رعایت کا فریب ، سرمایہ دارانہ نفسیات اور ہماری مرعوبیت
ہمارے معاشرے میں مغرب کے بارے میں جو فکری مرعوبیت پائی جاتی ہے وہ محض ثقافتی نہیں، بلکہ تجزیاتی کمزوری کی علامت ہے۔ ہم اکثر مغربی معاشروں کے بعض مظاہر
رعایت کا فریب ، سرمایہ دارانہ نفسیات اور ہماری مرعوبیت
تحریر: نعیم گل، ٹیکساس (امریکا)
ہمارے معاشرے میں مغرب کے بارے میں جو فکری مرعوبیت پائی جاتی ہے وہ محض ثقافتی نہیں، بلکہ تجزیاتی کمزوری کی علامت ہے۔ ہم اکثر مغربی معاشروں کے بعض مظاہر کو بغیر تحقیق کے معیار سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ جب ہمارے لوگ مغربی ممالک سے واپس آتے ہیں تو کرسمس کے موقع پر دی جانے والی رعایتوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں، جیسے وہاں کا تجارتی نظام دیانت، شفافیت اور عوامی فلاح کی اعلیٰ مثال ہو۔ یہ بیانیہ رفتہ رفتہ ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے، حال آں کہ اس کے پیچھے نہ کوئی سنجیدہ معاشی تجزیہ ہوتا ہے اور نہ صارف کے رویّے کا شعوری مطالعہ۔
اگر اس تأثر کو محض روایت یا سنی سنائی باتوں کے بجائے معاشی اصولوں، صارف کے نفسیاتی رویّے اور عملی مشاہدے کی بنیاد پر پرکھا جائے تو یہ تصور اپنی ساری چمک کھو دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرسمس، بلیک فرائیڈے اور اس نوعیت کے دیگر تہوار جدید سرمایہ دارانہ نظام میں صارف کی سہولت کے لیے نہیں، بلکہ منافع کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان مواقع پر اصل ہدف صارف کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کی کمزوری، اس کی جلدبازی اور اس کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں ”موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے“۔
قیمت کا مصنوعی تعین اس پورے عمل کی بنیاد ہے۔ ان سیلز سے قبل بڑی کمپنیاں اشیا کی قیمتیں بتدریج اور خاموشی سے بڑھا دیتی ہیں۔ اس کے بعد انھی بڑھی ہوئی قیمتوں کو ”اصل قیمت“ ظاہر کر کے ان پر بڑی رعایت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یوں رعایت دراصل قیمت میں کمی نہیں، بلکہ قیمت کے بیانیے کی تبدیلی ہوتی ہے۔
یورپی یونین کے صارفین کے تحفظ سے متعلق اداروں نے بلیک فرائیڈے سیلز پر اپنی مشترکہ تحقیقات میں واضح طور پر نشان دہی کی ہے کہ
“A significant number of traders raised prices shortly before the sales period in order to give the impression of larger discounts.”
یعنی بڑی تعداد میں تاجروں نے سیلز کے دور سے فوراً پہلے قیمتیں بڑھائیں، تاکہ زیادہ رعایت کا تأثر پیدا کیا جا سکے۔ یورپی کمیشن کی یہ رپورٹ اس بات کو سرکاری سطح پر ثابت کرتی ہے کہ دکھائی جانے والی رعایتیں اکثر حقیقی نہیں ہوتیں، بلکہ پہلے سے بڑھائی گئی قیمتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
اسی تناظر میں یورپ کی سب سے بڑی صارف تنظیم BEUC بھی اس رجحان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے لکھتی ہے کہ:
“Many Black Friday discounts are misleading as prices are often increased shortly before the promotional period.”
جس کا مطلب یہ ہے کہ بلیک فرائیڈے کی بہت سی رعایتیں دھوکے پر مبنی ہوتی ہیں، کیوں کہ تشہیری مہم شروع ہونے سے پہلے ہی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ یہ مشاہدہ اس تصور کو مکمل طور پر رَد کر دیتا ہے کہ ایسی سیلز صارف کی فلاح کے لیے ہوتی ہیں۔
برطانیہ کے سرکاری مسابقتی ادارے Competition and Markets Authority نے بھی آن لائن قیمتوں کے تجزیے میں اس عمل کو قیمت کے بیانیے میں ہیرا پھیری قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق
“Reference prices are frequently manipulated to create an artificial sense of saving.”
یعنی سابقہ یا ”اصل قیمت“ کو اکثر اس انداز سے تبدیل کیا جاتا ہے کہ صارف کو مصنوعی طور پر بچت کا احساس ہو، حال آں کہ حقیقی فائدہ موجود نہیں ہوتا۔
اسی نوعیت کی وارننگ امریکا میں Federal Trade Commission کی جانب سے بھی دی گئی ہے، جہاں واضح کیا گیا ہے کہ
“An advertised discount is deceptive if the ‘former price’ was not the genuine, prevailing price.”
یعنی اگر جس سابقہ قیمت پر رعایت دکھائی جا رہی ہو وہ حقیقت میں رائج اور اصل قیمت نہ ہو تو ایسی رعایت قانونی اور اخلاقی طور پر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتی ہے۔
ان بین الاقوامی، سرکاری اور صارفین کے تحفظ سے متعلق اداروں کی رپورٹس اس بات کو قطعی طور پر واضح کر دیتی ہیں کہ کرسمس اور بلیک فرائیڈے جیسے تہواروں پر دِکھائی جانے والی رعایتیں اکثر حقیقی قیمت میں کمی نہیں ہوتیں، بلکہ قیمت کے نفسیاتی بیانیے کو تبدیل کر کے صارف کو جلدبازی پر مجبور کرنے کا ایک منظم حربہ ہوتی ہیں۔
یہ عمل نفسیاتی دھوکے کے بغیر ممکن نہیں۔ صارف کے ذہن میں پہلے ایک غیرحقیقی بلند قیمت بٹھا دی جاتی ہے، پھر اس سے کم قیمت دِکھا کر یہ احساس دِلایا جاتا ہے کہ وہ فائدے میں ہے۔ حال آں کہ حقیقت میں وہ یا تو وہی چیز اصل قیمت پر خرید رہا ہوتا ہے یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ادا کر دیتا ہے۔ معاشی نفسیات کی اصطلاح میں اسے Anchoring Effect کہا جاتا ہے، جہاں پہلی دِکھائی جانے والی قیمت ذہن میں معیار بن جاتی ہے۔ یہ خالصتاً ایک نفسیاتی فریب ہے، نہ کہ معاشی سخاوت۔
بعد از سیل حقیقت اس پورے بیانیے کو مزید بے نقاب کردیتی ہے۔ اس فریب کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ کرسمس کے فوراً بعد وہی اشیا اکثر کرسمس سیل سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر سیل واقعی صارف کے فائدے کے لیے ہوتی تو سیل کے اختتام پر قیمتیں بڑھ جانی چاہییں تھیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ برطانیہ کے Competition and Markets Authority کے مطابق متعدد کیسز میں یہ ثابت ہوا کہ تہواروں کے بعد قیمتیں سیل سے کم ہو جاتی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیل کے دوران دکھائی جانے والی قیمتیں اصل نہیں ہوتیں۔
مصنوعی طلب کی تخلیق سرمایہ دارانہ حکمتِ عملی کا ایک اور اہم ستون ہے۔ محدود مدت کے لیے قیمتوں میں کمی، ”آخری موقع“، ”ابھی خریدیں“، ”ابھی یا کبھی نہیں“ جیسے جملے دراصل مصنوعات کی حقیقی کمی کو ظاہر نہیں کرتے، بلکہ صارف کے صبر، غور و فکر اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں۔ مقصد ضرورت پوری کرنا نہیں، بلکہ فوری فیصلہ کروانا ہوتا ہے، کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سوچنے والا، موازنہ کرنے والا اور انتظار کرنے والا صارف سب سے کم منافع بخش ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کی نشان دہی امریکی ماہرِ نفسیات اور نوبل انعام یافتہ ڈینیئل کینمین اپنی معروف کتاب میں کرتے ہیں، جہاں وہ واضح کرتے ہیں کہ
“People are far more motivated by the fear of losing something than by the prospect of gaining something of equal value.”
یعنی انسان کسی ممکنہ فائدے کے مقابلے میں کسی موقع کے کھو جانے کے خوف سے کہیں زیادہ جلدی اور غیرعقلی فیصلہ کرتا ہے۔ یہی خوف سرمایہ دارانہ مارکیٹنگ میں ”آخری موقع“جیسے جملوں کی اصل بنیاد بنتا ہے۔
یورپی یونین کے سرکاری مسابقتی اداروں نے بھی اپنی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ محدود وقت کے دعوے اکثر حقیقی نہیں ہوتے۔ یورپی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق:
“Urgency claims such as ‘limited time offer’ or ‘only a few left’ are frequently used even when there is no real scarcity.”
جس کا مطلب یہ ہے کہ ”محدود مدت“ یا ”چند ہی باقی ہیں“ جیسے دعوے اکثر اس وقت بھی استعمال کیے جاتے ہیں جب درحقیقت کسی قسم کی کمی موجود نہیں ہوتی۔
برطانیہ کے Competition and Markets Authority نے آن لائن صارف رویّے کے تجزیے میں اس طرزِعمل کو صارف کی عقل کو متأثر کرنے والی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے لکھا:
“Online choice architecture is often designed to push consumers towards quicker decisions, rather than better decisions.”
یعنی ڈیجیٹل مارکیٹ اس انداز سے ترتیب دی جاتی ہے کہ صارف بہتر فیصلہ کرنے کے بجائے جلد فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائے۔
اسی طرح امریکا کی Federal Trade Commission نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی فوریّت پیدا کرنا صارف کو گمراہ کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے، کیوں کہ
“Design practices that pressure consumers into immediate action can impair informed decision-making.”
یعنی ایسے ڈیزائن اور جملے جو صارف کو فوراً اقدام پر مجبور کریں، اس کی باخبر فیصلہ سازی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یورپ اور امریکا کے اپنے اداروں کےان مستند علمی اور سرکاری شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں مصنوعی طلب کی تخلیق محض ایک تجارتی حربہ نہیں، بلکہ ایک منظم نفسیاتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد صارف کو سوچنے، موازنہ کرنے اور انتظار کرنے کے عمل سے محروم کرنا ہے، کیوں کہ ایسا صارف منافع کی رفتار کو سست کر دیتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انھی مغربی معاشروں میں تعلیمی ادارے، تحقیقی جرائد اور صارفین کے حقوق کی تنظیمیں خود اس طرزِتجارت پر مسلسل تنقید کرتی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں کئی بڑی کمپنیوں کو جھوٹی رعایتیں دِکھانے پر کروڑوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے،مگر ہمارے ہاں ان معاشروں کی اندرونی تنقیدInternal-Critiqueکو نظرانداز کر کے صرف ان کے تشہیری بیانیے Advertising Narrativeکو سچ مان لیا جاتا ہے، اور یوں ہم خود اپنی فکری مرعوبيت كو مزيد گہرا کر دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ مغرب کی برائی یا اچھائی نہیں، بلکہ ہماری تنقیدی بصیرت کا فقدان ہے۔ ہم چیزوں کو سمجھنے کے بجائے مان لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم ظاہری چمک دمک سے متأثر ہو جاتے ہیں، مگر اس کے پیچھے کارفرما مفادات، حکمتِ عملیاں اور نفسیاتی حربے دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جب تک ہم اس مرعوبیت سے باہر نکل کر ہر معاشی مظہر کو سوال، دلیل اور شعوری تجزیے کی کسوٹی پر نہیں پرکھیں گے، تب تک ہم صرف چیزوں کے صارف ہی نہیں، بلکہ فکری طور پر بھی ایک منڈی بنے رہیں گے۔









