ترقی کا تضاد (Growth Paradox)
فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.
فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.
استحصالی نظام میں بچے معاشی مجبوری، تعلیمی مواقع کی کمی اور بچوں کی مزدوری کے عام رواج کی وجہ سے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔
معاشيات میں کمی کا تصور ابتدائی تصور ہے۔ روایتی معاشیات میں مفکرین یہ سمجھتے ہیں کہ کمی کے بغیر معاشیات کا کوئی تصور ہی نہیں۔
نظامِ ظلم میں حق اور باطل کی تمیز کرنا اس وقت مشکل ہوتا ہے جب عوام بغیر تحقیق اور اندھی تقلید کی وجہ سے باطل کی صف میں غیرارادی طور پرکھڑےنظرآتے ہیں۔
ماہ رمضان کے مہینے میں خوراک اور مشروبات سے منسلک کمپنیاں نظریۂ صارفیت کی بنیاد پر مسلمانوں کا روحانی و جسمانی استحصال کرتی ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں اداروں کی نجکاری محض سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ اور عام عوام کا استحصال ہے۔