اہلِ شعور کی صحبت
انسانی ارتقاء بغیر کسی نظریے کے ممکن نہین، کسی بھی نظریے یا وِژن کی پیمائش اس پہ بننے والی تربیت یافتہ و باشعور جماعت پہ ہوتی ہے۔
انسانی ارتقاء بغیر کسی نظریے کے ممکن نہین، کسی بھی نظریے یا وِژن کی پیمائش اس پہ بننے والی تربیت یافتہ و باشعور جماعت پہ ہوتی ہے۔
نبی پاک حضرت محمدﷺ تمام عمدہ اخلاق کو مکمل کرنے والے ہیں اور آپکی صحبت میں رہنے والوں کو صحابہ کا لقب ملا کہ انہوں نے نبوت کےانوارات اور اخلاق جذب کئے
رمضان المبارک کی جدوجہد اور عیدالفطر کے تہوار کا مقصد تقوی کا حصول اور معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ دینا ہے
جس معاشرے میں طبقاتی سوچ پیدا ہوجائے ایک طبقے کو اہمیت دی جائے اور دوسرے کو نظر انداز کیا جائے تو وہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے
اس مضمون کا بنیادی مقصد اور مرکزی خیال انسان کی حقیقیت اور مقام کو واضع کرنا ھے جس میں انسانی عقل و قلب کی صحبت صالحہ میں تربیت کو واضع کیا گیا ھے
صحیح معنوں میں تبدیلی اس وقت ممکن ہے جب سسٹم کو تبدیل کیا جائے ورنہ یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔
تہذیب و ثقافت، زبان
ہمارے اجتماعی اخلاق ہمارے اوپر رائج نظام حکومت کے عکاس ہوتے ہیں برے اخلاق برے نظام کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اعلی اخلاق اچھے نظام پر منحصر کرتے ہیں
سوشل میڈیا پر قرآنی آیات اور احادیث کا ابلاغ بغیر سوچے سمجھے اور فہم و ادراک، تصدیق اور شعور کے بغیر کیا جاتا ہے ۔جوکہ غلط ہے۔
اس تحریر کا مقصد صحبت کے معاشرے پر اثرات کو بیان کرنا ہے