف کی بحالی ناگزیر ہے۔ نوجوان کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ محنت کرو، اسے یہ دِکھانا بھی ضروری ہے کہ محنت کا ایک قابلِ اعتماد راستہ موجود ہے۔
دوسرا؛ تعلیم، ہنر اور روزگار کے درمیان حقیقی ربط پیدا کرنا ہوگا، تاکہ ڈگری محض کاغذی سرمایہ نہ رہے، بلکہ عملی معاشی وقار میں تبدیل ہوسکے ۔
تیسرا، نوجوان کو پالیسی سازی، معاشی منصوبہ بندی، اور قومی ترجیحات میں ایک فعال فریق کے طور پر شامل کرنا ہوگا ۔
چوتھا؛ اِصلاح کو جزوی یا ادارہ جاتی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انصاف، احتساب، شفافیت، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور روزگار دوست معاشی ڈھانچے کو ایک مربوط اصلاحی فریم میں دیکھنا ہوگا۔ صرف ایک ادارہ، ایک منصوبہ، یا ایک وقتی سہولت اس بحران کا حل نہیں بن سکتی۔ اس کے لیے پورے نظام کے اس ڈھانچے کو درست کرنا ہوگا جو نوجوان کے خواب کو پس دیوار نہ ڈالیں بلکہ ان کو شرمندہ تعبیر کرنے کا سنہری مواقع موجود ہو۔
مگر اس سارے منظرنامے میں ایک اَور بنیادی ذمہ داری بھی ہے، نظام کو درست کرنے کی اجتماعی جدوجہد۔ اگر نظام ہی ناانصافی، بدانتظامی اور غیرشفافیت کو پیدا کر رہا ہو تو صرف فرد کی استقامت کافی نہیں رہتی۔ اس کے لیے علمی مکالمہ، سماجی دَباؤ، ادارہ جاتی احتساب، پالیسی تسلسل اور عوامی شعور کی منظم کاوش ضروری ہے۔ نوجوان کو صرف بقا کی نفسیات نہیں سکھانی چاہیے، بلکہ ایسے نظام کی تعمیر میں شریک کرنا چاہیے، جہاں میرٹ، وقار، انصاف اور مواقع واقعی زندہ اقدار ہوں۔ یہی وہ جدوجہد ہے جو ہوپ ڈرین کو اُلٹا سکتی ہے اور نوجوان کے خواب کو قومی طاقت میں بدل سکتی ہے۔









