مثالی معاشرہ: امن کا قیام اور معاشی خوش حالی
مثالی معاشرہ کے دو بنیادی عناصر ہیں: خوف کا خاتمہ، یعنی قیامِ امن، اور بھوک و افلاس کا خاتمہ، یعنی معاشی خوشحالی۔
مثالی معاشرہ: امن کا قیام اور معاشی خوش حالی
محمد اصغر خان سورانی۔ بنوں
ایک مثالی معاشرہ کیسا ہوتا ہے؟ اس میں کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟ یہ سوال ہمارے ہاں کبھی کسی ٹی وی ٹاک شو میں اُٹھتا ہے، کبھی کسی سیمینار میں، کبھی کسی خطبے میں اور کبھی اخباری کالم کی زینت بنتا ہے۔ کوئی انصاف کو مثالی معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے، کوئی تعلیم کو، کوئی قانون کی حکمرانی کو اور کوئی اخلاقیات کو۔ بہ ظاہر یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست اور اہم ہیں، لیکن جب ان سب کو ایک ساتھ رکھ کر گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک سادہ مگر فیصلہ کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک مثالی معاشرہ دراصل درجنوں اصولوں یا نعروں پر نہیں، بلکہ صرف دو بنیادی ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی دو ستون قرآنِ مجید نے بار بار مختلف اسالیب میں بیان کیے ہیں، اور یہی دو ستون جدید دنیا کے کامیاب اور ترقی یافتہ معاشروں میں بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دو بنیادی عناصر ہیں: خوف کا خاتمہ، یعنی قیامِ امن اور بھوک و افلاس کا خاتمہ، یعنی معاشی خوش حالی۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطرتاً سماجی مخلوق بنایا ہے۔ وہ تنہا نہ اپنی بقا ممکن بناسکتا ہے اور نہ ہی اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے، اسی لیے وہ سماج تشکیل دیتا ہے، ریاست بناتا ہے اور اجتماعی ضابطوں کے تحت زندگی گزارتا ہے،مگر ہر سماج ریاست یا اداروں کی موجودگی کے باوجود مثالی نہیں ہوتا۔ قرآنِ مجید جب کسی معاشرے کی کامیابی یا ناکامی کا ذکر کرتا ہے تو وہ اسے بلند نعروں یا پیچیدہ نظاموں سے نہیں جانچتا، بلکہ دو نہایت بنیادی نتائج سے پرکھتا ہے:
کیا وہاں خوف غالب ہے یا امن؟ اور کیا وہاں بھوک ہے یا معاشی اطمینان؟ سورۃ قریش میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اس رب کی عبادت کرو جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن عطا کیا“۔ غور کیا جائے تو یہ محض قریش کے لیے نہیں، بلکہ ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے ایک دائمی اصول ہے کہ مثالی معاشرت کی پہلی پہچان خوف کا خاتمہ اور دوسری پہچان بھوک سے نجات ہے۔
پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں شہری دونوں حوالوں سے غیرمحفوظ ہیں۔ یہاں خوف صرف دہشت گردی یا جرائم کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر کیفیت ہے۔ جان کا خوف، مال کا خوف، عزت کا خوف، انصاف نہ ملنے کا خوف، طاقت ور کے ظلم کا اندیشہ، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کا ڈر اور سب سے بڑھ کر مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورت حال۔
جب معاشرے میں خوف غالب آجاتا ہے تو اخلاقیات کمزور پڑجاتی ہیں، قانون بے معنی ہوجاتا ہے اور انصاف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اصولوں کے بجائے طاقت کے ساتھ کھڑے ہونے کو عقل مندی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ ہمارے ہاں معمولی نوعیت کے معاملات بھی عدالتوں میں برسوں لٹکے رہتے ہیں، کیوں کہ فریقین کو ایک دوسرے پر اور نظامِ انصاف پر اعتماد نہیں ہوتا۔
قرآنِ مجید ایک مثالی بستی کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہے: ”ایک بستی تھی جو امن و اطمینان میں تھی اور اس کا رزق ہر طرف سے آتا تھا“۔ (سورۃ النحل:112)۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ امن کو رزق سے پہلے ذکر کیا گیا ہے، کیوں کہ خوف کے ماحول میں نہ معیشت ترقی کرسکتی ہے، نہ سیاست درست ہوسکتی ہے اور نہ ہی اخلاقی اقدار پنپ سکتی ہیں۔ اسی لیے قرآن فرعونی نظام کو غیرمثالی قرار دیتا ہے، جو معاشرے کو طبقات میں بانٹتا ہے، خوف پھیلاتا ہے اور کمزور کو کچلتا ہے۔ اس کے برعکس قرآنی تصورِ ریاست وہ ہے جو خوف کو امن میں بدل دے اور کمزور کو تحفظ فراہم کرے، جیسا کہ سورۃ النور میں وعدہ کیا گیا کہ اہلِ ایمان کو خوف کے بعد امن عطا کیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک کامیاب اور مطمئن زندگی کا نہایت جامع معیار بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھر میں امن سے ہو، اس کا جسم تندرست ہو اور اس کے پاس ایک دن کا کھانا ہو، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“۔ (ترمذی)۔ اس حدیث میں ترتیب پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے امن کا ذکر ہے، پھر صحت کا اور پھر روزی کا۔ گویا خوف سے نجات وہ بنیاد ہے جس پر باقی تمام سہولتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ جب خوف ختم ہوجاتا ہے تو جرائم کم ہوجاتے ہیں، معاشرتی برائیاں خودبہ خود سمٹنے لگتی ہیں، انصاف ایک خواب نہیں، بلکہ قابلِ حصول حقیقت بن جاتا ہے اور ریاست شہری کے لیے بوجھ کے بجائے سایہ بن جاتی ہے۔
دوسرا بنیادی ستون بھوک اور افلاس کا خاتمہ ہے، جسے ہمارے ہاں عموماً ثانوی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حال آں کہ قرآنِ مجید نے اسے بھی بنیادی نعمت قرار دیا ہے۔ بھوک صرف پیٹ کی آگ نہیں، بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ بھوک انسان کو جرائم، بددیانتی، نفرت اور مایوسی کی طرف دھکیلتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں اکثریت کا بنیادی مسئلہ روٹی بن جائے تو وہاں تعلیم، اخلاق، برداشت اور قانون کی پاسداری جیسے اعلیٰ اقدار کمزور پڑ جاتےہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ سورۃ النحل میں امن کے بعد بھوک کے عذاب کا ذکر کیا گیا، گویا یہ دونوں اجتماعی ناکامی کی علامت ہیں۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، وسائل کا غیرمنصفانہ ارتکاز اور معاشی عدم تحفظ نے معاشرے کو شدید دَباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب نوجوان کے سامنے روزگار کا کوئی واضح راستہ نہ ہو اور خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی ایک مستقل مسئلہ بن جائے تو وہ سماج سے بدظن ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جب معاشی خوش حالی ہوتی ہے تو اس کے اَثرات پورے سماج پر مرتب ہوتے ہیں۔ صحت بہتر ہوتی ہے، تعلیم تک رسائی آسان ہوتی ہے، کاروبار کے مواقع بڑھتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ مسابقت کی جگہ تعاون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو کچلنے کے بجائے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
قرآنِ مجید معیشت کے بارے میں نہایت واضح اصول دیتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ جائے۔ ”تاکہ دولت تمھارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرے“۔ (سورۃ الحشر:7)۔
یہی وہ تصور ہے، جسے آج جدید دنیا فلاحی ریاست کا نام دیتی ہے۔ اسکینڈے نیوین ممالک، جرمنی اور جاپان نے اسی اصول کو عملاً نافذ کیا کہ ہر شہری کو کم از کم روٹی، کپڑا اور مکان میسر ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں بھوک کا خوف ختم ہوا، جرائم کم ہوئے، سماجی اعتماد بڑھا اور ریاست اور شہری کے درمیان کشمکش کے بجائے شراکت داری پیدا ہوئی۔ فلاسفہ بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ ارسطو کے نزدیک ریاست کا مقصد محض بقا نہیں، بلکہ ”اچھی زندگی“ ہے، اور اچھی زندگی انصاف اور معاشی تحفظ کے بغیر ممکن نہیں۔ جرمن فلسفی ایمانویل کانٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ پائیدار امن کے بغیر نہ اخلاقی ترقی ممکن ہے اور نہ معاشی استحکام۔ جدید دنیا نے انھی اصولوں کو اپنایا اور کامیابی حاصل کی، جب کہ ہم آج بھی ضمنی بحثوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک مثالی پاکستانی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بحث کو غیرضروری نعروں اور تفصیلات سے نکال کر انھی دو بنیادی نکات پر مرکوز کرنا ہوگا۔ جب خوف ختم ہوگا تو انصاف خود راستہ بنا لے گا، اور جب بھوک مٹے گی تو صحت، تعلیم، اخلاق اور برداشت خود بہ خود پروان چڑھیں گے۔ ایک مثالی معاشرہ وہ نہیں، جہاں صرف بلند عمارتیں اور بڑے منصوبے ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں شہری بے خوف ہو، پیٹ بھرا ہو اور مستقبل سے مایوس نہ ہو۔ قرآن، سنت، فلسفہ اور جدید دنیا سب ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ امن اور معاشی خوش حالی ہی ایک مثالی معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ایک منظم جماعت کی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔









