غربت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا فریب - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • غربت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا فریب

    افراط زر کی شرح کو calculate کرنے کے لئے کنزیومر پرائس انڈیکس calculate کیا جاتا ہے۔مضمون میں اسی معیار کے ذریعے ایک موازنہ اور تجزیہ کیا گیا ہے۔

    By Rao Mushtaq Ahmed Published on Feb 10, 2026 Views 183

    غربت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا فریب

    راؤ مشتاق احمد۔ لاہور



    وطنِ عزیز ، تقسیم کے بعد سے سات دہائیوں کا سفر پورا کر کے اگلی دہائی کو پورا کررہا ہے ۔ اس میں بسنے والے 25 کروڑ نفوس ابھی تک ایسی زندگی سے گزر رہے ہیں کہ وہ اپنی بقا کے بنیادی سوالوں کے جواب کے ادھیڑ بن میں دکھائی دیتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ اور ناخواندہ دونوں طبقات، زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پوری کرنے کی دوڑ میں محو سفر ہیں ۔ جب کہ

     انسان دنیا میں کیوں آیا ؟

     آزادی کسے کہتے ہیں ؟ 

    علم ہے کیا ؟ 

    علم اور معلومات میں کیا فرق ہے؟ 

    اور اسی طرح کے بہت سے سوالات سے لاتعلق ہیں۔ کیوں کہ ابھی نفسِ انسانی کی بنیادی ضرورتیں ہی تشنہ ہیں۔ 

    بنیادی ضرورت کیا ہے؟ 

    آج بالعموم، یہ غلط فہمی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے کہ ہم تو ڈیجیٹل دور کے لوگ ہیں ، آج کے دور میں ایس یو وی کاریں بہت کثرت سے ہمارے شہروں میں دوڑتی پھرتی ہیں، لاہور، اسلام آباد یا کراچی کی کچھ سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں نیویارک کی سڑکوں کا منظر دکھا رہی ہوتی ہیں اور سمارٹ فون اور پلے سٹیشن پر کھیلتے ہوئے ہمارے بچے ترقی یافتہ ممالک کے ہم قدم معلوم ہوتے ہیں اور گمان مضبوط کیا جاتا ہے کہ ہم تو پچھلی دہائیوں کے لوگوں سے بہت ترقی یافتہ ہو گئے ہیں،مگر یہ ترقی، ٹیکنالوجی کی ترقی ہے جو ہمارے استعمال میں محض صارف کے طور پر ہے، جب کہ ایک پاکستانی ابھی بھی اپنی بقا کے سوال سے دوچار ہے اور اِنفرادی معاشی زندگی کا ایک بھی ارتعاش اس کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اگر زندگی اتنی غیرمحفوظ کردی گئی ہے تو کہاں رہ جائے گی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی؟ یا پھر دیگر ظاہری اشیا کون خرید سکے گا اور کب استعمال کرے گا؟ 

    اس لیے زندگی کی بنیادی ضرورتیں روٹی، کپڑا،مکان جس سے انسان کی زندگی کی بقا وابستہ ہے۔ اگر ان بنیادی ضرورتوں پر غور کریں تو باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ پورا کرنا آج بھی بے روز گار تو کجا ، صاحبِ روز گار کے لیے بھی مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ کمپنیوں اور برانڈز کی کشاکشی انھی ضرورتوں کی متنوع خواہشات کو اُبھار کر جلتی پر آگ کا کام کرتی ہے جو اسی نظام کا پروان چڑھایا ہوا کاروباری عمل ہے، جو جاری و ساری ہے۔

    جب سوال بنیادی ضروریات کے تعین کا ہوتا ہے تو ہمارے ہی خطے کے عظیم مفکر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب البدورالبازغہ (جلد اول) میں تعلیماتِ اسلام کی روشنی میں، انسان کی بنیادی ضروریات کا تعین کرتے ہوئے تین اَور ضرورتیں بھی بنیادی ضروریات میں شامل کرتے ہیں، یعنی تعلیم ، نکاح کی استطاعت اور صحت۔ اس طرح دینِ اسلام کی تعلیمات روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، استطاعت نکاح اور صحت، ایسی ضرورتیں ہیں، جن کا پورا ہونا انسانی زندگی کی بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔ یعنی دینِ اسلام ایسے نظام معیشت کی بات کرتا ہے، جس میں تین نہیں، بلکہ انسان کی چھ بنیادی ضروریات تسلیم کی جاتی ہیں اور اسلام جن کی تکمیل کو بہ طور حق فراہم کرنے کا پورا پروگرام اپنے معاشی نظام میں رکھتا ہے۔ اور ان بنیادی ضروریات کے بغیر انسان اپنی حیات اور شرفِ انسانیت کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ دینِ اسلام کی نظر میں ہر انسان کو ان وسائلِ معیشت کی دستیابی و فراہمی یقینی بنانا ہر دور کی ریاست و حکومت کی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔ 

    ابھی ہم پہلی تین بنیادی ضرورتوں کو ہی معیار بنا کر، کسی بھی دورِحکومت کی جانچ کریں کہ وہ یہ بنیادی ضروریات تمام باشندگانِ ملک کو فراہم کرسکی یا نہیں۔ 

     سب سے پہلی بنیادی ضرورت میں سے بھی صرف روٹی (آٹا) کے معیار پہ وطنِ عزیز کی پچھلی دہائیوں کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    معاشیات میں افراطِ زر کے پیمانے سے کسی ملک کے باشندوں کی قوتِ خرید یاCost of Living میں تبدیلی کی شرح کو معلوم کیا جاتا ہے۔ اور افراطِ زر کی (Calculation) شمار میں کنزیومر پرائس انڈیکس کو (Calculate)  شمار کیا جاتا ہے۔ 

    ہم اسی رائج الوقت معیار کو استعمال کرتے ہوئے جاننا چاہتے ہیں کہ آج سے 50 سال پہلے کا اوسط درجے کا پاکستانی شہری اس بنیادی ضرورت کو کتنی سہولت سے پورا کرسکتا تھا اور آج اس کی کیا نوعیت ہے۔

     پاکستان کے نامور شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض 1970ء میں اپنے شوہر کے نام ایک خط میں مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے آٹے کی قیمت 16 روپے فی من بتاتے ہوئے مہنگائی پر تشویش ظاہر کرتی۔( یہ خط کافی معروف بھی ہوا)۔ جب کہ 1970ء میں گریڈ 17 کے افسر کی تنخواہ 450 روپے مقرر تھی۔ اور یاد رہے کہ فیض احمد فیض صاحب لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے اور صحافتی مصروفیات بھی رکھتے تھے۔

    اس وقت ہم غیر رسمی انداز سے حاصل ہونے والے اعداد کو استعمال کررہے ہیں کیوں کہ سرکاری اعداد و شمار اپنی ساکھ بری طرح سے کھو چکے ہیں۔ جیسا کہ موجودہ بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ صاحب نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کے اعداد دکھا کر دھوکا دیتے ہوئے، مزید ٹیکسز کا مطالبہ کیا اور پھر نئے ٹیکسز لگائے گئے۔ یعنی کل قومی مجموعی پیداوار کی نسبت ٹیکس کم بتا کر نئے ٹیکسز کا جواز بنایا گیا اور پھر یہی پڑھا لکھا طبقہ ان کے نفاذ اور وصول کرنے میں جوت دیا گیا۔

     کنزیومر پرائس انڈکس کو شمار مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جاتا ہے،جس میں تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے مجموعہ کی ایک ٹوکری بنائی جاتی ہے، جسے پچھلے سال کی انھی اشیا کی قیمتوں سے تقسیم کر کے سو سے ضرب دیا جاتا ہے۔ 

    ایک متعین جنس (آٹا) کی CPI ذیل میں Calculate کی گئی ہے۔

    6400/16 x 100= 40,000%

    اَب CPI چالیس ہزار فی صد کے مطابق تنخواہ میں اضافہ ہو تو آج 1970ء کے برابر معیارِ زندگی کو لایا جا سکتا ہے۔

    اسی طرح ایک دوسرے طریقے سے اگر آمدن اور خرچ سے موازنہ کیا جائے تو ایک شے یعنی گیہوں (آٹا)کا اندازہ، ذیل میں دیے گئے پیمانے پر جانچا جا سکتا ہے۔ (آٹے کی فی من قیمت تقسیم کل ماہانہ تنخواہ ضرب سو) 

    16/450 x 100=3.55%

    جب کہ آج جنوری 2026 ءمیں ان ہی مدات کو آج کے رائج نرخوں پر جانچنے سے ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم نے آج اس بنیادی ضرورت کی تکمیل میں کتنی ترقی کر لی ہے۔ آج خالص آٹے کا بھاؤ بازار میں 6400 روپے فی من ہے جب کہ آج گریڈ 17 کے افسر کی ابتدائی تنخواہ پنجاب پے سکیل کے مطابق 90850 روپے ہے۔ اگر ان اعداد کا کنزیومر پرائس انڈکس نکالا جائے تو

    6400/90000 x 100= 7.11%

    اَب ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک ابتدائی درجے کے سرکاری افسر کو اپنی تنخواہ میں سے پہلے کے مقابلے میں 3.2 فی صد کی جگہ 7.11 فی صد یعنی دو گنا یا دو سو فی صد سے زیادہ اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدن میں سے، صرف آٹے کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔ یعنی بنیادی ضروریات میں سے ایک جزو کا محتاط اندازہ مقرر ہوتا ہے کہ ایک بنیادی ضرورت، ایک تعلیم یافتہ فرد سے، پہلے کے مقابلے میں دو گنا دور یا دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔ مزید اعدادوشمار کی روشنی میں باقی اشیا کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ بنیادی تمام ضروریات جن میں مکان جیسا بنیادی جائز حق بھی ہے جو مذکورہ وسائل کے ساتھ ناممکن کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔

     جسے یقیناً بنیادی ضرورتوں کے فراہمی کی روشنی میں ترقی معکوس کہا جاسکتا ہے اور یوں موجودہ نظام کا دجل و فریب بھی آشکار ہوتا ہےکہ کس طرح بنیادی ضروریات کا پورا کرنا ہی نہایت مشکل تر بنا دیا گیا ہے اور افراد ظاہری اشیا کے فریب میں غلط فہمی پال رہے ہیں۔ 

    ایسے حالات میں، جب بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی استعداد، ایک تعلیم یافتہ فرد کے لیے مشکل تر بنتی جائیں گی تو کیا وہ اپنی بقا کے جدوجہد کر رہا ہے یا ترقی اور خوش حالی کے دور سے گزر رہا ہے؟

     جس کا جواب، مذکورہ بالا مروجہ معیارات کی بنیاد پر واضح کیا جا چکا ہے اور انھی معیارات پر کوئی بھی فرد باآسانی جانچ سکتا ہے۔

    ایسے حالات میں جب باشندگانِ وطن کی مشکلات، نظام کے ہی ذریعے بڑھ رہی ہوں تو لازمی ہے کہ ایسے استحصال اور دجل و فریب کے نظام کے مقابل، شعوری بنیادوں پر منظم اجتماعیت پیدا کی جائے جو کہ نہ صرف آج کی قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے، بلکہ تعلیم یافتہ طبقہ کی اپنی بقا کا سوال بن چکا ہے۔ دوسری صورت میں وہ اجتماعی ذمہ داری سے غفلت کے باعث اِنفرادی سوچ کے تابع، محض اپنی بقا کی جنگ میں، ظلم و دجل کے نظام کی آلہ کاری کی رو سیاہی کو قبول کرتا ہے۔ ظلم و فریب کی اس تاریکی کو گہرا کرنے میں کب تک اپنی توانائیاں جھونکتا رہے گا۔

    Share via Whatsapp