سماجی معاہدے کی ناکامی اورتشکیل نو کا تصور
پاکستانی معاشرہ کئی دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے، اور اس کے زوال کی وجوہات پر ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی اپنی رائے پیش کی ہے۔ لیکن

سماجی معاہدے کی ناکامی اورتشکیل نو کا تصور
تحریر: حذیفہ بٹ، نارووال
پاکستانی معاشرہ کئی دہائیوں سےمختلف مسائل کا شکار ہےاور اس کے زوال کی وجوہات پر ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین اپنے اپنے فورمز پر ان مسائل کے حل پر آرا پیش کرتے رہتے ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا زوال بہ حیثیت قوم ہماری اخلاقی اور سماجی خرابیوں کا نتیجہ ہے؟ یا اجتماعی مسائل کی بنیادی وَجہ ایک ناکام ریاستی نظام اور حکومتی اداروں کی بدترین کارکردگی ہے؟
اس سوال کا تعلق نہ صرف ہماری اجتماعی شناخت سے ہے، بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقا اور ترقی سے بھی ہے۔ اس مضمون میں ہم ان دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ بہ حیثیت قوم ہماری کمزوریاں کیا ہیں؟ اور کیا ریاستی نظام اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے؟
ریاست اور عوام کے مابین سوشل کنٹریکٹ (سماجی معاہدہ)
ریاست اور عوام کے درمیان سماجی معاہدہ ایک ایسا اصول ہے، جس کے تحت ریاست معاشرے کے افراد کی تنظیم کرتی ہے اور ان پر حکمرانی کرتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کوامن وامان، روزگار، تعلیم، صحت، اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ دوسری طرف، عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی قوانین کی پابندی کریں، ٹیکس ادا کریں اور سماجی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں یہ معاہدہ کتنا کامیاب ہے؟ اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں، تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور صحت کے شعبے میں ناکامی عوام کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔اس حوالے سے پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ سماجی معاہدے کی بابت فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوچکا ہے جو زوال یافتہ معاشرے کی نشان دہی کرتا ہے۔
ریاستی ناکامی کے اَثرات
ریاستی ناکامی کا سب سے بڑا اَثر عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ جب حکومت عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو لوگ غیرقانونی اور غیراخلاقی راستے اپنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے چوری، بدعنوانی اور دیگر غیرقانونی طریقوں سے اپنی جائز و ناجائز ضروریات کو پورا کریں۔ اگر ایک خاندان کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، تو اس کے افراد جائز اور ناجائز کے فرق کو نظرانداز کر کے اپنی بقا کی جنگ لڑیں گے۔
اسی طرح حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کی طرف عدم توجہی نے عوام کو مایوس کر دیا ہے۔ جب لوگ بنیادی تعلیم اور حفظان صحت سے محروم ہوں گے تو وہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے قابل کیسے ہوں گے؟
عوام کی اخلاقی ذمہ داری
اس کے برعکس کسی ریاستی نظام میں عوام کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور پاکستانی عوام ان ذمہ داریوں سے اِنفرادی و اجتماعی طور پر کس حد تک عہدہ برآ ہے ؟ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے، جب اس کے افراد ایمان داری، محنت اور دیانت داری کے اصولوں پر عمل کریں لیکن بدقسمتی سے پاکستانی عوام میں ان اجتماعی رویوں کا فقدان ہے اور اس کے برعکس بدعنوانی، اقربا پروری اور قانون شکنی جیسے رویے عام ہیں۔
تاہم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عوام کے رویے اکثر حکمرانوں کے کردار کا عکس ہوتے ہیں۔ اگر حکمران خود بدعنوانی میں ملوث ہوں، تو عوام سے ایمان داری کی توقع رکھنا بے معنی ہوجاتا ہے۔ مشہور عربی مقولہ ہے: "عوام حکمرانوں کے دین پر ہوتی ہے"یعنی ان کےطوراطوار اپناتے ہیں۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان
پاکستان میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ عوام کو یقین نہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ صحیح جگہ استعمال ہورہا ہے۔ اسی وَجہ سے اکثریت ٹیکس ادا کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہ دو طرفہ مسئلہ ہے۔ اگر عوام اپنے فرائض ادا نہیں کریں گے، تو ریاست کیسے وسائل پیدا کرے گی؟ اور اگر ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی، تو عوام کیسے اس پر اعتماد کریں گے؟
کیا سماجی تشکیل نو ہی اجتماعی مسائل کا حل ہے؟
جب ایک معاشرہ اس نہج پر پہنچ جائے کہ ریاست اور عوام کے درمیان سماجی معاہدہ مکمل طور پر ناکام ہو جائے، تو اس کا نتیجہ اکثر ایک بڑی تبدیلی کی صورت میں نکلتا ہے۔ تاہم یہ ہمہ گیر سماجی تبدیلی صرف حکومت کا تختہ الٹنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب نظام کو تبدیل کر کے ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جائے۔ ایسا معاشرہ جہاں انصاف، مساوات اور بنیادی سہولیات ہر شہری کو دستیاب ہوں۔ یہ تبدیلی صرف اس وقت ممکن ہے جب عوام ایک منظم قوت بن کر جماعت سازی کرے۔ بہ صورتِ دیگر، معاشرہ ہمیشہ انتشار اور افتراق کا شکار رہتا ہے اور معاشرتی تعمیر و تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔