جنک فوڈ اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا گٹھ جوڑ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • جنک فوڈ اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا گٹھ جوڑ

    یہ تحریر انسانی خوراک اور صحت پر ادویات ساز کمپنیوں کے منفی اثرات کا تزکرہ ہے ۔

    By Muhammad Atif Published on Aug 26, 2026 Views 94
    جنک فوڈ اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا گٹھ جوڑ
    تحریر: محمد عاطف (ہری پور)

    انسان اللہ تعالیٰ کی احسن تقویم مخلوق ہے،جس کے مخصوص طبعی و روحانی تقاضے خالق کائنات کی طرف سے مقرر ہیں۔اگر ان تقاضوں کو فطرت کے مطابق پورا کیا جائے تو اس کے جسم اور روح پر اچھے اَثرات مرتب ہوتے ہیں۔بہ صورت دیگر یہی تقاضے مصنوعی طور پر پورے کیے جائیں تو یہ جسم اور روح کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ان ہی تقاضوں میں سے ایک انسانی خوراک ہے،جو انسان کو ضروری غذائی اجزا (Nutrients) فراہم کرتی ہے اور توانائی کی ضرورت کو بھی مکمل کرتی ہے۔غذا اگر جسمانی ضروریات کے مطابق ہو تو وہ توانائی کے ساتھ قوتِ مدافعت اور ضروری کیمیائی عناصر کو توازن میں رکھتی ہے اور بیماریوں سے بچا تی ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی صحت کا راز حلال اور پاکیزہ متوازن غذا میں ہے، جس میں مناسب مقدار میں پھل، سبزیاں اور حلال جان داروں کا گوشت شامل ہے۔موجودہ دور میں خوراک بھی بھوک مٹانے کے بجائے سرمایہ پرستوں کے ہاتھ میں سرمایہ جمع کرنے کا ایک آلہ بن چکی ہے۔
    ملٹی نیشنل کمپنیاں انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو نشانہ بنانے کے ساتھ خوراک اور ادویات کا بھی پس پردہ آپس میں ایک تعلق قائم کرچکی ہیں،جسے ماہرین ”فوڈ فارماکمپلیکس“ کا نام دیتے ہیں۔مصنوعی خوراک اور جنک فوڈز جو توانائی سے زیادہ زبان کی لذت کا ذریعہ ہیں اور یہ ادویات ساز کمپنیوں کے منافع اور مفادات کا تحفظ کرنے کا بھی ایک آلہ ہے۔یہ کمپنیاں Ultra Processed Food بناتی ہیں جو کہ معدہ، جگر اور دل کے امراض، ذیابیطس اور بہت سی پیچیدگیوں کا باعث ہیں۔جب یہی خوراک موٹاپا، انسولین ریزسٹنس، بلڈ پریشر اور ڈپریشن پیدا کرتی ہے تو وہی سرمایہ دارانہ نظام ”حل“ کے طور پر دوا پیش کرتا ہےجو مرض کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے مریض کو دائمی گاہک اور عادی بنا کر چھوڑتی ہے۔عالمی GDP میں براہِ راست ان فارما سیوٹیکل کا حصہ تقریباً 2 کھرب ڈالرز سالانہ ہے، جو مجموعی دولت کا 2 فی صد بنتا ہے۔یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں، جو عالمی رپورٹس میں ظاہر ہیں۔حال آں کہ یہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔جب کہ بلا واسطہ حصہ اس کے علاوہ ہے۔الٹرا پروسیسڈ فوڈ کا سالانہ بزنس 1.7 کھرب ڈالرز اور جنک فوڈ کا سالانہ منافع تقریباً 760 ارب ڈالر ہے،جب کہ پاکستان کی کل GDP تقریباً 400 ارب ڈالرز ہے۔
    عالمی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس ان مفادپرست عناصر کے کرتوتوں کے مہلک پن کی خبردیتی ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق UPF  کا استعمال موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے بڑھنے کی بنیادی وَجہ ہے۔بڑی فوڈ اور فارما سیوٹیکل کمپنیاں یونیورسٹیز اور جرنلز کو فنڈ دیتی ہیں، تا کہ ان کے مفادات کے خلاف تحقیقات حقیقی معنوں میں نہ ہوسکیں۔ 2020ء میں British Medical Journal کی تحقیق نے بتایا کہ انڈسٹری فنڈڈ تحقیق میں ”چینی کا نقصان“ 7 گنا کم رپورٹ ہوتا ہے۔امریکا میں فوڈ اور فارما سیوٹیکل لابی ہر سال 300 ملین ڈالر سے زیادہ کانگریس پر خرچ کرتی ہے تاکہ ”شوگر ٹیکس“ اور ”لیبلنگ قانون“ نہ بنیں۔
    ایک تحقیقی رپورٹBig Pharma's hidden role in the food industry  کے مطابق امریکا میں سرکاری نمونے لینے کے اعداد و شمار کے تجزیے میں ”بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم “ کے مطابق چکن کے نمونے میں سے نصف سے زیادہ نمونوں میں اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کے کم از کم ایک نمونے کی شمولیت تھی۔ 2015ء اور 2020ء کے درمیان تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ امریکی کمپنیوں نے بہ شمول پولٹری کمپنیاں Perdue، Pilgrim's Pride، Tyson، Foster Farms اور Koch Foods نے مختلف بیکٹیریا کی انواع جیسا کہ Campylobacter اور Salmonella سے آلودہ ہزاروں گوشت کی مصنوعات فروخت کیں۔The Lancet, 2019 - Global Burden of Disease کے مطابق ناقص خوراک دنیا میں تمباکو سے بھی زیادہ اموات کی وَجہ ہے۔ہر پانچ میں سے ایک موت ناقص خوراک سے ہوتی ہے۔
    WHO Report 2022 on NCDs Non Communicable Diseases کے مطابق غیرمتعدی بیماریاں یعنی دل، کینسر، شوگر، سانس کی بیماریاں 41 ملین اموات کی ذمہ دار ہیں۔
    British Medical Journal BMJ, 2021 "Ultra-processed food consumption and risk of chronic disease" کے مطابق جن لوگوں نے الٹرا پروسیسڈ فوڈ 10 فی صد زیادہ کھایا ان میں کینسر کا خطرہ 12 فی صد اور دل کی بیماری کا خطرہ 11 فی صد بڑھ گیا۔UN Special Rapporteur on Right to Food, 2014 رپورٹ میں کہا گیا کہ ”جنک فوڈ“ کو جان بوجھ کر غریب ممالک میں عام کیا جا رہا ہے اور اَب یہ” نوآبادیاتی خوراک“ بن چکی ہے۔
    طبی میدان میں جدید تحقیقات اور ادویات کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن ان کو انسانیت کے نفع کے لیے استعمال کرنے کی اپروچ ہی درست نتائج دے سکتی ہے۔جب کہ انسانیت کش نظام کے ہاتھ میں اس کا استعمال صرف تباہی و بربادی کا ذریعہ ہے۔ان مافیاز کے گٹھ جوڑ کا تدارک اِنفرادی طور پر پرہیز سے ممکن نہیں ،کیوں کہ ہمارا واسطہ بازار کی کسی نہ کسی چیز سے تو ضرور پڑتا ہے،جسے یہ کمپنیاں اپنے مفادات کے لیے ملاوٹ شدہ بنا چکی ہیں۔ان کمپنیوں کے لیے حدود و قیود طے کرنا اور اس پر عمل درآمد کرانا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔فاسد نظام نہ صرف انسانی معاشروں کو متاثر کرتا ہے، بلکہ یہ اپنے زیرتسلط ہر انسان کے ایک ایک خلیے کو متاثر کرتا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دوست نظام قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے، جو ہر انسان کے لیے صحت مند خوراک اور اس کی مساویانہ تقسیم کا ضامن اور صحت مند معاشروں کی تشکیل اور فروغ کا باعث بنے۔
    Share via Whatsapp