تکمیل ایمان اور خدمت انسانیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • تکمیل ایمان اور خدمت انسانیت

    معاشرے میں کچھ لوگ صرف اِنفرادی عبادات جیسے نماز، روزہ اور نفلی عبادات کو ہی دین کی تکمیل سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    By Asghar Surani Published on Jan 20, 2025 Views 675

    تکمیل ایمان اور خدمت انسانیت

    تحریر: محمد اصغر خان سورانی ، بنوں

     

    معاشرے میں کچھ لوگ صرف اِنفرادی عبادات جیسے نماز، روزہ اور نفلی عبادات کو ہی دین کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے درد و غم میں شرکت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تاہم اسلامی تعلیمات اس قسم کا رویہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام صرف اِنفرادی عبادات پر ہی زور نہیں دیتا، بلکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے، ان کی مصیبتوں کو کم کرنے، اور انسانیت کی خدمت کرنے پر بھی  زور دیتا ہے۔محض اِنفرادی سطح پر خود کو نیک ثابت  کرنے کی کوشش، اسلام کی روح کے منافی ہے۔

    اسلام ایک جامع نظام حیات ہے جو اِنفرادی اور اجتماعی زندگی کو اعلیٰ اخلاقی اقدار پر استوار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ معاشرے میں دوسروں کی فکر اور ان کے حقوق کی پاسداری، ایمان کی تکمیل کا لازمی جزو ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں، ایک مؤمن کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک وہ اپنے ذاتی مفاد سے آگے بڑھ کر دوسروں کی بہتری کے لیے نہ سوچے۔ یہ اصول نہ صرف فرد کے کردار کو نکھارتا ہے، بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور اخوت کی مضبوط بنیاد بھی رکھتا ہے۔

    اسلام میں خدمتِ انسانیت اور معاشرتی ذمہ داریاں 

    معاشرتی ذمہ داریوں میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ، دوسروں کے حقوق کا خیال اور معاشرتی انصاف کے قیام کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ ذمہ داریاں فرد کو معاشرے کا ایک مثبت اور فعال رکن بناتی ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اچھے اخلاق صرف ظاہری دکھاوا کے لیے نہیں، بلکہ ایمان کا حقیقی اِظہار ہیں۔ اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے اسلام تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے، صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں شرکت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ سرگرمیاں معاشرے کی مجموعی ترقی اور بہتری کا باعث بنتی ہیں۔ ان تمام پہلوؤں پر عمل کرنے سے ہی ایمان کی تکمیل ہوتی ہے اور معاشرہ فلاح و بہبود کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

    قرآنی تعلیمات کے مطابق، ایمان کا تقاضا صرف عبادات ہی نہیں، بلکہ دوسروں کی فکر اور ان کی بھلائی بھی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 177 میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا: "نیکی یہ ہے کہ تم اللہ کی محبت میں مال خرچ کرو، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، اور مانگنے والوں پر، اور غلاموں کو آزاد کرنے میں۔"

    اسی طرح، امتِ مسلمہ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے سورۃ آل عمران میں فرمایا: "تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔" (110)

    حضور ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں واضح طور پر بیان فرمایا کہ حقیقی مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہ حدیث شریف معاشرتی تعلقات میں امن و سلامتی کو ایمان کی بنیاد قرار دیتی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے مؤمن کی دوسری بڑی علامت یہ بتائی کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں فرد کے ایمان کا تعلق براہِ راست اس کے معاشرتی رویے سے ہے۔

    انسانیت کی خدمت کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے ایک بہت اہم اصول بیان فرمایاکہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ یہ حدیث انسانی زندگی کا ایک بنیادی مقصد واضح کرتی ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی دوسروں کے لیے فائدہ مند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

     تکمیل ایمان کا فلسفہ حدیث کے تناظر میں:

    حضرت عمار بن یاسر ؓ نے حدیث نبوی کی تشریح میں ایمان کی تکمیل کے لیے تین اہم اصول بیان فرمائے جو معاشرے میں ایک مؤمن کے کردار کو واضح کرتے ہیں۔ یہ اصول نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی کی اصلاح کا باعث بنتے ہیں، بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کی بہتری کا ذریعہ بھی ہیں۔

    پہلا اصول: "اپنے نفس سے انصاف کرنا" ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی ذات کے ساتھ سچائی اور دیانت داری کا معاملہ کرے۔ اس میں اپنی کمزوریوں کا اعتراف، غلطیوں کی اصلاح، اور خود کو ہر برائی سے پاک کرنے کی کوشش شامل ہے۔ یہ انصاف صرف اپنی ذات تک محدود نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا شامل ہے جیسا کہ انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ جب کوئی فیصلہ کرنا ہو تو ذاتی خواہشات کے بجائے عدل و انصاف کو مدنظر رکھا جائے۔

    دوسرا اصول: "دنیا کے لیے سلامتی کا پیغام" ہے۔ یہ صرف زبانی سلام تک محدود نہیں، بلکہ اس سے معاشرے میں امن و سکون، محبت اور خیرخواہی کا عملی فروغ شامل ہے۔ ایک مؤمن کی شناخت یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جائے، اپنے اقوال و افعال سے لوگوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان پیدا کرے۔ اس کا ہر عمل معاشرے میں امن و آشتی کا پیغام دے۔

    تیسرا اصول: "تنگدستی کے باوجود خرچ کرنا" جو کہ ایمان کی ایک اعلیٰ نشانی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا۔ یہ صفت انسان کی سخاوت اور ایثار کی علامت ہے۔ اس میں اپنی ضروریات کو نظرانداز کرکے دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دینا شامل ہے، جو کہ ایمان مکمل ہونےکی نشانی ہے۔

    یہ تینوں اصول آپس میں مربوط ہیں اور ایک مکمل نظام تشکیل دیتے ہیں۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے، دنیا کے لیے سلامتی کا پیغام معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے، اور تنگدستی کے باوجود خرچ کرنا معاشی و معاشرتی توازن کا باعث بنتا ہے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے نہ صرف فرد کی شخصیت نکھرتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن، خوش حالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

    تعامل صحابہ اوربزرگان دین کا دستور:

    اسلامی تاریخ میں بزرگانِ دین نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ دین کی حقیقی روح صرف اِنفرادی عبادات میں نہیں، بلکہ دوسروں کی خدمت اور معاشرے کی فلاح و بہبود میں ہے۔ خلفائے راشدینؓ نے اس ضمن میں بے مثال کردار ادا کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے ایک سسٹم کے تحت اپنی تمام جائیداد اسلام کی خدمت میں پیش کر دی اور غلاموں کو آزاد کرانے میں اپنا مال خرچ کیا۔ خلیفہ بننے کے باوجود انھوں نے انتہائی سادہ زندگی گزاری۔حضرت عمر ؓکا طریقہ یہ تھا کہ وہ راتوں کو شہر کا چکر لگا کر غریبوں کی مدد کرتے۔ کئی بار خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلایا۔اسی طرح حضرت عثمان غنی ؓنے اپنی تجارت کے منافع سے ہمیشہ غریبوں کی مدد کی۔ جیش العسرہ کے موقع پر پوری فوج کا سامان خرید کر دیا اور مدینہ کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ حضرت علی ؓبھی اپنے حصے کا کھانا یتیموں میں تقسیم کر دیتے اور غریبوں کی مدد کے لیے خود محنت مزدوری کرتے تھے۔

    صحابہ کرام میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کا نام نمایاں ہے، جنھوں نے تجارت سے کمائے گئے مال کا بڑا حصہ خیرات کیا۔ آپؓ نے مدینے کے نصف گھرانوں کو قرض دیا۔ حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ نے اپنا سب سے قیمتی باغ اللہ کی راہ میں دے دیا اور مسجد نبوی کے قریب کا باغ بھی وقف کر دیا۔

    اولیاء اللہ نے بھی اسی راہ پر چلتے ہوئے معاشرے کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ حضرت داتا گنج بخش ؒ نے غریبوں کے لیے  کھانے کا اہتمام کیا اور علم کی ترویج کے لیے مدرسہ قائم کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ  روزانہ ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلاتے اور کسی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتے۔ حضرت علی ہجویریؒ (داتا گنج بخش) نے لاہور میں غریبوں کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور علم و معرفت کی ترویج کے لیے خود کووقف رکھا۔ان بزرگانِ دین کے طرزِ عمل کے نتیجے میں معاشرے میں محبت و اخوت کا فروغ ہوا، غریب و امیر کے درمیان فاصلے کم ہوئے، اور علم و آگہی عام ہوئی۔ معاشرتی انصاف کے قیام کے ساتھ ساتھ امت کی یکجہتی اور اتحاد کو بھی فروغ ملا۔ ان کی زندگیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں اِنفرادی عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی خدمت بھی ایمان کا لازمی جزو ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے

    خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق، دین کا حقیقی تصور صرف اِنفرادی عبادات تک محدود نہیں ،بلکہ اس میں اجتماعی خدمت، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور انسانی فلاح و بہبود شامل ہے۔ قرآن و حدیث کے احکامات اور بزرگانِ دین کی عملی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان کی تکمیل دوسروں کے ساتھ حسن سلوک، معاشرتی انصاف اور ضرورت مندوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک مسلمان کا کردار اِنفرادی عبادات اور اجتماعی ذمہ داریوں کا حسین امتزاج ہونا چاہیے۔اس کے لیے اسے ایک صالح سسٹم کے قیام کے لیے پہلے جماعتی سطح پر افراد کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور قومی صالح تبدیلی  لانے کے بعد یہی کام پھر بین الاقوامی سطح پر کیا جا سکتا ہے۔اس کام کے سلسلے میں  ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ لاہور ہماری راہ نمائی کرنے  میں پیش پیش ہے۔ہمیں ان سے وابستہ رہنا چاہیے اور ان کی ہدایات پر صدق دل سے عمل کرنا چاہیے۔

    Share via Whatsapp