پاکستان کے مسائل کی اَصل جڑ
یقیناً آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور پاک و ہند، بنگلادیش کے باسیوں کو انگریزوں کے 200 سالہ ظالمانہ تسلط سے آزادی ملنا اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا ۔۔۔۔۔

پاکستان کے مسائل کی اَصل جڑ
تحریر : انجینئر قمر الدین ۔ راولپنڈی
یقیناً آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور پاک و ہند، بنگلادیش کے باسیوں کو انگریزوں کے 200 سالہ ظالمانہ تسلط سے آزادی ملنا اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم تھا۔ یہ آزادی کیسے ممکن ہوئی اور اس کے لیے کن آزادی پسندوں نے کتنی قربانیاں دیں، یہ ہمارے موضوع کا دائرہ کار نہیں لیکن بہرحال اتنا جاننا ضروری ہے کہ اس تحریکِ آزادی میں اُن لاکھوں حریت پسندوں کا خون اور بے شُمار قربانیاں شامل ہیں، جن کا تعارف بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں کو نہیں کرایا گیا۔
بہ ظاہر تقسیمِ ہند کے وقت یہ نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان میں اِسلام کا نفاذ ہوگا اور مسلمان آزادانہ طور پر دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں گے، جہاں ریاست اپنی عوام کے حق میں فیصلے کرنے میں آزاد ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ نعرے اور خواب تھے جس نے دو قومی نظریہ پر قائم ہونے والی تحریک پاکستان میں ایک جذباتی ماحول پیدا کیا اور ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان کو ایک آزاد خطے کے طور پر قائم کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ 77 سال گزرنے کے باوجود ان میں سےکوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، نہ پاکستان فلاحی ریاست بنا اور نہ ہی اس کو آج تک آزاد فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا، بلکہ حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عوام میں1947ء میں ہونے والی تقسیمِ ہند پر سوال اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد کیا تھا؟ تقسیم ہند کی اصل حقیقت کیا ہے؟ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم آج بھی سیاسی غلامی، معاشی بدحالی اور نظام ظلم کا شکار ہیں۔
وطنِ عزیز کی موجودہ صورتِ حال
آج معیشت کی یہ حالت ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً نصف آبادی کو اپنی لپیٹ میں لینے کو ہے۔ سیاسی نظام کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثیں اور منظور ہونے والے تمام بِلز ایک خاص طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں، اِن کا عوام کے حقوق سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کے کَرب سے ہر پاکستانی گزر رہا ہے۔ لیکن جس بات سے پاکستانی نوجوان لاعِلم ہیں وہ ہے "ان مسائل کی اصل جڑ"
کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کا دَارومدار وہاں پر قائم نظام پر ہوتا ہے، اگرنظام عدل و انصاف پر قائم ہے تو اجتماعیت ترقی کرتی ہے، لیکن اگر نظام کی بنیاد ظلم پر ہے تو پھر وہ عوام کا استحصال کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے نظام کی اَساس لادین فکر وفلسفہ پر ہے اور برطانیہ کے غلامی کے عہد کی عکاس ہے۔ جیسے 1935ء کا انڈین ایکٹ، 1861ء کا پولیس ایکٹ اور 1860ء کا پینل کوڈ وغیرہ۔
1947ء میں وطن عزیز پاکستان کو ظاہری آزادی تو مل گئی کہ انگریز یہاں سے چلا گیا، لیکن نظام مملکت کے تمام شعبے اسی عہد کے رہے۔ حقیقت میں ہمیں نہ تو آزادی ملی اور نہ ہی ہم اِسلام کے فکر وفلسفہ کے اَمین ہوسکے، بلکہ انگریزوں (ان کے وفادار مقامی طبقوں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں) کی اقلیت پر مشتمل وفادار ٹیم کے زیرِاثر آج بھی وہی چند خاندان اس ملک پر کے اختیارات پر قابض ہیں اور قائم طبقاتی نظام صرف اُن کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔
یہ نظام، سیاست میں میکاولی، معیشت میں ایڈم سِمتھ اور نظامِ تعلیم میں لارڈمیکالے کے فکر وفلسفہ پر قائم ہے اس لیے پاکستان کا نظام طبقاتی، سرمایہ دارانہ اور استحصالی فکر پر مبنی ہے۔ یہ کسی صورت میں عوام کو آزادی اور معاشی خوش حالی نہیں دے سکتا بلکہ یہ چند سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی بقا اور ترقی کے لیے قائم ہے۔ اس نظام میں یہ سکت نہیں کہ عوام کو عدل وانصاف اور حقوق دے سکے بلکہ یہ نظام معاشی بدحالی، فرقہ واریت اور سیاسی شعور سَلب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کی جمہوریت بھی دکھلاوے کی ہے اور حکومت اُسی سیاسی جماعت کو ملتی ہے جو سامراجی پالیسیوں کا تسلسل چاہتی ہے۔ 77 سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب نظام نے چاہا ایک پارٹی کو حکومت دے دی اور اگلے مرحلے میں جب نظام کو اس پارٹی سے خطرہ محسوس ہوا تو اُس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ جمہوریت اور حقوق کے نام پر نوجوان کو روٹی کپڑا مکان، نظامِ مصطفیٰ، جاگ پنجابی جاگ، ووٹ کو عزت دو اور تبدیلی جیسے نعروں کے پیچھے لگا کر ان کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو نظام ظلم کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ اس دوران نظامِ ظلم نہ صرف اپنی اصلی حالت پر قائم رہا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوا۔
نوجوانوں کا فریضہ
آج تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یہ جاننا ہو گا کہ ملک پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار یہ طبقاتی نظامِ ظلم ہے، جس نے حکمران اور مقتدرہ طبقے کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر، ان کے ہر طرح کے حقوق سلب کر ے اور اُن میں اپنے حقوق کے حصول کا سیاسی شعور نہ پیدا ہونے دیا جائے۔ اس لیے جب تک یہ نظام قائم ہے، تب تک کسی قسم کی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ کوئی جماعت کتنے ہی خوب صورت نعرے کیوں نہ لگائے، خواہ وہ نعرہ انقلاب کا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ جماعت اس نظام کا حصہ ہے تو وہ نعرہ صرف ایک دھوکا ہے۔ لہذا اس نظام میں رہ کر تبدیلی کی بات کرنا خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں۔
آج نوجوان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نظامِ ظلم کس طرح مسائل کو جنم دیتا ہے اور اس کے قائم ہوتے ہوئے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جب تک نظام ظلم کو سمجھنے کی گِرہ نہیں کھلتی، تب تک نوجوان کے سامنے صحیح لائحہ عمل بھی نہیں آسکتا اور نہ ہی درست جدوجہد ممکن ہوسکتی ہے۔ ہمارا ملک پاکستان بھی مسائل کی دلدل سے اُس وقت تک نہیں نکل سکتا ،جب تک قائم نظامِ ظلم کے خلاف شعوری جدوجہد نہ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وطنِ عزیزکے حالات درست کرنے کےلیے شعوری جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!