غیر متوازن نظام کے کرداروں کی پہچان کی ضرورت واہمیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • غیر متوازن نظام کے کرداروں کی پہچان کی ضرورت واہمیت

    قرآنِ پاک جب بھی کوئی مثال یا واقعہ بیان کرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ قیامت تک کے لیے اصول اور قوانین متعین کر دیتا ہے۔

    By Muhammad Ishaq Published on Jun 15, 2026 Views 169

    غیر متوازن نظام کے کرداروں کی پہچان کی ضرورت واہمیت 

    تحریر: محمد اسحاق، پشاور 

     

    قرآنِ پاک جب بھی کوئی مثال یا واقعہ بیان کرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ قیامت تک کے لیے اصول اور قوانین متعین کر دیتا ہے۔ابولہب حضور اکرمﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ خوب صورتی میں ایسا بےمثال کہ سرخ و سفید رنگت کی وَجہ سے ”لہب“ یعنی ”آگ“ کے شعلے کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ پیشے کے اعتبار سے تاجر اور بنو ہاشم کی امیرترین شخصیت۔ اس کےساتھ مکہ مکرمہ کی اقتصادیات اور معاشرتی زندگی پر بھی بڑا اَثر و رسوخ تھا ۔اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا لیکن اپنی صلاحیتوں کو نظامِ ظلم کی آلہ کاری کے لیے استعمال کیا۔ اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب ، ابو سفیان کی بہن تھی۔ وہ بھی اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھی۔ ام جمیل کا باپ ”حرببنو امیہ کا سردار تھا۔ گویا ابو لہب کے بنو ہاشم کے ساتھ ساتھ بنو امیہ اور ابوسفیان ( جوكہ مکہ کے سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کا اہم رکن تھا) کے ساتھ بھی قریبی مراسم تھے ۔

     نظام ظلم کے تین ستون:

    ظلم کے نظام کو سہارا دینے کے لیے ہمیشہ تین قسم کے قوتیں کارفرما ہوتی ہیں ۔

    1۔  سیاسی طبقہ۔

    2۔  معاشی طبقہ۔

    3۔  مذہبی طبقہ۔

    یہ ازل سے طریقہ کار رہا ہے کہ جب بھی کوئی نظام ظُلم عوام کا استحصال کرتا ہے تو یہ تینوں قسم کے طبقے ضرور موجود ہوتے ہیں۔ فرعون کے نظام کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں 

    ترجمہ:”اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی(ہلاک کیا) اور بیشک اُن کے پاس موسیٰ روشن دلیلیں لے کر آیاتو انھوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہمارے قابو سے نکلنے والے نہ تھے“۔ ( سورۃ العنکبوت ، آیت 39 )

    یعنی فرعونی نظام میں فرعون کے ساتھ ساتھ ہامان اور قارون کی بھی برابر کی شراکت داری تھی ۔ ہامان ایک مذہبی پیشوا تھا۔ وہ ظلم کے لیے حیلے بہانے ڈھونڈتا تھا اور مذہب کو ظلم و جبر اور استحصال کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اپنی ہی قوم یعنی بنی اسرائیل کو غلام بنانے کے لیے مذہبی چادر اوڑھے ہوئے تھا ۔قارون کے پاس خزانے تھے۔ ملک کی معاشیات اس کے کنٹرول میں تھیں۔ آج کے جدید اصطلاح میں وہ وزیرخزانہ یا وزیر معیشت تھا۔

    فرعون سیاسی نظام کی سرپرستی کر رہا تھا ۔

    گویا کہ جس طرح عدل کا نظام منظم اداروں کے ذریعے سے چلایا جاتا ہے، بعینہٖ ظلم و استحصال کا نظام بھی مربوط اداروں کے ذریعے سے ہی کنٹرول ہوتا ہے ۔

    حضور اکرمﷺکے زمانے میں چونکہ مکہ  کا نظام ظُلم و بربریت کا تھا اس لیے یہ تینوں شعبے بھی مفلوج ہو چکے تھے۔ 

    ابولہب مکہ کی اقتصادیات کا نمائندہ تھا ۔ ابوسفیان کے ساتھ مل کر انھوں نے ایسا سرمایہ دارانہ نظام مسلط کیا ہوا تھا کہ جس سے معاشرہ تقسیم کا شکار ہوگیا تھا۔ یوں پورے سماج میں طرح طرح کی خرابیاں  پیدا ہوگئی تھیں اور ہر قسم کی معاشی اور معاشرتی خرابیوں میں ابو لہب پیش پیش تھا۔ 

    قرآن نے مکی دور میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ ابولہب کا قائم کردہ یہ سرمایہ پرستانہ نظام ٹکنے والا نہیں ہے، بلکہ یہ نیست ونابود ہو کر رہے گا ۔

    اسی طرح یہ بھی فرمایا ۔

    ترجمہ: ”اور اُس کی بیوی بھی (آگ میں جھلسے گی)جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے“۔(سورہ لہب، آیت 04)

    گویا سرمایہ داری نظام کے سارے آلہ کار جو اُن کی معاونت کرتے ہیں وہ بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں اور اُن کے لیے بھی ہلاکت ہے ۔پھر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے ابولہب اور اُس کی بیوی تباہ ہوگئے اسی طرح طبقاتیت و سرمایہ داریت پر مبنی مکہ کا معاشی و معاشرتی نظام بھی زمین بوس ہوا۔

    گویا ابوجہل، ابولہب، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف وغیرہ 1400 سال پہلے گزرے ہوئے محض چند افراد کے نام نہیں ہیں، بلکہ جب بھی ظُلم و بربریت کا نظام غالب ہو تو اُس میں فرعون ، ہامان، قارون ، نمرود، شداد، ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کی صورت میں نظام ظلم کے کردار ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ 

    ضرورت اس امر کی ہے کہ نبوی طریقہ کار اپنا کر وقت کے ابوجہل اور فرعونی نظام کا خاتمہ کیا جائے اور دین کے عادلانہ نظام کو غالب کیا جائے ۔

    Share via Whatsapp