سخاوت کے باوجود انسانی ترقی میں 168 نمبر پر۔۔۔ ماجرا کیا ہے؟
آج ہم آپ کو ایک ایسے ملک اور اس کے باشندوں سے متعارف کروانا چاہتے ہیں جو دنیا کی سخاوت کرنے والی اقوام میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ا...
سخاوت کے باوجود انسانی ترقی میں 168 نمبر پر۔۔۔ ماجرا کیا ہے؟
تحریر؛ محمد سعد ،پشاور
آج ہم آپ کو ایک ایسے ملک اور اس کے باشندوں سے متعارف کروانا چاہتے ہیں جو دنیا کی سخاوت کرنے والی اقوام میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں سالانہ تقریباً 240 ارب روپے خیرات کی صورت میں دیے جاتے ہیں، اور جہاں 17 ہزار سے زائد ملکی و غیرملکی فلاحی اور غیرمنافع بخش ادارے معاشرتی بہتری کے نام پر سرگرمِ عمل ہیں۔ برطانیہ کے معتبر ادارے چیریٹیز ایڈ فاؤنڈیشن (CAF) کی جولائی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملک عالمی سخاوت اشاریے میں دنیا کے 17 ویں نمبر پر فائز ہے۔ کیا خیال ہے؟ اگر ویزہ کی سہولت ہو جائے تو ہم بھی اس خدا کی اتنی نیک مخلوق سے ملاقات کر لیں۔
آئیے! اَب اس ملک کے دیگر حالات کو دیکھتے ہیں۔
یہ کوئی دوسرا ملک نہیں ہے۔ یہ ہمارا اپنا وطن عزیز ہے، جہاں ہم اور آپ سانس لیتے ہیں۔ اسی ملک کی مٹی ہمارے خمیر میں گوندھی گئی ہے، اور اسی سے محبت ہم آدھا ایمان سمجھتے ہیں، لیکن اَب اس ملک کا ایک اور رُخ دیکھتے ہیں—وہ جہاں ہماری اجتماعی ذمہ داریوں کے نتائج آئینہ دار ہوتے ہیں۔
یہی ملک غربت میں 52 ویں نمبر پر انتہائی درجہ کی غربت میں مبتلا ہے۔ بھوک کے معاملے میں تو یہ 106 ویں نمبر پر ہے۔ بدامنی میں 140 ویں، ناانصافی میں 129 ویں، معاشی آزادی میں 153 ویں، قانون کی حکمرانی میں 130 ویں اور نظم و نسق میں 140 ویں نمبر پر کھڑا ہے۔
سب سے بڑھ کر انسانی ترقی؛ جو اسلام کے نزدیک سب سے اہم ہے ۔ انسانی ترقی سے مراد وہ مسلسل عمل ہے، جس کے ذریعے انسان کی صلاحیتوں (Capabilities) میں توسیع کی جاتی ہے، تاکہ وہ صحت مند، تعلیم یافتہ، باوقار اور بااختیار زندگی گزار سکے، اپنے انتخاب خود کرسکے اور معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ انسانی ترقی کا مرکز انسان خود ہے، نہ کہ محض معاشی پیداوار یا مادی وسائل۔ اس میں ہمارا ملک دنیا کے 193 ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ یہ تضاد محض افسوس ناک نہیں، بلکہ انتہائی خطرناک ہے اور ہماری قومی ناکامی کی کھلی نشان دہی کرتا ہے۔ اگر کوئی غور و فکر سے دیکھے تو اصل مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ ہم کتنا دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہےکہ ہم اپنی خیرات کے نتائج پر اور اس کے متوازی غلط نتائج پر کیوں غور نہیں کرتے؟
اگر کوئی قوم دل کھول کر خیرات دے، مسلسل مدد کرے اور سخاوت کو عبادت سمجھے، تو پھر غربت، بھوک اور محرومی برقرار کیوں رہتی ہے؟ وَجہ یہ نہیں کہ ہم کم دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیماری کی علامات پر خرچ کر رہے ہیں، جڑ پر نہیں۔ جب کسی نتیجے کے پیچھے کا عمل ہمارے سامنے نہ ہو، تو نتائج سے لڑنا عقل سے بہت دور ہے۔ ہم بیمار کو دوا تو دے رہے ہیں، لیکن بیماری پیدا کرنے والے ماحول کو نہیں بدل رہے۔ کیا ہماری ذہنی، جسمانی اور مالی توانائیاں صرف علامات کے انتظام میں ضائع نہیں ہو رہی ہیں؟ ہم غربت کم نہیں کر رہے—ہم غریبوں کو ہمیشہ غریب رکھے ہوئے ہیں، تاکہ وہ زندہ رہتے ہوئے کام بھی کریں اور ذلیل بھی رہیں۔ ہم بھوک مٹا نہیں رہے—ہم بھوکے کو محض اگلے دن تک کھینچ رہے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اِنفرادی خیرات ایک عارضی سہارا بننے کے بجائے ایک مستقل بیماری کے اَثرات کو کم کرنے والا اخلاقی پردہ بن جاتی ہے۔ جب خیرات قومی نظام کی ناکامی کا مقنع (قابل قبول) بن جائے، تو ریاست، مارکیٹ اور ادارے اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار نظر آتے ہیں۔
اور اسی بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک سفید حقیقت کو سمجھنا ہوگاکہ بیرونی قرضوں کی شرائط ہمیں خیرات کی راہ پر مجبور کرتی ہیں۔ جب IMF یا ورلڈ بینک سے قرضہ لیا جاتا ہے، تو اس میں غربت کو صرف خیراتی اور عارضی طریقوں سے ختم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ کوئی پائیدار پیداواری کام، کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں۔ قرض کو ان کی شرائط کے مطابق ہی استعمال کرنا ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا ہے؟ ہر سال بینظیر آمدنی سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام، یا رمضان پیکج پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں،لیکن کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں، کوئی نیا کام نہیں، کوئی مہارت دہی نہیں۔ صرف بھکاریوں کی فوج پال رہے ہیں۔ یہ نظام کی غلامی ہے۔ ہم خود کو آزاد سوچتے ہیں، لیکن ہمارے فیصلے بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں ہیں۔
چناں چہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں پروئے ہوئے ادارے ہیں ۔۔۔جوغیر مؤثر ہیں ۔۔جب تعلیم روزگار سے منسلک نہ ہو، معیشت کے مواقع پیدا نہ کریں، انصاف خریدی چیز بن جائے، حقوق کی بجائے پونجی کا مسئلہ ہو، ظلم عروج پر ہو، ادارے کمزور ہوں، ایک معمولی گروہ تمام اختیارات، وسائل اور عوام کا مالک ہو۔۔اس صورتِ حال میں خیرات مستقل رہے گی اور غربت بھی۔ عزتِ نفس مجروح رہے گی۔ احساسِ کمتری برقرار رہے گی۔ آزادی کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔ یہ کوئی اخلاقی ناکامی نہیں—یہ ادارہ جاتی ناکامی ہے۔ 77 سال سے قائم ملکی نظام پر اپنی ہی قوم کی تذلیل کا یہ سفید داغ ہے۔
یہ سوال اَب ٹالنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا ہم صرف اِنفرادی خیرات دینے والی قوم بن کر ہر انسان کی تذلیل برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ یا اجتماعی نظام کو بدل کر اس کے ذریعے ان مسائل کو ختم کر کے، انسانیت کو اس کی عزت و وقار کا معاش اور روزی روٹی دے کر اس دنیا کو ان کے لیے جنت میں تبدیل کرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں؟ اصول انتہائی سادہ اور واضح ہے: ”بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کریں“۔ (سورۃ الرعد، آیت 11)
لیکن یہ تبدیلی محض نیک نیتی سے نہیں آتی۔ اسے فہم، مضبوط ادارے اور منظم اجتماعی نظام کی ضرورت ہے۔تو سوال یہ ہے، ہماری قوم میں غور و فکر کا کتنا مستقل عمل ہے؟ ادارہ جاتی سوجھ بوجھ کتنی گہری ہے؟ اس سے بھی بڑھ کر اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے، کیا آج کل کوئی بھی سیاسی تنظیم یا جماعت اپنے منشور میں اس طرح کی بنیادی تبدیلی رکھتی بھی ہے؟ کیا اس کے پاس:
1۔ موجودہ نظام کے بارے میں واضح نقادانہ سوچ و فکر ہے؟
2۔معاشی اور سیاسی متبادل نظام کی کوئی تفصیلی تصویر ہے؟
3۔یہ شعور ہے کہ موجودہ نظام غلط ہے اور اس میں بہتری ناممکن ہے؟
4۔یہ عزم ہے کہ ریاست و مملکت پاکستان کے لیے متبادل راہ دِکھائے؟
5۔اپنے کارکنوں اور ورکرز کو سیاسی شعور بخشنے کا نظام ہے؟
6۔ان کے پاس کوئی واضح نظریہ ہے جو فقط نقد نہیں، بلکہ تعمیری بھی ہو؟
ان سارے سوالوں کا جواب زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں ہے، یا وہ ان کی طرف جانا نہیں چاہتے، کیوں کہ ان کی بقا موجودہ نظام میں ہے۔ وہ زیادہ تر نئے انتخابات پر زور دیتے ہیں، تاکہ کسی طریقے سے ان کی باری آئے۔ لیکن وطنِ عزیز میں ہم نے بار بار انتخابات دیکھے ہیں اور نتائج ندارد رہے۔ موجودہ سیاسی نظام میں بغیر چاپلوسی، بغیر تعلقات، بغیر سرمایہ اور بغیر طاقت کے اَثرانگیز ہونا واقعی ممکن نہیں۔
اس لیے تبدیلی صرف انتخابات سے نہیں آئے گی۔ اسے علم، تنظیم اور متبادل اجتماعی راستوں سے آنا ہوگا۔ معاشی آزادی کے بغیر خوش حالی محض خالی خواب ہے۔ جب تک معاشی خودمختاری نہیں، مواقع سب کے لیے دستیاب نہیں اور محنت کا پھل محفوظ نہیں ہوتا، تب تک ہم بہ حیثیت قوم خوش حالی کا خواب دیکھ سکتے ہیں اور اس کی خواہش کرسکتے ہیں، لیکن حقیقت میں اسے وجود نہیں دے سکتے۔ نتائج خواہشات سے نہیں، اعمال سے منسلک ہوتے ہیں۔ خیرات انسان کو محض جانوروں کی طرح زندہ رکھتی ہے۔ لیکن معاشی آزادی انسان کو باوقار بناتی ہے—اسے خودمختار کرتی ہے، باقی معاشرے کے لیے مفید بناتی ہے اور حقیقی انسانیت بخشتی ہے۔









