انسان کی حقیقت؛ خیالات و افکار اور شعور و لاشعور کی حیثیت واہمیت
اس مضمون کا بنیادی مقصد اور مرکزی خیال انسان کی حقیقیت اور مقام کو واضع کرنا ھے جس میں انسانی عقل و قلب کی صحبت صالحہ میں تربیت کو واضع کیا گیا ھے
اس مضمون کا بنیادی مقصد اور مرکزی خیال انسان کی حقیقیت اور مقام کو واضع کرنا ھے جس میں انسانی عقل و قلب کی صحبت صالحہ میں تربیت کو واضع کیا گیا ھے
صحیح معنوں میں تبدیلی اس وقت ممکن ہے جب سسٹم کو تبدیل کیا جائے ورنہ یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔
ہمارے اجتماعی اخلاق ہمارے اوپر رائج نظام حکومت کے عکاس ہوتے ہیں برے اخلاق برے نظام کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اعلی اخلاق اچھے نظام پر منحصر کرتے ہیں
سوشل میڈیا پر قرآنی آیات اور احادیث کا ابلاغ بغیر سوچے سمجھے اور فہم و ادراک، تصدیق اور شعور کے بغیر کیا جاتا ہے ۔جوکہ غلط ہے۔
اس تحریر کا مقصد صحبت کے معاشرے پر اثرات کو بیان کرنا ہے
اس تحریر کا مقصد لوگوں کو اسلام کی عبادات کا بطور ایک نظام سے آگاہ کرنا ہے
معاشی نظام کے بغیر نہ کوئی مزہب قیام پزیر ہو سکتا ہے نہ ہی لوگوں کے اخلاق بلند کیے جا سکتے ہیں سرمایہ داری نظام ہمیشہ لوگوں کو مسائل میں الجھا رکھتا ہ
ظالم نظام کا شعور حاصل کرنا ہی انسانی امتیاز ہے اور اسی شعور کو حاصل کر کے ہی انسانی سماج کو ترقی دی جا سکتی ہے