ترقی کا تضاد (Growth Paradox) - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • ترقی کا تضاد (Growth Paradox)

    فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.

    By Husnain khan Published on Feb 06, 2026 Views 131

    ترقی کا تضاد (Growth Paradox)

    تحریر؛ حسنین خان ۔ راولپنڈی 

     

    حال ہی میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کو 2035ء تک  قومی طور پر اپنےطے شدہ موسمیاتی عزائم (NDC 3.0) پورے کرنے کے لیے تقریباً 565.7 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ یہ رقم بلاشبہ حیران کن ہے۔ ایک طرف ہم انسانیت کو بچانے کے لیے موسمیاتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں، جب کہ دوسری جانب مسلسل معاشی ترقی پر اصرار بھی کرتے ہیں۔

    سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر سمجھی جاتی ہے، جس کا مطلب ہے مزید کارخانے، مزید وسائل کی نکاسی اور زیادہ استعمال اور نتیجتاً اخراج میں اضافہ۔ حتیٰ کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ پاکستان آنے والے دنوں میں سو فی صد قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہوجائے، تب بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا، کیوں کہ ماحولیاتی بحران صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اَثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ گرین انرجی ترقی کے نام پر جنگلات کی کٹائی کو نہیں روکتی، نہ ہی یہ زیادہ مچھلیوں کے شکار یا معدنیات کے حصول کے لیے پہاڑوں کی بے دریغ کھدائی پر قدغن لگاتی ہے۔ اسی طرح یہ صنعتی زراعت کی اس توسیع کو بھی محدود نہیں کرتی جو مٹی کو بنجر، پانی کے ذرائع کو آلودہ اور حیاتیاتی تنوع کو تباہ کررہی ہے۔ یہ شہروں اور دریاؤں میں جمع ہونے والے فضلے کے مسئلے کا بھی کوئی بنیادی حل پیش نہیں کرتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشی سرگرمیاں پہلے ہی کئی قدرتی حدود کو عبور کرچکی ہیں، کیوں کہ ہم زمین سے ایسے وسائل مسلسل حاصل کررہے ہیں جو اسی رفتار سے دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتے۔ اس نہ ختم ہونے والی خواہش کو ’’گروتھ اِزم‘‘ کہا جاسکتا ہے—یعنی وہ عقیدہ جو ہمارے معاشی نظام اور سیاسی بیانیے میں یہ تصور راسخ کرتا ہے کہ مسلسل ترقی ہی معاشرے کا حتمی مقصد ہے۔ مثال کے طور پرجب کوئی نیوز چینل کھولا جائے تو ایک طرف سیلاب، خشک سالی اور دیگر آفات کی دل دہلا دینے والی خبریں ہوتی ہیں، اور دوسری جانب جی ڈی پی کی شرحِ نمو اور اسٹاک مارکیٹ کی واپسی کی پُرکشش رپورٹس پیش کی جاتی ہیں۔ گویا ہم بیماری کو فروغ دیتے ہیں، مگر اس کی علامات سامنے آئیں تو ان پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔

    گروتھ اِزم ایک سادہ مگر طاقت ور منطق کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں استعمالی قدر کے مقابلے میں تبادلہ کی قدر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی آپس میں متصادم ہوں تو پالیسی ساز عموماً ترقی کو فوقیت دیتے ہیں۔ وہ آلودگی کو سنجیدگی سے کم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ مستقبل کی غیریقینی اور غیرتصدیق شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات اکثر اس بات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ اشیا کی قیمت کیا ہے اور وہ کتنا منافع پیدا کرتی ہیں، نہ کہ اس پر کہ آیا وہ واقعی انسانی زندگی کو بہتر بناتی ہیں یا نہیں۔

    مثال کے طور پر شاہانہ ہاؤسنگ کالونیوں کی تعمیر، جو مقامی کمیونٹیز کو بے گھر کرتی اور زرعی زمینوں کو تباہ کرتی ہیں، ترقی کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کارخانوں کی پیداوار کو بغیر اس بات کا جائزہ لیے سراہا جاتا ہے کہ اس سے کتنی آلودگی پھیلتی ہے اور انسانی صحت کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ یہ نظام اس سوال سے گریز کرتا ہے کہ پیداوار انسانی ضروریات کے لیے مفید ہے یا نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آیا اس سے جی ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔

    فطرت کا نظام اس کے برعکس ہے۔ ہر جان دار ایک حد تک بڑھتا ہے، پھر توازن برقرار رکھتا ہے۔ درخت لامحدود طور پر نہیں بڑھتا، یہاں تک کہ گِر جائے، اور نہ ہی کوئی جانور اتنا استعمال کرتا ہے کہ اس کا ماحولیاتی نظام ہی تباہ ہوجائے۔ اس کے برعکس ہمارا معاشی نظام بغیر کسی واضح حد (identifiable end point) کے مسلسل اور تیز رفتار توسیع کا مطالبہ کرتا ہے۔ عالمی معیشت ہر سال جی ڈی پی میں اضافے کے ساتھ زیادہ توانائی، زیادہ وسائل اور زیادہ فضلہ پیدا کرتی ہے، اور یہ سب کچھ چند اشرافیہ کے منافع کے لیے باقی معاشرے اور قدرتی ماحول کی قیمت پر کیا جاتا ہے۔

    اسی پس منظر میں پاکستان ایک گومگو کیفیت سے دوچار ہے۔ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے ٹھوس مقصد کو توسیع کے ایک خیالی تعاقب کے تابع کر دیا گیا ہے۔ حکومت ترقی کو بذاتِ خود مقصد بنا کر حاصل کرنے پر مجبور نظر آتی ہے، نہ کہ پیداوار کی کسی ایسی معقول سطح تک پہنچنے کے لیے جو سماجی و معاشی خدمات کو بہتر بنا سکے۔ ہمارے ہاں اَب ہر شے کو اعداد و شمار کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے، اور استعمالی قدر (use value) کے بجائے تبادلاتی قدر (exchange value) کو معیار بنا لیا گیا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی رائے کلی کی بنیاد پر کی جائے، نہ کہ جزوی مفادات کے تحت۔ ہمیں ایسے طریقۂ کار کو اختیار کرنا ہوگا جو فطرت اور انسان کے درمیان ایک پائیدار ہم آہنگی قائم کر سکے۔

    Share via Whatsapp