سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضاد: بحران، عوام اور منافع - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضاد: بحران، عوام اور منافع

    سرمایہ دارانہ نظام میں عوام کا بحران سرمایہ دار کے لیے منافع کا موقع بن جاتا ہے؛ قلت اور مجبوری سے طلب اور قیمتیں بڑھتی ہیں

    By Naeem Gul Published on Sep 25, 2026 Views 118

    سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضاد: بحران، عوام اور منافع

    تحریر: نعیم گل، ٹیکساس (امریکا)


    سرمایہ دارانہ نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں بحران صرف عوام کے لیے مشکلات، مہنگائی اور معاشی تباہی کا سبب نہیں بنتا، بلکہ یہی بحرانی کیفیت سرمایہ داروں کے لیے استحصال، منافع خوری اور مصنوعات کی مانگ بڑھانے کا ایک غیرمعمولی موقع بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ موجودہ دور میں ٹیسلا کے الیکٹرک ٹرک اور ٹریلر اس حقیقت کا ایک واضح نمونہ ہیں۔

    تقریباً پانچ برس قبل ٹیسلا کمپنی نے ڈیزل سے چلنے والے روایتی ٹرکوں کے مقابلے میں بجلی سے چلنے والے ٹرک اور ٹریلر تیار کیے۔ تاہم، دنیا بھر میں ٹیسلا کے بائیکاٹ کی مہم چلنے کے بعد اس کی گاڑیوں اور ٹرکوں کی فروخت میں زبردست کمی واقع ہوئی۔ موجودہ امریکی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ٹیسلا کمپنی کو امریکی حکومت کی جانب سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت بھی فراہم کی جا چکی ہے۔

    جب سے امریکا ایران جنگ کا آغاز ہوا ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ تیل اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں عوام کا رجحان تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کی طرف مائل ہوا، لیکن اس کے باوجود ٹیسلا کے الیکٹرک ٹرک اور ٹریلر کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ نتیجتاً ان ٹرکوں اور ٹریلروں کی فروخت بدستور کم رہی،مگر اَب صورتِ حال یکسر بدل چکی ہے۔امریکی حکومت نے پورے ملک میں ڈیزل کی فراہمی معطل کر کے ایک سنگین بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کئی ریاستوں میں ڈیزل سرے سے دستیاب نہیں، جب کہ جن علاقوں میں دستیاب ہے، وہاں اس کی قیمت دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

    ڈیزل کی عدمِ دستیابی اور اس کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ڈیزل سے چلنے والے ٹرک اور ٹریلر رُک گئے۔ اس صورتِ حال نے امریکا کو ایک انتہائی سنگین ہنگامی کیفیت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، کیوں کہ پورے امریکا میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل کا بنیادی انحصار ٹرکوں اور ٹریلروں پر ہے اور فی الحال اس نظام کا کوئی فوری متبادل راستہ موجود نہیں۔

    جب ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ٹرک اور ٹریلر رک جائیں تو مسئلہ صرف ٹرانسپورٹ یا ڈیزل تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات پوری سپلائی چین پر مرتب ہوتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل متاثر ہونے سے قلت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس بحران کی قیمت بالآخر عام لوگوں کو مہنگائی، اشیا کی عدم دستیابی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔لیکن جس صورتِ حال نے لاکھوں لوگوں اور کاروباروں کے لیے بحران پیدا کیا، اسی صورتِ حال نے ٹیسلا کے لیے ایک غیرمعمولی کاروباری موقع پیدا کر دیا۔

    جو الیکٹرک ٹرک اور ٹریلر اس بحران سے قبل مطلوبہ تعداد میں خریدار حاصل نہیں کر پا رہے تھے، ڈیزل کی فراہمی معطل ہونے کے بعد انھی ٹرکوں اور ٹریلروں کی مانگ میں راتوں رات بے تحاشا اضافہ ہوگیا۔ اَب ڈیزل ٹرکوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے سامنے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ الیکٹرک ٹرک بہتر ہیں یا ڈیزل ٹرک؛ بلکہ ڈیزل دستیاب نہ ہونے کی وَجہ سے ان کے لیے الیکٹرک ٹرک حاصل کرنا ایک مجبوری بنتا جا رہا ہے۔اور سرمایہ دارانہ نظام میں یہی مجبوری منافع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ٹیسلا کے الیکٹرک ٹرکوں اور ٹریلروں کی اچانک بڑھتی ہوئی مانگ کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود خریدار کو گاڑی فوری طور پر نہیں ملے گی۔ اسے پہلے آرڈر دینا ہو گا، رقم پیشگی جمع کروانی ہو گی اور پھر کئی ماہ انتظار کے بعد اسے الیکٹرک ٹرک فراہم کیا جائے گا۔

    یعنی ایک طرف ڈیزل سے چلنے والے ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ٹرک اور ٹریلر رکنے سے نقل و حمل کا بحران پیدا ہوتا ہے، روزمرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی خطرے میں پڑتی ہے، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور عوام پر مہنگائی اور قلت کا بوجھ بڑھتا ہے؛ دوسری طرف اسی بحران کے نتیجے میں ان الیکٹرک ٹرکوں کی مانگ اور قیمت میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے جن کی فروخت اس سے پہلے انتہائی کم تھی۔

    یہاں سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضاد پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے:

    عوام کے لیے جو چیز بحران ہے، سرمایہ دار کے لیے وہی چیز کاروباری موقع بن جاتی ہے۔

    عوام کے لیے جو قلت ہے، سرمایہ دار کے لیے وہی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

    عوام کے لیے جو مجبوری ہے، سرمایہ دار کے لیے وہی زیادہ قیمت وصول کرنے کا موقع ہے۔

    اور عوام کے لیے جو معاشی تباہی ہے، سرمایہ دار کے لیے وہی غیرمعمولی منافع کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیسلا کے جن الیکٹرک ٹرکوں اور ٹریلروں کی عام حالات میں مانگ پیدا نہیں ہوسکی تھی، بحرانی صورتِ حال نے انہی مصنوعات کی ضرورت پیدا کر دی۔ اَب خریدار صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں بلکہ اسے کئی ماہ پہلے اپنی رقم بھی کمپنی کے حوالے کرنی ہو گی اور اس کے بعد گاڑی ملنے کا انتظار بھی کرنا ہو گا۔یوں سرمایہ دارانہ نظام میں بحران صرف تباہی پیدا نہیں کرتا بلکہ بحران کے اندر ہی منافع کا ایک نیا بازار بھی جنم لے لیتا ہے۔ نقصان اور مشکلات کا بوجھ عوام کے حصے میں آتا ہے، جب کہ قلت، ضرورت اور مجبوری سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع سرمایہ داروں کے لیے دولت اور منافع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔یہی سرمایہ دارانہ استحصال کی وہ شکل ہے، جس میں بحران جتنا شدید ہوتا جاتا ہے، عوام کی مجبوری اتنی بڑھتی جاتی ہے؛ اور عوام کی مجبوری جتنی بڑھتی ہے، اسی تناسب سے سرمایہ دار کے لیے منافع کمانے کے مواقع بھی وسیع ہوتے جاتے ہیں۔

    Share via Whatsapp