زراعت سے نالج اکانومی تک: جدید معیشت میں اجتماعی ترقی کا سفر - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • زراعت سے نالج اکانومی تک: جدید معیشت میں اجتماعی ترقی کا سفر

    جدید معیشت میں پائیدار اجتماعی ترقی زراعت، صنعت، علم، ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے متوازن اور ارتقائی امتزاج سے حاصل ہوتی ہے۔

    By Tayab Memon Published on Jan 08, 2026 Views 263

    زراعت سے نالج اکانومی تک: جدید معیشت میں اجتماعی ترقی کا سفر

    تحریر: طیب دین میمن، حیدرآباد۔سندھ


    آج کے دور میں بھی زراعت کی بنیادی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ غذائی تحفظ، دیہی معیشت، سماجی استحکام اور بحران کے اوقات میں ریاستی بقا کا دارومدار براہِ راست زراعت پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اگر اپنی آبادی کو مناسب اور مستحکم خوراک کا نظام مہیا نہ کرسکے تو سیاسی عدمِ استحکام اور سماجی بے چینی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ جدید معیشتوں کے عملی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قومی خوش حالی، بلندآمدن اور عالمی اَثر و رسوخ عموماً ایک منظم ارتقائی عمل کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، جس میں زراعت کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی شعبے بھی بتدریج مرکزی کردار اختیار کرتے ہیں۔ اسی ارتقائی عمل کو سمجھنا آج کے سماجی اور معاشی مباحث میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    جدید معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں عموماً چند نمایاں مراحل سے گزرتی ہیں۔ ابتدا میں فوڈ سیکیورٹی اور بنیادی ضروریات کو مستحکم کیا جاتا ہے، جہاں زراعت معیشت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد قومی آمدن میں اضافہ کرنے کے لیے، زراعت کے ساتھ ساتھ، صنعت، تجارت، خدمات اور ٹیکنالوجی کی طرف منظم پیش رفت کی جاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں تعلیم، تحقیق اور اسٹریٹیجک صلاحیت کو مضبوط کیا جاتا ہے، تاکہ قومی ترقی محض بقا تک محدود نہ رہے، بلکہ معیارِزندگی میں بہتری کی صورت اختیار کرے۔ یہ کوئی آفاقی یا سخت قانون نہیں، مگر دنیا کی بڑی معیشتوں میں عمومی طور پر یہی رجحان دِکھائی دیتا ہے۔

    یہ ارتقائی رجحان جدید معاشیات میں ”ساختی تبدیلی“ (Structural Transformation) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق جیسے جیسے معیشت ترقی کرتی ہے، زراعت ختم نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ پیداواری بن جاتی ہے۔ کم افراد زیادہ خوراک پیدا کرنے لگتے ہیں، جب کہ اضافی محنت اور سرمایہ اُن شعبوں میں منتقل ہو جاتا ہے، جہاں آمدن اور ویلیو ایڈیشن زیادہ ہوتا ہے۔اسی وَجہ سے ترقی یافتہ معیشتوں میں بنیادی اہمیت کے باوجود زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ نسبتاً کم نظر آتا ہے، حاآں کہ خوراک کی پیداوار اور دستیابی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ مختلف خطوں اور مختلف نظاموں میں اس رجحان کا بارہا مشاہدہ اسے ایک تجرباتی حقیقت بنا چکا ہے۔

    اکیسویں صدی میں یہی ارتقائی عمل مزید وُسعت اختیار کرتے ہوئے نالج اکانومی(Knowledge Economy) کی صورت اختیار کرلیتا ہے، جہاں ترقی کا دارومدار زمین اور مشین کے ساتھ علم، مہارت، تحقیق، ڈیجیٹل صلاحیت اورانسانی خدمات کے معیار پر ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سماجی و معاشی ترقی کے بنیادی محرک بن جاتے ہیں ، زراعت ، صنعت ، تجارت کی جیسی حقیقی معیشت کی رفتار کو تیز کردیتا ہے۔بعض ممالک زرعی پیداوار میں خودکفیل اور برآمدات کے قابل ہیں، جب کہ بعض دیگر ممالک زرعی زمین کی کمی کے باعث خوراک کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مضبوط تجارت، زرِمبادلہ، سپلائی چین اور مؤثر گورننس کے ذریعے وہ اپنی فوڈ سیکیورٹی کو مستحکم رکھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ زرعی خود کفالت ایک اہم راستہ ضرور ہے، مگر واحد راستہ نہیں بلکہ دیگر معاون شعبوں میں ترقی بھی ضروری ہے۔

    چین کی معاشی تاریخ اس ارتقائی رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 1970ء کی دہائی تک چین بڑی حد تک ایک زرعی معیشت تھا، جہاں قومی آمدن محدود اور معیارِزندگی کم تھا۔ 1978ء کے بعد زرعی اصلاحات کے ذریعے چین نے فوڈ سیکیورٹی کو بہتر بنایا اور کسان کو پیداوار کا براہِ راست فائدہ دیا۔ اس بنیاد کے مستحکم ہونے کے بعد چین نے تیزی سے صنعت، برآمدات، شہری معیشت اور ٹیکنالوجی کی طرف پیش قدمی کی، جس کے نتیجے میں قومی آمدن میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ 2010ء کی دہائی میں، خصوصاً 2012ء کے بعد، چین نے اعلیٰ ٹیکنالوجی، دفاعی صلاحیت اور اسٹریٹیجک اثر و رسوخ پر مزید توجہ دینا شروع کی۔ اس پورے عمل میں زراعت ایک مضبوط بنیاد کے طور پر موجود رہی، اور معاشی توسیع کی رفتار صنعت اور خدمات کے شعبوں سے آئی،مگر اس کےلیے ضروری ہے کہ زراعت کوسرمایہ دارانہ معیشت کی تابعیت سے محفوظ رکھاجائے تاکہ زراعت کی اساسی اور سرمائے کی معاون حیثیت اپنے اپنے دائرے میں برقرار رہے ۔

    جنوبی کوریا اور ویتنام بھی اسی ترقیاتی منطق کی عملی مثالیں ہیں۔ ان ممالک نے زراعت کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے مستحکم اور جدید بنایا، اور اسی بنیاد پر تعلیم، صنعت، تجارت اور ٹیکنالوجی میں منظم سرمایہ کاری کر کے اپنے معاشروں کو اجتماعی طور پر اوپر اُٹھایا۔ ان تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ سماجی ترقی کسی ایک شعبے کی فوقیت سے نہیں، بلکہ متوازن حکمتِ عملی سے حاصل ہوتی ہے۔

    یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر قوم اپنی جغرافیائی حدود، قدرتی وسائل اور معروضی حالات کو سامنے رکھ کر ترقی کی حکمتِ عملی بناتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس تناظر میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ جہاں زرعی زمین اور پانی دستیاب ہوں، وہاں زراعت کو جدید بنانا ناگزیر ہے، مگر قومی آمدن میں پائیدار اضافہ اسی صورت ممکن ہے، جب زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کرنے کے ساتھ صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی اور خدمات میں بھی منظم اور تدریجی ترقی کی جائے۔ چناں چہ خودکفالت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز خود ہی بنائی جائے، بلکہ یہ کہ بنیادی ضروریات، خصوصاً فوڈ سیکیورٹی، کو قابلِ اعتماد بنایا جائے اور ساتھ ہی آمدن بڑھانے والے شعبوں میں ویلیوایڈیشن پیدا کیا جائے، جس کے نتیجے میں مقامی صلاحیتیں مضبوط ہوں اور غیرضروری درآمدی انحصار کم ہو۔ مثال کے طور پر پاکستان خوراک اور زرعی اجناس سے منسلک اربوں ڈالر کی سالانہ درآمدات کرتا ہے، جنھیں ایک مربوط قومی پالیسی کے ذریعے نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔ 

    خلاصہ یہ کہ آج کی جدید معیشت میں سماجی اور اجتماعی ترقی کسی ایک شعبے کے غلبے سے نہیں، بلکہ متوازن معاشی وژن سے حاصل ہوتی ہے۔ زراعت بنیاد فراہم کرتی ہے، فوڈ سیکیورٹی استحکام دیتی ہے اور صنعت، علم، ٹیکنالوجی اور انسانی خدمات اس بنیاد پر کھڑے ہوکر معاشرے کو بہتر معیارِزندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی وہ ارتقائی توازن ہے جو قوموں کو پائیدار ترقی اور اجتماعی بہتری کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

    Share via Whatsapp