آزادی و غلامی کا تعارف کروانے والی سچی اجتماعیت
سوال یہ ہے کہ جب کوئی آزادی کی حقیقت کو اجاگر کرے اور معاشی و سیاسی غلامی، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس پر مشتمل اشرافیہ کی دولت کو .....
آزادی و غلامی کا تعارف کروانے والی سچی اجتماعیت
تحریر؛ فہد محمد عدیل (گوجرانوالہ)
سوال یہ ہے کہ جب کوئی آزادی کی حقیقت کو اجاگر کرے اور معاشی و سیاسی غلامی، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس پر مشتمل اشرافیہ کی دولت کو بیرونِ ملک منتقل کرنے اور یہاں کے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر عوام الناس کے معیارِ زندگی کو روز بروز مشکل بنانے کی نشان دہی کرے تو کیا ان کے اس عمل کو غلط نہ کہا جائے؟
سوال یہ ہے کہ جب قومی ادارے، جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہوں، وہ ملک کے باسیوں کو ظلم کی چکی میں پیس رہے ہوں، ملک کا نظامِ صحت عوام کو صحت کی سہولتیں دینے سے قاصر ہو، ملک کا نظامِ عدل عوام کو عدل و انصاف دینے کے بجائے وڈیروں، سرمایہ داروں اور طاقت ور طبقات کے جرائم سے پردہ پوشی کرے اور عوام الناس کو ماورائے عدالت سزائیں دے، جب ملک کا معاشی نظام سرمایہ دار طبقات کی دولت میں بے انتہا اضافہ کرے اور محنت کش طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھے، جب ملک کا سیاسی نظام اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقات کو اسمبلیوں میں وزارتیں اور بے انتہا مراعات دے اور دوسری طرف ملک کے غریب طبقے، محنت کش طبقات اور پڑھے لکھے لوگوں کی کسی سطح پر کوئی نمائندگی نہ ہو، تو کیا ایسے لوگوں کو ملک اور وطن دشمن کہا جائے گا؟
کیا ایسے لوگوں کو وطن سے نفرت کرنے والا کہا جائے گا؟ کیا ایسے افراد کو معاشرے سے علاحدہ کرکے پیش کیا جائے؟
اس تحریر کے پیشِ نظر حالیہ دَنوں کی دو مثالوں پر غور کیا جائے تو حقیقت مزید واشگاف ہوجاتی ہے۔
ملک کے مرکزی بینک کی اپنی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کا قرضہ (آئی ایم ایف کے قرضے کے بغیر) 83.6 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ (نوٹ: اگر اس میں اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ پر موجود آئی ایم ایف کے قرضے اور ملک کے دیگر بیرونی واجبات/مختلف ضمانتیں شامل کی جائیں تو پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات 99.6 کھرب روپے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔) جو کہ گزشتہ چار برسوں، یعنی جب سے موجودہ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا ہے، ملکی قرضہ جات میں 75 فی صد اضافہ ہے۔ اسی قرضے کی وَجہ سے ملکی بجٹ کا تقریباً 50 فی صد قرضہ جات کے سود کی ادائیگی میں صرف ہوگا، جس کے لیے حکومت ٹیکس کی شرح بڑھائے گی۔ اَب چوں کہ سرمایہ دار طبقہ (تاجر، اشرافیہ، فیکٹری اونرز) ٹیکس نہیں دیتا، تو سارے کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے گا۔ پیٹرول، بجلی اور سیلز ٹیکس کے ذریعے عوام سے پیسہ اکٹھا کرکے متذکرہ بالا قرضے کے سود کی ادائیگیاں کی جائیں گی۔
اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ ملک میں قرضوں کی معیشت کے ماڈل نے یہاں رہنے والے انسانوں کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ ورلڈبینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کی 44.7 فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جب کہ 16.5 فی صد لوگ انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہ آمدن سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کے اپنے ہی عالمی معیارات سے کہیں نیچے ہے۔ جب حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے تو روپے کی قدر میں کمی آتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں رہنے والے افراد کی حقیقی آمدن متاثر ہوتی جاتی ہے اور مہنگائی کا اَثر گہرا سے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔
ان دو مثالوں کی روشنی میں ملک کی حقیقی آزادی کا تصور واضح ہوجاتا ہے کہ ملک میں زندگی بسر کرنا ایک عام آدمی کے لیے کس حد تک مشکل ہوچکا ہے۔ دوسری طرف ایسے حالات میں ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والا فرد جائز و ناجائز طریقے سے اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے جرائم کا گراف مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ملک میں صحت کا فقدان، امنِ عامہ کی مخدوش صورتِ حال، غیرمعیاری خوراک، توانائی کا بحران، بجلی و گیس کے گردشی قرضہ جات اور دیگر معاشی مسائل کی وَجہ سے پاکستان کے عوام کی زندگی جبر کی تصویر بن چکی ہے۔
؎ زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی سزا پائی ہے
طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہر آنے والی حکمران جماعت کے وزرا اپنی حکومت کی جانب سے کی گئی مہنگائی کو جائز، خوش نما اور عوام دوست، جب کہ پچھلی حکومت کی جانب سے کی گئی مہنگائی کو ناجائز، بدترین اور عوام دشمن قرار دیتے ہیں اور سارے مسائل کی جڑ پچھلی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کھیل ملک کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر اَب تک جاری ہے۔ اعداد و شمار میں ہیرپھیر اور عوام و عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں حکمران طبقہ خاصی مہارت رکھتا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ عالمی قرض خواہوں کا اعتماد ملک کے حکمرانوں اور بیوروکریسی سے اس حد تک اُٹھ چکا ہے کہ مزدوروں اور ملازمین کی اُجرتوں کے تعین سے لے کر پیٹرول کی قیمتوں کے تعین تک، تجارتی پالیسی (امپورٹ ایکسپورٹ) اور زری پالیسی (ملک میں شرحِ سود کا تعین) سمیت کوئی بھی معاشی معاملہ آئی ایم ایف بہادر کی منظوری کے بغیر ملک میں نافذ نہیں ہوسکتا۔ اسے سیاسی و معاشی آزادی کہا جائے گا یا غلامی؟
بس یہی مؤقف ہے ان سچے لوگوں کا۔ انہیں عوام، وطنِ عزیز کی محبت اور آزادی کا درد و گداز ان نام نہاد قومی محبین سے زیادہ ہے۔
وہ ملکی حالات پر اسی طرح سلگتے ہیں، جس طرح اللہ کے نیک بندے اور انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قوم کے انسانوں کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں۔
وہ عوام کو سچی بات اس لیے بتاتے ہیں کہ حق شناسی اور حق گوئی کا فرض ادا ہو۔
وہ آزادی و غلامی کا حقیقی تصور اسی لیے بیان کرتے ہیں کہ اس فکر، نظریے اور سوچ کا احیا ہو، جس کی بنیاد پر قوموں میں عدل و انصاف، امن و امان اور دینِ حق کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ عام لوگ نہیں، وہ سچے اولیاء اللہ اور انبیاعلیہم السلام کی فکر کے وارث ہیں۔ وہ دینِ حق کے داعی اور للہیت کے راسخ کردار کے حامل ہیں۔
آج نوجوانوں، اہلِ علم اور باشعور طبقات کا فرض ہے کہ اس پُرفتن دور میں ان اہلِ حق کی بات پر لبیک کہتے ہوئے ایسے نظریے اور فکر کی بنیاد رکھی جائے جو معاشروں کو غلامی سے نکال کر حقیقی آزادی کی طرف لے جائے۔









