نظامِ ظلم اور اِنفرادی محنت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • نظامِ ظلم اور اِنفرادی محنت

    شمس کو جلد ہی یہ ادراک ہو گیا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ اس کی محنت کی کمی یا تعلیم کا معیار نہیں، بلکہ وہ فرسودہ نظام ہے جو اس کی محنت کو ۔۔۔۔

    By Asghar Surani Published on Feb 17, 2025 Views 344

    نظامِ ظلم اور اِنفرادی محنت

    تحریر: محمد اصغر خان سورانی۔ پشاور

     

     قربانیوں کا خواب:

    پشاور کے مرکزی شہر سے کچھ دور، ایک چھوٹے سے گاؤں میں صابر خان عرف صابری ماما، گاؤں کے خان کی دی ہوئی زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کھیتی باڑی کرتا تھا۔ خان صاحب کے لیے موسم کے مطابق مکئی، گندم اور سبزیاں اُگاتا تھا۔ کچھ فصل خان کے گھر بھیج دیتا اور ایک تہائی حصہ اپنے لیے رکھ لیتا۔ اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اپنے اکلوتے بیٹے شمس کو تعلیم دِلانا تھا۔صابری ماما نے اپنی جوانی میں دیکھا تھا کہ پڑھے لکھے لوگ کیسے بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھتے ہیں اور کس طرح ان کی عزت ہوتی ہے۔ اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے وہ دن رات محنت کرتا رہا۔

    شمس بچپن سے ہی ہونہار تھا۔ سکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتا۔ جب وہ میٹرک میں پہلے نمبر پر پاس ہوا تو پورے محلے میں خوشی کے طور پر ابلے ہوئے چنے بانٹے گئے۔ صابری ماما کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ اسی دن اس نے عزم کیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، وہ اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دِلائے گا۔کالج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے صابری ماما نے پہلے اپنی بیوی کےزیورات بیچے۔رقم ختم ہونے پر خان سے سود پر قرض لیا۔ شمس کو معلوم تھا کہ اس کی تعلیم پر کتنی قربانیاں دی جا رہی ہیں، اسی لیے وہ دن رات محنت کرتا۔ گاؤں میں اکثر بجلی نہ ہونے کی صورت میں چراغ یا موم بتی کی روشنی میں پڑھتا تھا۔جب شمس نے یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی تو گاؤں والوں نے بھی اس کامیابی کا جشن منایا۔ سب کہتے، "دیکھو، صابری ماما کا بیٹا پڑھ گیا ہے، اَب یہ خاندان غربت سے نکل جائے گا"۔ 

    نظام ظلم کی اندھیر نگری:

    شمس نے اپنی ڈگری ہاتھ میں لے کر بڑے شہروں کا رخ کیا۔ ہر دفتر اور ہر ادارے میں نوکری کے لیے درخواست دی، لیکن ہر بار یہی جواب ملا، آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔ وہ سوچتا رہتا کہ تجربہ کہاں سے لاؤں جب کوئی موقع ہی نہیں دے رہا۔

    آخرکار ایک پرائیویٹ سکول میں ملازمت ملی۔ پرنسپل نے پہلے دن ہی شرط رکھ دی، "چھ ماہ تک کوئی تنخواہ نہیں ملے گی، یہ آپ کی ٹریننگ کا وقت ہے"۔ شمس نے سوچا، کوئی بات نہیں، کم از کم تجربہ تو ملے گا۔ چھ مہینے کی "ٹریننگ" کے بعد جو تنخواہ شروع ہوئی وہ صرف رکشے کے کرائے کے برابر تھی۔ حکومت کا یہ دعوی کہ "تعلیم سب کے لیے ترقی کا راستہ ہے"کھوکھلا نعرا ثابت ہوا۔ سرکاری نوکریوں میں میرٹ کی فہرستوں میں اس کا نام سب سے اوپر ہوتا، لیکن سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے ملازمت نہ ملتی۔ ایک دن کسی نے بتایا، "بھائی! یہاں سفارش چاہیے یا پھر پچیس لاکھ روپے۔" شمس سوچتا، نہ تو سفارش ہے، نہ اتنے پیسے۔ ایک دن سب سے بڑا دھچکا لگا۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد انٹرویو کا انتظار کررہا تھا کہ ریجیکشن لیٹر مل گیا "آپ اوور ایج ہیں۔" وہ سوچنے لگا، کتنے سال کوششمیں گزر گئے، اَب اوور ایج ہوگیا ، یہکیا سسٹم ہے ۔۔۔

    ظالمانہ نظام کی ناانصافی:

    شمس کو جلد ہی یہ ادراک ہوگیا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ اس کی محنت کی کمی یا تعلیم کا معیار نہیں، بلکہ وہ فرسودہ نظام ہے جو اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ ہر جگہ یہ پیغام واضح تھا کہ تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں، بلکہ "اہلیت" کا مطلب رشوت دینا یا طاقت ور افراد کے ساتھ تعلقات رکھنا ہے۔ ادھر اس کے دوسرے ساتھی اعلیٰ پوسٹوں پر تعینات ہونے لگے، جس کی وَجہ سے وہ احساس کمتری اور مایوسی میں مبتلا ہونےلگا۔

    مایوسی کا سودا:

    ایک دن اسکول سے لوٹتے ہوئے، شمس کا سامنا اپنے پرانے بچپن کے دوست، ملک جبارخان سے ہوا۔ جبارخان، جو کبھی اسکول میں نالائق اور شرارتی طالب علم کے طور پر مشہور تھا، اَب علاقے کا تحصیل ناظم بن چکا تھا۔ شمس نے حیرانی سے اس کی خوش حالی اور وقار کو دیکھا، جب کہ جبارخان نے مسکراتے ہوئے کہا "پڑھائی میں تم نے وقت برباد کر دیا، شمس بھائی! اگر مجھ سے سیکھتے، تو آج تم بھی میری طرح زندگی گزار رہے ہوتے۔ آؤ میرے ساتھ، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔جبارخان نے شمس کو اپنے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی اور مایوسی کے بوجھ تلے دَبے شمس نے یہ موقع قبول کرلیا۔ جلد ہی شمس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سرکاری وسائل کو دھوکے سے اپنی جیب میں منتقل کیا جاتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں گھپلوں کے ذریعے لاکھوں کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں۔  اس کے ذہن میں مختلف سوالات اُٹھنے لگے، یہ تو چوری کا دوسرا نام ہے۔ پھر کیوں نہ کھلے عام چوری کی جائے؟۔ کیوں نہ کوئی اور دھندا شروع کیا جائے۔؟۔۔ آخرکار، زندگی کے حالات نے اس کے ضمیر کو دَبا دیا اور محرومی کی آگ نے اسے اس گناہ کی دنیا میں دھکیل دیا، جس سے وہ ہمیشہ نفرت کرتا رہا تھا۔

    جرم کی دنیا:

    ہوا کچھ یوں کہ ایک دن شمس کی ملاقات ناظم کے دفتر میں بدنامِ زمانہ بدمعاش شیرنواز عرف شیرو سے ہوئی۔ شیرو  وہی شخص تھا جس کی پشت پناہی سے جبارخان نے الیکشن میں دھاندلی کر کے ناظم کا عہدہ حاصل کیا تھا۔ شیرو کا روزگار جرائم کی دنیا سے وابستہ تھا۔ اس نے اغوا برائے تاوان، اُجرت پر قتل، ڈکیتی، اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم کو اپنا پیشہ بنا رکھا تھا۔ شیرو، شمس کی قابلیت سے متاثر ہوا اور چند دِنوں بعد اسے اپنے ڈیرے پر بلایا  اور اپنے گروہ میں شامل ہونے کی پیش کش کی۔ شمس نے بغیر کسی جھجھک کے شیرو کی پیش کش قبول کر لی اور اس کے تربیت یافتہ گروہ میں شمولیت اختیار کر لی۔ 

    تعلیم یافتہ ہونے کی وَجہ سے شمس جلد ہی گروہ کے لیے نہایت اہم بن گیا۔ شیرو نے اس کے لیے ایک علاحدہ ڈیجیٹل ڈکیتی سینٹر قائم کیا، جہاں وہ بینک اکاؤنٹس کے ڈیٹا کو چھانتا اور لوگوں کو فون کرتا کہ وہ فلاں بینک کا نمائندہ ہے اور ان کے اکاؤنٹ کو بلاک ہونے کا خطرہ ہے۔ وہ سوشل انجینئرنگ کے مختلف حربے استعمال کرکے ان سے خفیہ کوڈز اور دیگر اہم معلومات حاصل کرلیتا تھا۔ اس چالاکی اور مہارت سے وہ مہینے کے لاکھوں روپے شیرو کےلیے کمانے لگا۔

    شیرو اس پر کافی مہربان تھا اور ماہانہ آمدنی کے علاوہ اسے اضافی کمیشن بھی دیتا تھا۔ شمس کے گھر کے حالات تیزی سے بہتر ہونے لگے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو یہ تاثر دیا کہ وہ دوسرے شہر میں کاروبار کر رہا ہے۔ اس نے شادی کر لی اور بیٹی کی پیدائش نے اس کے دل میں کچھ سکون پیدا کیا۔ لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا۔

     ملک کی بے حس مشینری:

    ایک دن شیرو اور شمس کے درمیان کسی معاملے پر شدید جھگڑا ہو گیا۔ شیرو نے اندر ہی اندر بدلہ لینے کا منصوبہ بنایا اور ایک خطرناک مشن کے لیے شمس کو چن لیا۔ یہ مشن پہلے سے ایک جال تھا جسے شیرو نے نہایت چالاکی سے تیار کیا تھا۔ جہاں پہلے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستعد تھے، جیسے ہی شمس وہاں پہنچا، پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ شیرو اور اس کے دیگر ساتھی جال سے صاف بچ نکلے، جب کہ شمس کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔

    پولیس نے شمس کے خلاف ایسے سنگین مقدمات درج کر دیے، جن سے بچنا تقریباً ناممکن تھا۔ ان مقدمات میں نہ صرف جرائم کا اعتراف شامل کیا گیا، بلکہ ایسے شواہد بھی پیش کیے گئے جو شیرو کے ہاتھوں ترتیب دیے گئے تھے۔ سرکاری مشینری نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور بڑے مجرموں کو بچانے کے لیے شمس پر سختی سے قانون نافذ کیا۔عدالت نے شمس کو تمام الزامات کا ذمہ دار ٹھہرا کر پندرہ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔ ملک کا نظام انصاف اپنی عام روش پر قائم تھا، جہاں قانون ہمیشہ کمزوروں پر لاگو ہوتا ہے اور اصل مجرم، جو طاقت، دولت، یا تعلقات رکھتے ہیں، آزاد گھومتے رہتے ہیں۔

    کھوئے ہوئے خواب:

    پندرہ سال کی قید کے دوران، شمس اپنی زندگی کے ہر لمحے پر پچھتاتا رہا تھا۔ اپنے گناہوں کا بوجھ اور ضمیر کی ملامت اسے لمحہ بہ لمحہ کچل رہی تھی۔ ایک دن، اس کی بیوی اور بیٹی اس سے ملاقات کے لیے آئیں۔ بیوی کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مایوسی تھی۔

    بیوی نے لرزتی آواز میں کہا:

    "شمس، لوگ بیٹی کے رشتے کے لیے آتے ہیں، لیکن جب انھیں تمھارے ماضی کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے"۔ 

    شمس کا دل جیسے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ وہ اپنی بیٹی کی طرف مڑا، اس کے ننھے ہاتھوں کو تھام لیا اور کانپتی آواز میں کہا:

    بیٹی، میں نے تمھارے لیے یہ سب کچھ نہیں چاہا تھا۔ میرے غلط فیصلے اور برے راستے نے ہمیں یہاں پہنچایا۔ لیکن تمھیں وعدہ کرنا ہوگا کہ تم ہمیشہ سچائی اور محنت کے راستے پر رہو گی، چاہے یہ راستہ کتنا ہی کٹھن اور دشوار کیوں نہ ہو۔ کبھی کسی شارٹ کٹ کے پیچھے نہ جانا، کیوں کہ یہ صرف بربادی لاتا ہے۔بیٹی نے آنکھوں میں آنسو لیے خاموشی سے سر ہلایا اور اس لمحے شمس کے دل میں اُمید کا ایک چھوٹا سا دِیا جل اُٹھا کہ اس کی بیٹی اس کی کہانی سے کچھ سیکھ کر ایک بہتر زندگی گزارے گی۔

    پندرہ سال بعد جب شمس نے اپنی قید پوری کی اور وہ جیل سے نکلنے لگا تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اس کو ایک ڈائری میں اپنے تاثرات قلمبند کرنے کو کہا ۔ اس نے لکھا۔ 

    یہ وہ ملک ہے جہاں غریبوں کے خواب بار بار کچل دیے جاتے ہیں، جہاں تعلیم یافتہ افراد کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور جرم ایک مجبوری بن کر سامنے آتا ہے۔جہاں تک میں نے جیل کی تنہائی میں اس پر سوچا اور سمجھاتو اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک اجتماعی طور پر کوشش نہ کی جائے اور اس کے ذریعے اس نظام کو نہ بدلا جائے، تب تک ہر روز ایک نیا شمس انھی سلاخوں کے پیچھے پہنچے گا۔ یہاں ترقی اور انصاف صرف ایک خواب ہے، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

     

    Share via Whatsapp