پاکستان میں صنعتی پالیسی کا فقدان
معیشت انسانی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہےاور ا س کا انحصار وہاں قائم ملکی معاشی نظام پر ہوتا ہے۔۔۔۔

پاکستان میں صنعتی پالیسی کا فقدان
تحریر: انجینئر قمرالدین۔ راولپنڈی
معیشت انسانی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہےاور ا س کا انحصار وہاں قائم ملکی معاشی نظام پر ہوتا ہے۔معاشی نظام کی بنیاد زراعت، تجارت اور صنعت پر ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر شعبہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن آج کے جدید صنعتی دور میں معیشت کا زیادہ تر انحصار صنعت پر ہے۔ آج جدید زراعت بھی صنعت کی مرہونِ منت ہے،کیوں کہ کاشت سے لے کر پیداوار کے آخری مراحل تک صنعت کا بنیادی عمل دخل ہوتا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ آج کے جدید دور میں صنعت کے بغیر کسی بھی ملک کا معاشی طور پر مستحکم ہونا ممکن نہیں ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زیادہ تر عوام کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔اس لیے ہر حکومت زرعی ترقی کے حوالے سے بیان بازی ضرور کرتی ہے۔ اگرچہ حقیقت میں نہ تو زراعت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے آج تک کوئی مخلصانہ کوشش ثابت ہوئی ہے اور نہ ہی یہ پالیسیز جدید زراعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتی ہیں ،اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تقریباً تمام حکومتی اَدوار میں صنعتی ترقی کے حوالے سے کوئی اہم قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ چناں چہ آج کے جدید صنعتی دور میں جہاں ملکوں کی ترقی کا زیادہ دارومدار صنعتی پیداوار پر ہے، وہاں ہمارے حکمرانوں کا صنعتی ترقی پر توجہ نہ دینا افسوس ناک ہے۔
آج پاکستان کو سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز درآمد کرنا پڑتی ہے، جس پر قیمتی زرِمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ اس زرِمبادلہ کو پورا کرنے کے لیے ہر سال قومی آزادی اور ملکی اثاثے گروی رکھ کر آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری سود اور سخت شرائط پر قرض لینا پڑتا ہے۔ یہ قرض اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اَب پاکستان کی بقا کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ حکومتی ذمہ داران جو قرض سے نجات اور گِرتی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے صرف ٹیکس نظام کی بہتری کو حل قرار دیتے ہیں، وہ معاشی ترقی اور صنعتی پیداوار کے فروغ کے لیے قانون سازی پر خاموش کیوں ہیں؟
اسی طرح آئی ایم ایف جو بہ ظاہر پاکستان کی معیشت کے لیے فکر مند دکھائی دیتا ہے اور بجلی و گیس مہنگی کرکے معیشت کی بہتری کی بات کرتا ہے، وہ صنعتی پیداوار کے فروغ پر زور کیوں نہیں دیتا؟ کیا اس کے پیچھے عالمی معاشی نظام کو مضبوط کرنے کے وہ مذموم مقاصد ہیں، جن کی وَجہ سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاتی؟
آئی ایم ایف کی شرائط میں یہ پابندی شامل ہوتی ہے کہ قرض کی رقم پیداواری منصوبوں پر خرچ نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ رقم صرف غیرپیداواری منصوبوں کے لیے مختص ہوتی ہے۔ ایسے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے بھاری رقم درکار ہوتی ہے اور ان کو چلانے کے لیے مزید سبسڈی کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔
یہی وَجہ ہے کہ غیرپیداواری منصوبے عالمی مالیاتی اداروں کی ترجیح ہوتے ہیں، تاکہ ممالک مزید قرضوں کے جال میں پھنستے جائیں اور ان کی معیشت کبھی خودکفیل نہ ہوسکے۔
آج سامراجی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی معیشت کے زنجیر میں جکڑ رکھا ہے، جہاں وہ اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر کے ان ممالک کی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں اور یوں اِن ممالک کے حکمران سامراجی طاقتوں کے اشاروں پر ایسی قانون سازی کرتے ہیں کہ جس سے ایک طرف تو ان سامراجی ممالک کی استحصالی پالیسیوں کے تسلسل کو دوام ملتا
ہے تو دوسری طرف قو می وسائل کو بے رحمی سے لوٹنے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے راستہ ہموار ہوتا چلا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی پایسز اِسی سامراجی ایجنڈے کے تحت بنتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان بھی قرضوں کے اِس عالمی معاشی نظام کا اسیر بن چکا ہے ۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہمارے حکمران چاہ کر بھی صنعتی ترقی کے لیے پالیسی سازی نہیں کرسکتے، کیوں کہ نہ تو وہ اس کام کے اہل ہیں اور نہ ہی مجاز۔ ان کا انتخاب درحقیقت سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کیا جاتا ہے، تاکہ وہ ایسی ظالمانہ اور استحصالی پالیسیاں ترتیب دیں جو ملکی معیشت کو مزید کمزور کریں اور عوام کے معاشی حالات کو دن بدن ابتر بناتی چلی جائیں۔اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈبینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کا قیام ترقی پذیر ممالک کی معیشت کی بہتری کے لیے نہیں ہوا، بلکہ یہ تو قرضوں کے عالمی معاشی نظام کے وہ استحصالی ادارے ہیں، جن کا کام غریب ممالک کو قرضوں کی زنجیر میں جکڑ کر اِن کی آزادی کو سلب کرنا ہے ۔
آج کے جدید صنعتی دور میں صنعت کے بغیر معاشی خوش حالی کا تصورکرنا ایک ناقص سوچ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آج ہمیں اپنے سے بعد آزاد ہونے والے پڑوسی ملک چائنا سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے انھوں نے تھوڑے ہی عرصے میں صنعتوں کا ایک جال بچھا کر نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کیا، بلکہ بڑی برآمدات سے ملکی معیشت کو ترقی دی کہ آج اُن کی معیشت دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں نمایاں حیثیت کا درجہ رکھتی ہے۔اس کے برعکس پاکستان کی معیشت آئے روز زوال کا شکار ہے، جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک بہت بڑی وجہ َصنعتی پالیسز کا فُقدان ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اس بات کا شعور حاصل کرے کہ کیسے ایک غلام اور استحصالی نظام مادی وسائل سے مالا مال ملک کی معیشت کو پھلنے پھولنے سے روکتا ہے اور کیسے ہمارے حکمران اِستحصالی نظام کی معاونت کرتے ہیں؟چناں چہ معاشی استحکا م اور خوش حالی کا واحد حل اِس ظالمانہ نظام کی تبدیلی اور اس کی جگہ ایک عادلانہ نظام کا قیام ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عادلانہ نظام کے قیام کے لیے درست عملی جدوجہد کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔ آمین!