ٹیکسز کا فرسودہ نظام اور پاکستانی معیشت
کسی بھی معاشرے میں ریاست اور حکومت وہاں پر بسنے والے عوام پر ٹیکسز لگانا اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے اور ٹیکسز کا نفاذ انسانی تاریخ کا اس وقت سے حصہ ہیں،

ٹیکسز کا فرسودہ نظام اور پاکستانی معیشت
تحریر: فہدمحمدعدیل۔ گوجرانوالہ
کسی بھی معاشرے میں ریاست اور حکومت وہاں پر بسنے والے عوام پر ٹیکسز لگانا اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے اور ٹیکسز کا نفاذ انسانی تاریخ کا اس وقت سے حصہ ہیں، جب سے انسانوں نے سماج بنا کر اجتماعی امور کو سرانجام دینا شروع کیا ۔ ریاست کے معاشی فکر و فلسفہ کی بنیاد دینی ہو یا انسان کی اختراعی ہو، اس کی منطق ٹیکسز سے پیسے اکٹھے کر کے اجتماع کی ترقی اور بہتری کے لیے خرچ کرنا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں ٹیکس کے عوض ریاستی ادارے سماج کے باسیوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں تو وہ عوام خوشی سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ٹیکسز سے ہونے والی وصولیوں سے مقتدرہ ذاتی عیاشی اور غیرپیداواری اخراجات کا بوجھ عوام پر ڈالیں تو عوام کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے، جیسا کہ پاکستان کی معیشت کا حال ہے ۔
ٹیکسز کا اہم قانون یہ ہے کہ ملک کے عوام پر ان کے معاشی وسائل کی نسبت ، ٹیکس کا بوجھ ڈالا جائے۔ تا کہ انسان اجتماعی فطری طور پر معاشی ترقی کی رفتا ر میں شامل ہو سکے۔ پاکستان کی تاریخ میں ٹیکس کولیکشن کے جتنے قوانین بنائے گئے، عوام الناس پر غیرمنصفانہ بوجھ ڈالا گیا، ایلیٹ کلاس،کاروباری،تاجر،صنعت کار اور فیوڈل جاگیردار نے ہمیشہ سے ٹیکس سے بچنے کا راستہ اختیار کیا۔ جدید ماہرینِ معاشیات ٹیکسز کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں!
1۔ ڈائریکٹ ٹیکسز (جو بلا واسطہ افراد کی آمدنی پر لگایا جائے، جیسا کہ انکم ٹیکس ، ویلتھ ٹیکس وغیرہ)
2۔ان ڈائریکٹ ٹیکسز (جو بالواسطہ طور پر عوام پر لگائےجائیں، جیسا کہ سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی، ٹول ٹیکسز وغیرہ) ۔
ایف بی آر کی شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ کو مدنظر رکھا جائے تو درج ذیل اعداد و شمار ظاہر ہوتے ہیں۔
ٹیکس کی اقسام
سال 2024-25ء کی متوقع آمدنی : ڈائریکٹ (بلا واسطہ) ٹیکس 4586
سیلز ٹیکس 4327
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 701
کسٹم ڈیوٹی 1559
کل 11173
اعداد و شمار بلین میں ہیں)
مندرجہ بالا گوشوارہ کے مطابق سال 2024-25 ء میں بالواسطہ ٹیکسز (4327+701+1559) جو کہ عوام نے دینے ہیں 59 فی صد ہیں اور بلاواسطہ ٹیکسز جو کہ لوگوں کی آمدنیوں پر لگائے جانے ہیں، ان کا تناسب 41 فی صد ہے ۔
اگر بلاواسطہ ٹیکسز کی بات کی جائے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکس امیر طبقہ دے رہا ہے ؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق تنخواہ دار طبقہ، تاجر اور کاروباری طبقہ سے 1550 فی صد زیادہ ٹیکس دے رہا ہے ۔ 111 بلین روپے میں سے 28بلین روپے سرکاری ملازمین (جن کو سالانہ تقریباً 20 سے 25 فی صد اضافہ مل رہا ہے ) اور 83 بلین روپے غیرسرکاری ملازمین ، جن کی تنخواہیں بڑھتی بھی نہیں ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر پاکستان میں ٹیکسز صرف اَور صرف عوام اور محنت کش طبقات دے رہے ہیں۔ یعنی ملکی معیشت کا پہیہ محنت کش کے خون سے چل رہا ہے اور متمول ، بارسوخ طبقات عیاشی کی زندگی گزارنے میں مگن ہیں۔
اَب اگر بالواسطہ ٹیکسز کی بات کی جائے تو ملک میں پیٹرول، بجلی ، اشیائے خودو نوش، ملبوسات اور تمام اخراجات جن کو عوام بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی غرض سے خرچ کرتے ہیں، ان تمام اشیا کی خریداری پر حکومت کو بھتہ (سیلز ٹیکس ) دینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس کا نظام آئی ایم ایف برانڈ وزرائے خزانہ اور ماہرین نے متعارف کروایا،جس کے تحت ٹیکس ہر صورت میں صارف کو ادا کرنا ہوتا ہے (جوکہ ٹیکس کے بنیادی فلسفے پر بھی پوری طرح سے نہیں اُترتا) ، ہر مینوفیکچرر، امپورٹر،ریٹیلر کو وِدہولڈنگ ایجنٹ قراد دے دیا گیا،یعنی جب وہ اپنی پراڈکٹ کو بیچے گا تو وہ عوام سے ٹیکس اکٹھا کرے گا اور بعد میں گورنمنٹ کو جمع کروائے گا۔ یہ فرسودہ نظام اس معاشرے میں نافذ کیا گیا، جس کی تقریباً 60 فی صد معیشت غیردستاویزی ہے،جس کا یہ نتیجہ ہےکہ اربوں روپے کے ٹیکس مڈل مین عوام سے وصول توکرتا ہے لیکن قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتا قومی خزانہ کو نقصان ہوتاہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق، اپریل 2023ء میں شیل کمپنی نے 314.81 بلین روپے سے سیلز ٹیکس فراڈ کے ذریعے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ بزنس ریکارڈر کی ستمبر 2023 ءکی رپورٹ کے مطابق جعلی سیلز ٹیکس انوائسز کے ذریعے سے 5.6 ٹریلین روپے کی ٹیکس چوری کی گئی۔ ٹریبیون کی اکتوبر 2024ء کی رپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی مختلف بڑی کمپنیاں سیلز ٹیکس میں 3.4 ٹریلین روپے کا سالانہ فراڈ کرتی ہیں۔
اسی رپورٹ میں وزیر موصوف نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں تین لاکھ مینوفیکچررز میں سے ایف بی آر کے پاس صرف 14 فی صد رجسٹرڈ ہیں، یعنی سیلز ٹیکس قومی خزانہ کا ایک ایسا سوراخ ہے، جس سے ملک کی مقتدرہ اور طاقت ور بزنس کمیونٹی ہر سال کھربوں روپے لوٹ رہی ہے- سیاست دان ہوں یا بیورو کریسی یا اس ملک کا معاشی آقا آئی ایم ایف ہو، سب تماشہ دیکھتے ہیں۔ ریاست کا عدالتی نظام ہو یا کہ احتساب کے ادارے سب اس وائٹ کالر کرائم کو روکنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی عوام اپنا خون بیچ کر بجلی ، گیس اور پیٹرول کے اخراجات اُٹھا رہی ہے ، کتنے ہی لوگ ہر سال بجلی بلوں کی ادائیگیوں پر خودکشیاں کر جاتے ہیں، اس ملک کا طاقت ورہ طبقہ ناصرف ٹیکس جمع نہیں کرواتا، بلکہ اربوں روپے قومی خزانے سے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر رہا ہے ۔ موجودہ اعدادوشمار کے مطابق اگر ٹیکس کے گوشوارے جمع کروانے کی بات کی جائے تو ابتک سال 2024ء سالانہ ٹیکس گوشوارے 44 لاکھ افراد نے جمع کروائے، جس میں سے 16 لاکھ افراد نے صفر انکم ٹیکس جمع کروایا ہے ۔ ملک کی مجموعی آبادی کے تناسب سے حکومت کو اپنی آمدنی اور اخراجات کا حساب دینے والے افراد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ۔
ان تمام حقائق کی روشنی ہے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سماجی جرائم کی طرح معاشی جرائم میں بھی ریاست کا کردار ہمیشہ سے طاقت ور اور بارسوخ طبقات کی خوشنودی حاصل کرنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں تحفظ کرنے کا بن چکا ہے ۔ نتیجتاًملک کا محنت کش طبقہ اور عوام ٹیکسز کا بوجھ اُٹھارہی ہے۔ جس میں سے سب سے زیادہ ادائیگیاں بیرونی قرضہ جات کے سود میں صرف ہورہا ہے۔ ملک اس وقت مزدور ،محنت کشوں اورعوام کے لیے معاشی قیدخانہ اور مقتدرہ اور طاقت ور طبقات کی عیاش گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ معاشی خوش حالی کا خواب اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک عدل و انصاف کی بنیاد پر ٹیکسز کا نظام قائم نہیں ہوتا۔