دین اسلام کا نظام زکوٰۃ اوراس کے سماجی تقاضے
آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دولت کی فراوانی ، وسائلِ پیداوار کی ترقی اور حیرت انگیز معاشی ارتقاء نظر آتا ہے اس کے باوجود انسانیت فقروفاقہ
دین اسلام کا نظام زکوٰۃ اوراس کے سماجی تقاضے
تحریر؛ سلمان نواز۔ بہاولپور
آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دولت کی فراوانی ، وسائلِ پیداوار کی ترقی اور حیرت انگیز معاشی ارتقا نظر آتا ہے, اس کے باوجود انسانیت فقروفاقہ سے دوچار ہے۔ رات کو بھوکے پیٹ سونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ قدرت کا کھیل نہیں ہے اور نہ ہی انسان کی تقدیر میں اسے فاقہ کروانا مقصود ہے، بلکہ یہ تو غلط معاشی نظام کی پالیسی کی وَجہ سے ہے۔ ایک ایسا معاشی نظام جہاں ہر شخص یہ سوچ رکھتا ہے کہ دولت صرف میرے لیے ہے اور اس معاشی دوڑ میں جو پیچھے رہ گیا ہے، اس کازندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے تو ایسے میں جو لوگ کم صلاحیت یا معاشرےکے کمزور افراد ہیں، ان کا والی وارث کون ہوگا؟ اس مشکل سوال کا حل صرف دین اسلام پیش کرتا ہے ۔ کیوں کہ اسلام کا معاشی نظام فرد کی کفالت کی بات کرتا ہے، جس کا اہم ترین ستون نظامِ زکوٰۃ ہے۔
معنی و مفہوم:
زکوٰۃ کے معنی پاک ہونا یا نشوونما کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں زکوٰۃ سے مراد ”اللہ کی رضا کی نیت سے اپنی حلال و طیب کمائی میں سے سالانہ بنیادوں پر اڑھائی فی صد کی شرح سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا“ فریضہ زکوٰۃ کہلاتا ہے ۔
زکوۃ ایک مالی عبادت ہے، جس کے تحت ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر یہ فرض ہےکہ وہ خدا اور بندوں کا حق ادا کرے، تاکہ اس کا مال پاک ہوجائے۔ اور اس چیز کی بھی کوشش کرے کہ جس سوسائٹی میں وہ رہتا ہے وہ بخل، خودغرضی، بغض اور معاشرتی برائیوں سے پاک ہو۔آپﷺ نے ریاستِ مدینہ کے استحکام کے لیے سنہ 2ہجری میں اللہ کے حکم سے زکوٰۃ کے نظام کو مرتب فرمایا۔ اس کا مقصد معاشرے کے صاحب ِنصاب افراد سے زکوٰۃ لے کر بیت المال میں جمع کرنا اور معاشرے کے پس ماندہ افراد پر خرچ کرناہے۔
زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی ضرورت واہمیت:
ایک بات جو بہت اہم ہے اسے سوچی سمجھی سازش کے تحت ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا گیاہے کہ اسلام میں تمام اجتماعی امور سیاسی نظام کے تحت انجام پاتے ہیں ۔ یہی وَجہ ہے کہ اسلام میں اِنفرادیت پسندی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں قبر میں ہونے والے سوالوں کا تعلق بھی اِنفرادیت سے نہیں، بلکہ اجتماعیت سے ہے۔ جیسے نماز ایک اجتماعی عبادت ہے ۔ جوانی یا پیسے کا تعلق بھی اجتماعیت کے ساتھ ہے کہ جوانی کن کن کاموں میں لگائی، انسانیت کی خدمت کا کام کیا یا نہیں؟ پیسہ کہاں کہاں خرچ کیا؟ اس پیسے سے انسانی سوسائٹی کو کوئی فائدہ حاصل ہوا کہ نہیں؟اسی طرح اسلام نے زکوۃ کا بھی ایک مضبوط اجتماعی نظام دیا ہے۔ زکوٰۃ کو ایک مرکز میں جمع کیا جائے، تاکہ وہاں سے ایک ضابطہ کے ساتھ خرچ ہو۔ سورۃ یونس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے : ’’ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے فرمایا کہ آپﷺ ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں‘‘۔ آپﷺ صرف ایک شخصیت نہیں ہیں، بلکہ پوری انسانیت کا مرکز ہیں۔ اسی طرح مصارف زکوۃ میں ”عاملینِ زکوٰۃ“ کا حق مقرر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکوۃ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام اِس کو باقاعدہ وصول اور خرچ کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے مال داروں سے زکوۃ وصول کروں اور تمھارے فقرا میں تقسیم کردوں‘‘۔ آج اس چیز کی شدت سے ضرورت ہے کہ زکوۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے ایک اجتماعی نظام بنایا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر زکوۃ کی فرضیت کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔
منکرین زکوٰۃ کے خلاف حضرت ابوبکرؓ کا جہاد:
خلافت سنبھالتے ہی دو بڑے چیلنج جن کا حضرت ابوبکرصدیقؓ کو سامنا کرنا پڑا، ان میں سے ایک وہ لوگ تھے، جنھوں نے زکوۃ دینے سے صاف انکار کردیاتھا۔ اس پر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے کہا: ’’اگر وہ لوگ جو حضرت محمدﷺ کے دور میں زکوٰۃ دیتے تھے، وہ آج زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں، تو میں ان سے ضرورجنگ کروں گا۔ میں کسی بھی قیمت پر مسلمانوں کے دین میں کسی قسم کی کمی یا تبدیلی نہیں ہونےدوں گا‘‘۔ اس معاملے پر حضرت عمرؓ نے رائے دی کہ ابھی ہمیں ان سے جنگ نہیں کرنی چاہیے ۔ حضرت ابو بکرصدیقؓ نے فرمایا: ’’اگر ایک شخص آپﷺ کے دور میں ایک اونٹ کی رسی بھی دیتا تھا اور اَب وہ رسی دینے سے انکار کررہاہے تو میں اس رسی کے لیے بھی ان سے جنگ کروں گا‘‘۔ آپؓ کی قیادت میں مسلمانوں نے مانعینِ زکوۃ کے خلاف جنگ شروع کی اور کامیابی حاصل کی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: ’’ خدا کی قسم ! جب حضرت ابوبکرصدیقؓ نے فیصلہ کیا کہ ہم ان لوگوں سے جنگ کریں گےجو زکوۃ دینے سے انکار کرتےہیں، تو میں نے اس وقت تک کبھی ایسا فیصلہ نہیں سنا تھا۔ مگر بعد میں جب حضرت ابوبکرصدیقؓ نے مجھے اس کی حقیقت سمجھائی، تو میں نے اس فیصلہ کو مانا اور اس پر عمل کیا‘‘ ۔(حوالہ: بصیرت افروز بلاگ: ”دینِ اسلام کے لیے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی خدمات“ )
مالی قربانی کا جزبہ:
اللہ تعالیٰ زکوۃ کے ذریعے انسان کے اندر سے مال کی حرص اور بخل کو ختم کرکے مالی قربانی کا جزبہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور یہی اس کا پہلا تقاضا ہے کہ انسان میں مال کی محبت کی بجائے انسانیت کا دردپیدا ہو۔ زکوۃ معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں۔ جب انسان کو اس بات پہ یقین ہوجائےکہ اس کی ضرورت سے زائد مال پرصرف اس کا نہیں، بلکہ اللہ کی مخلوق کا بھی حق ہے۔ بایں ہمہ اس کے پاس جتنی بھی صلاحیت ہے یہ اللہ نے اس کے اندر پیدا کی ہے، اس کی ذات کا اس میں کوئی کمال نہیں۔ تو وہ اللہ کی خوش نودی کے لیے اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے سے خود کوکبھی نہیں روکے گا۔
سرمایہ پرستی کا انسداد:
آج اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں انسان مشین بن کے رہ گیاہے۔ پیسے کی حرص نے انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بنا دیا ہے۔ ان خواہشات کو پورا کرنے کے چکر میں دن کو تو مشین بن کر انسان کام کرتا ہے، اَب جہاں فری لانس کا دور ہے، نوجوان کی رات کا بھی چین وسکون ختم ہوگیاہے۔ شروع شروع میں تو خواہشات کی غلامی ہوتی ہے پھر سرمایہ پرستی اسے انسان سے حیوان بنا دیتی ہے۔ اس ذہنیت کے انسان کی مثال اس سانپ کی طرح ہے جو کسی خزانہ کے اوپر بیٹھا ہوتاہے۔ یا خرچ کرے گا تو صرف اورصرف اپنی ذات کو فائدہ دینے کے لیے۔ دین اسلام نظام زکوۃ کے ذریعے مال کی بےجا محبت کوکنٹرول کرتاہے اور سرمایہ پرستی جس کا آخری نتیجہ انسان دشمنی کی صورت میں نکلتا ہے، نظام زکوۃ کے ذریعے اس کا ازالہ کرناچاہتا ہے۔
معاشی عدل ومساوات:
نماز اگر سماجی مساوات کا درس دیتی ہے تو زکوۃ معاشرے میں معاشی عدل و مساوات قائم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ آپﷺ نے حضرت معاذبن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو ہدایت فرمائی: ’’ تم ایسی قوم کی طرف جارہے ہو جو اہلِ کتاب ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے انھیں اس بات کی دعوت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ یہ بات قبول کر لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہےجو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور انھی کے غریبوں کو دے دی جائے گی‘‘۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکوۃ جس علاقہ سے اکٹھی کی جائے تو اس مال پر سب سے پہلاحق وہاں کے مستحقین کا ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ معاشی عدل ومساوات کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ سوسائٹی میں گردش کرتا رہے،جس طرح خون جسم میں گردش کرتا رہتا ہے تو جسم صحت مند اور توانا رہتاہے۔
تعاون باہمی کا فروغ:
فریضہ زکوۃ تعاونِ باہمی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانہ میں زکوۃ کے اجتماعی نظام کا نتیجہ یہ نکلا کہ گلی کوچے میں آواز لگائی جاتی کہ کوئی غریب ، یتیم یا مقروض ہے ۔ کوئی ایسا شخص جسے شادی کے لیے پیسہ چاہیے ہو۔ عالم یہ تھا کہ زکوۃ دینے والے تو تھے، پر لینے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ تعاونِ باہمی کا ہی نتیجہ تھا کہ معاشرے میں کوئی غریب موجود نہیں رہا۔
فریضہ زکوٰۃ اور عصر حاضر کا تقاضا:
زکوٰۃ ایک عبادت ہے اور دینِ اسلام کی ہر عبادت اپنا کوئی نہ کوئی نتیجہ رکھتی ہے، جیسے نماز فحاشی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ روزہ معاشرے کے ان لوگوں جو بھوک وپیاس سے بلک رہے ہیں، ان کا احساس ہمارے اندر پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح زکوۃ معاشی عدل ومساوات کے لیے ضروری ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ زکوۃ کے اجتماعی نظام کو بحال کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے ہمارا قومی نظام آزاد ہواور عدل ومساوات کے اصول پرقائم ہو۔ اللہ تعالیٰ قومی آزادی کے درست تصورکو صحیح معنی میں سمجھنے میں ہماری مدد کرے۔ آمین!









