پاکستان 79 سال کا سفر اور قرضوں کا بوجھ
قرآن پاک کا ارشاد ہے: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ("اللہ نے بیع (تجارت) کو حلال کیا اور سود کو حرام")۔
79سال کا سفر اور قرضوں کا بوجھ
تحریر؛ محمد رضوان غنی۔ میرپور (آزاد کشمیر)
پاکستان اپنی 79 سالہ عمر گزار کر 80 سال کی طرف گامزن ہوچکا ہے، لیکن یہ بدقسمتی کہ آج پاکستان کا کل قرض جس کی مقدار جون 2026 ءمیں بہ قول اسٹیٹ بینک کے 99.6 کھرب روپے ہو چکی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے مجموعی قومی قرضے میں ایک سال کے اندر 5.2 کھرب روپے مزید اضافہ ہوا ہے۔ 30 جون 2025ء تک ملک کا کل قرض 94.387 کھرب روپے تھا جو اَب بڑھ کر 99.6 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں سے 59.441 کھرب روپے اندورنی قرض یعنی وہ قرض جو ملکی بینکوں یا اداروں سے لیا گیا ہے، جب کہ 36.19 کھرب روپے بیرونی قرض یعنی بین الاقوامی اداروں اور ممالک سے لیا گیا ہے۔
مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان نے قرضوں کی مد میں کل 11.966 کھرب روپے ادا کیے۔ اس رقم کا بڑا حصہ یعنی 7.266 کھرب روپے سود کی ادائیگی میں چلا گیا، جب کہ اصل رقم کی مد میں صرف 4.466 کھرب روپے ہی ادا ہو سکے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ مذاکرات میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہ قرضہ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف (1600 ارب روپے) سے 130 فی صد زیادہ ہے۔ خبر کے مطابق عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سے توانائی کی قیمتیں بڑھیں، جس نے اس گردشی قرضے میں مزید اضافہ کر دیا۔ یعنی دنیا میں کہیں رولا ہوجائے بُرے اَثرات ہم پر ہی پڑتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1973ء کا آئین تشکیل دیا گیا، جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کو آئینی حیثیت دی گئی۔ اس کے بعد 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جہاں تمام مسلم ممالک نے مل کر ایک غیرسودی مالیاتی ادارے یعنی اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کی بنیاد رکھی۔
بعدازاں، جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسی اسلامی نظریاتی کونسل (CII) نے 1980ء میں ملک سے سود کے خاتمے کے لیے ایک مفصل رپورٹ تیار کی، جس میں بینکنگ کو مضاربت، مشارکت، مرابحہ (تجارتی بیع) اور اجارہ (لیزنگ) پر منتقل کرنے کی تجاویز دی گئیں،لیکن تجویز دینا اور عمل درآمد کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
قرآن پاک کا ارشاد ہے: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ("اللہ نے بیع (تجارت) کو حلال کیا اور سود کو حرام")۔ مفتی تقی صاحب کا مؤقف ہے کہ اگر بینک کسی کو سیدھا نقد روپیہ دے کر اوپر رقم وصول کرے تو یہ سود ہے، لیکن اگر بینک خود اشیا (گاڑی، مکان، خام مال) خرید کر گاہک کو نفع شامل کر کے ادھار فروخت کرے (مرابحہ/بیع مؤجل) تو یہ شرعاً جائز تجارت ہے۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔
1999ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ (جس میں مفتی تقی عثمانی صاحب بھی شامل تھے) نے ایک فیصلہ دیا، جس میں ملک سے ہر قسم کے سودی نظام کو باطل اور غیرآئینی قرار دیا گیا اور حکومت کو اسلامی بینکنگ پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔ اسلامی بینک جن معاملات کو ”مرابحہ“ (خرید و فروخت) کہتے ہیں، ان میں بینک نہ تو سامان کا حقیقی رسک لیتا ہے اور نہ ہی سامان کی حقیقی تحویل (Possession) حاصل کرتا ہے۔ مزید برآں، اسلامی بینک اپنے نفع کے تعین کے لیے اسی سودی شرح KIBOR (Karachi Interbank Offered Rate) کو بنیاد بناتے ہیں جو روایتی بینک استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا نتیجہ کے اعتبار سے دونوں میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس گرداب سے آہستہ آہستہ نکلا جا سکتا ہے۔ 79 سال گزرنے کے بعد بھی یہ سفر ختم ہونے کی بجائے گلے کی ہڈی بن چکا ہے، جسے نہ نگلا جا سکتا ہے نہ اگلا یعنی باہر تھوکا جا سکتا ہے۔
اسلامی معیشت کا بنیادی مقصد نفع و نقصان میں شراکت (Profit & Loss Sharing) یعنی مشارکہ اور مضاربت ہے، تاکہ امیر اور غریب کے درمیان دولت کی مساوی تقسیم ہو،لیکن عملی طور پر اسلامی بینک 90 فی صد سے زیادہ معاملات صرف مرابحہ (صرف ادھار بیع) اور اجارہ میں کرتے ہیں، جہاں ان کا نفع پہلے سے طے شدہ اور محفوظ (Guaranteed) ہوتا ہے اور وہ نقصان کا کوئی رسک نہیں لیتے، جو کہ روحِ اسلام کے منافی ہے۔
موجودہ اسلامی بینکنگ نے صرف الفاظ اور نام تبدیل کیے ہیں (مثلًا "سود" کی جگہ "نفع"، "لیز" کی جگہ "اجارہ")، جب کہ معاشی اَثرات اور استحصال وہی ہے جو روایتی سودی بینکنگ کا ہوتا ہے۔ ہمیں اس گرداب سے نکلنے کے لیے کسی اور گرداب کا سہارا لینے کی بجائے اسلام کے معاشی نظام کو سمجھنا ہو گا جو کسی حیلہ کی بجائے مکمل حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ اس قرض کو ادا کرتے کرتے کئی نسلیں برباد ہو جائیں گی۔









