وسائل کا مفاد پرستانہ استعمال اور اس کے نتائج کا تجزیہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • وسائل کا مفاد پرستانہ استعمال اور اس کے نتائج کا تجزیہ

    آج وطنِ عزیز معاشی بدحالی کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ معاشی بدحالی، عدم استحکام، بھوک، بے روزگاری اور افلاس — آیا ان کی وَجہ وسائل کی کمی ہے؟

    By Muhammad Saad Published on Jun 01, 2026 Views 66
    وسائل کا مفاد پرستانہ استعمال اور اس کے نتائج کا تجزیہ
    تحریر: محمد سعد عارف، پسرور

    آج وطنِ عزیز معاشی بدحالی کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ معاشی بدحالی، عدم استحکام، بھوک، بے روزگاری اور افلاس — آیا ان کی وَجہ وسائل کی کمی ہے؟ یا اللہ کی طرف سے آزمائش ہے؟یا وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے؟ 
    ورلڈبینک کی 2024 ءکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہوا اور یہ شرح 25.3 فی صد تک جاپہنچی، جب کہ مزید ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیے گئے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں یہ شرح ہر سال بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اس وطنِ عزیز میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے غربت اور تعلیمی اخراجات کے بوجھ تلے سکول جانے سے محروم ہیں۔ گھریلو حالات کی تنگ دستی کے باعث ان معصوم بچوں کو کھیلنے کودنے اور تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی عمر ہی میں کام کاج پر لگا دیا جاتا ہے۔
    پاکستان اکنامک سروے 2023-24ء کے مطابق ملک میں پینتالیس لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہیں، جن میں پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے نوجوان سب سے زیادہ متأثر ہیں۔ جن چند افراد اور مزدور طبقے کو روزگار میسر ہے، ان کی ماہانہ اُجرت بہ مشکل 37 ہزار روپے کے قریب پہنچتی ہے، جس میں سے انھیں گھریلو اخراجات کے ساتھ ساتھ بجلی، پانی اور گیس کے بھاری بل بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انھی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ، رینٹل چارجز اور طرح طرح کے اضافی ٹیکس بھی غریب عوام کےکھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 75 فی صد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جہاں زندگی کے بنیادی حقوق تو کجا، بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں۔ سندھ کے صحرائی علاقوں میں بھوک اور افلاس کے باعث بچوں کی شرحِ اموات 30 فی صد تک ہے۔ معیارِ زندگی کا حال یہ ہے کہ 10فی صد آبادی بجلی کی سہولت سے محروم ہے، 33.3 فی صد کو صحت کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں، 8 فی صد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، 40 فی صد کھانا پکانے کے ایندھن کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں، اور 26 فی صد کے پاس کسی قسم کا کوئی اثاثہ تک موجود نہیں۔
    سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سرکاری سطح پر غربت کی شرح کو بھی کم کر کے پیش کیا جاتا ہے، اور آئے دن غریب عوام پر بے جا ٹیکسوں کی بھرمار جاری رہتی ہے۔یہ تو تھی اس ملک کے عام شہری کی زندگی کی ایک جھلک۔ اَب ذرا ان لوگوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں جو خود کو قوم کے خادم کہتے ہیں — وہ حکمران، سیاست دان اور بیوروکریٹس جو قوم کی خدمت کے دعوے کرتے ہیں، ان کا طرزِ زندگی کیسا ہے؟
    پاکستان کی اشرافیہ ملک کے80 فی صد وسائل پر قابض ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اشرافیہ کو سالانہ 2660 ارب روپے کی مراعات دی جاتی ہیں، اور یہ تمام مراعات وطنِ عزیز کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق صدر، وزیرِاعظم، گورنرز اور مشیروں پر سالانہ 130 سے 135 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر مراعات علاحدہ فراہم کی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے سرکاری بنگلے، مہنگی گاڑیاں، خدمت گار — غرض ہر سہولت ریاستی خزانے سے مہیا کی جاتی ہے۔ اسی طرح صوبائی اور قومی اسمبلی کے نمائندے لاکھوں روپے تنخواہ اور دیگر مراعات کے بدلے کیا دے رہے ہیں عوام کو یا ملک کو ۔
    ایک تجزیہ کے مطابق پارلیمنٹ اوسطاً 88 دن اور سینیٹ صرف 57دن کام کرتی ہے ۔ دونوں ایوانوں کی اوسط نکالی جائے تو ایک وفاقی قانون ساز کا یومیہ خرچ 0.8 ملین روپے بنتا ہے۔ ملک کے کارپوریٹ سیکٹر، ایگزیکٹو افسران اور ججوں کی مراعات اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں۔
    ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم ہاؤس کا روزانہ کا خرچ نو لاکھ اسّی ہزار روپے کے قریب ہے، جب کہ صدر ہاؤس کا یومیہ خرچ 16 لاکھ روپے سے متجاوز ہے۔ ان اعداد و شمار کے علاوہ دیگر مراعات کی فہرست اس سے بھی کہیں طویل ہے۔
    جو حکومت بھی اس ملک میں آتی ہے، اپنی مراعات میں اضافہ کرنا اس کا پہلا کام ہوتا ہے، اور یہ سلسلہ گزشتہ 79برسوں سے بلاتعطل جاری ہے۔ اشرافیہ اور دیگر قانون ساز ادارے کئی عشروں سے غریب عوام پر بے جا ٹیکس عائد کر کے ان کا خون نچوڑ رہے ہیں — کیا ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں؟ جن وسائل پر ہر شہری کا یکساں حق ہے، وہ انھی مفادپرستوں اور خودغرضوں کی نذر کیوں ہو رہے ہیں؟ یہ دولت اور وسائل چند ہاتھوں تک ہی محدود کیوں ہیں؟
    قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ”یہ (وسائلِ رزق) تمھارے دولت مندوں ہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے“۔ (سورۃ الحشر)
    اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو صورتِ حال بالکل اسی کے برعکس نظر آتی ہے — وسائل چند مخصوص ہاتھوں میں سمٹے ہوئے ہیں اور عام آدمی ان سے یکسر محروم ہے۔ اس سرمایہ پرست، مفاد پرست اور خود غرض ٹولے نے ہمیشہ اپنا ہی پیٹ بھرنے کو ترجیح دی ہے اور غریب عوام کی فلاح کے بجائے اپنی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کو ہی اپنا نصب العین بنائے رکھا ہے۔
    رزق تو اللہ کی ذات نے سب کے لیے بھیجا تھا، پھر یہ باقی لوگوں تک کیوں نہ پہنچا؟ اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھیے — جب آپ اپنے گھر میں مہمانوں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں تو سب کے لیے یکساں کھانا تیار کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کے لیے بدذائقہ کھانا ہو اور کسی کے لیے کچھ بنایا ہی نہ جائے۔ تو جس ذات نے ہمیں تخلیق کیا، جو ہم سے ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت رکھتی ہے، کیا اس نے اپنے بندوں کے درمیان رزق میں اس قدر تفریق روا رکھی ہوگی؟ ہرگز نہیں — اللہ نے رزق سب کے لیے یکساں اتارا، لیکن چند مخصوص لوگوں نے اس پر قبضہ جما لیا ۔ اس قبضے اور استحصال کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے کے باقی انسان دو وقت کی روٹی کے لیے بھی دربدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔
    اور جو کسر باقی رہ گئی، وہ ہمارے بعض نام نہاد مذہبی طبقے نے پوری کر دی، یہ کہہ کر کہ یہ غربت تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، یہ تقدیر میں لکھا ہے، صبر کرو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ آزمائش صرف غریب عوام کے حصے میں ہی آئی ہے؟ کیا ان مفاد پرستوں اور سرمایہ پرستوں کا وسائل پر ناجائز قبضہ بھی تقدیر اور آزمائش کا نام لے کر جائز ٹھہرایا جائے گا؟ یہ دوہرا معیار کب تک چلتا رہے گا؟
    لہٰذا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بے روزگاری، غربت، بھوک اور افلاس کی اصل وجہ نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ اللہ کی آزمائش — بلکہ اس تمام تر بدحالی کی جڑ وسائل پر ناجائز قبضہ اور ان کا مفادپرستانہ استعمال ہے۔
    بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا, اس ملک کے اندر اسلام نام کی کوئی بھی چیز نظر نہیں آتی ہے۔ سیاست کے اندر ہم میکاولی کی پیروی کرتے ہیں، تعلیم کے اندر لارڈ میکالے کی،معیشت کے اندر ایڈم سمتھ کی، عدالتی نظام میں بھی انہی کا ہے ۔ جن سے ہم نے آزادی حاصل کی ہے نظام پھران کا ہی چلا رہے ہیں لیکن اس سے بری منافقت کیا ہو سکتی ہے؟
    لہٰذا آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کے مطابق اپنے معاشرے کی تشکیلِ نو کریں، تاکہ معاشی خوش حالی آئے اور وسائل کی عادلانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ وہ نظام جو رسول اللہ ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قائم فرمایا، اس کا ثمر ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا درخشاں دور بھی آیا جب زکوٰۃ دینے والے تو بکثرت تھے، مگر لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔ اسی نظام نے ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی اور انسانیت کو خوش حالی و سکون سے ہمکنار کیا — کیوں کہ جس معاشرے میں قرآن حاکم ہو، وہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ اس کی زندہ مثال مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تابناک تاریخ ہے۔
    لہٰذا آج ناگزیر ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں، جہاں معاشی خوش حالی ہو، عدمِ استحکام کا خاتمہ ہو، اور وسائل کے ثمرات ہر عام آدمی تک پہنچ سکیں اور اگر آج اسلام کے ان اصولوں کے مطابق نظام قائم نہ کیا گیا تو ان مسائل سے نجات حاصل کرنا سرے سے ناممکن ہے۔
    Share via Whatsapp