مشرقِ وُسطیٰ کی جنگ اور پاکستانی معیشت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • مشرقِ وُسطیٰ کی جنگ اور پاکستانی معیشت

    28 فروری 2026 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عالمی سیاست کی ا

    By محمد صداقت طلحہ Published on Apr 02, 2026 Views 112
    مشرقِ وُسطیٰ کی جنگ اور پاکستانی معیشت
    تحریر؛ محمد صداقت طلحہ، وہاڑی
     
    28 فروری 2026ء کے بعد مشرقِ وُسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عالمی سیاست کی ایک چنگاری پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرسکتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف اہداف پر حملوں کے بعد خطے میں جنگی ماحول پیدا ہوا اور ایران نے اسے جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات شروع کردیے۔ اس کشیدگی نے فوراً عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کیا، کیوں کہ خلیج کا خطہ دنیا کی تیل کی سپلائی کا سب سے اہم مرکز ہے۔ اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے بارے میں پیدا ہوئی، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 سے 21 فی صد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کے متاثر ہونے کے خدشے نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔ چند دِنوں میں خام تیل کی قیمت تقریباً 75 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً 22 فی صد اضافہ ہوا۔ توانائی کی عالمی منڈی میں یہ تبدیلی براہِ راست ان ممالک کو متاثر کرتی ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
    پاکستان انھی ممالک میں شامل ہے۔ 7 مارچ 2026ء کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ پیٹرول کی قیمت 266 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 321 روپے فی لیٹر ہوگئی، یعنی 55 روپے اضافہ تقریباً 20 فی صد۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 276 روپے سے بڑھ کر تقریباً 335 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، یعنی 59 روپے اضافہ تقریباً 21 فی صد۔ بہ ظاہر یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے اَثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو خوراک مہنگی ہوجاتی ہے۔ زرعی لاگت بڑھتی ہے، صنعتوں کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بجلی کی قیمت پر بھی دَباؤ بڑھ جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں 3 سے 5 فی صد مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
    لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہر عالمی بحران میں پاکستان سب سے زیادہ کیوں متاثر ہوتا ہے۔ اس کا جواب واضح ہے کہ ہماری معیشت خودانحصار نہیں، بلکہ درآمدات پر کھڑی ہے۔ توانائی کے لیے بیرونِ ملک تیل اور گیس پر انحصار، کمزور صنعتی بنیاد اور محدود برآمدات ہمیں عالمی منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ جب قیمتیں عالمی سطح پر بڑھتی ہیں تو ہمارے پاس متبادل نہیں ہوتا۔ یہ صورتِ حال کسی ایک حکومت کی غلطی نہیں، بلکہ پورے معاشی اور سیاسی نظام کی ساخت کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں سے پاکستان میں اقتدار پر سرمایہ دار، جاگیرداروں کے گٹھ جوڑ سے مسلط ہیں ۔ یہی طبقات سیاسی طاقت بھی رکھتے ہیں اور معاشی مفادات بھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کی ترجیح مضبوط صنعت، مقامی توانائی اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کے بجائے وقتی سیاسی مفادات بن گئے۔ اگر گزشتہ بیس یا تیس سال میں پاکستان شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا، مقامی تیل و گیس کی تلاش کو ترجیح دیتا، مضبوط صنعتی پالیسی کے ذریعے صنعتیں قائم کرتا اور زراعت کو جدید بناتا تو آج عالمی بحرانوں کا اَثر اتنا شدید نہ ہوتا، مگر چوں کہ پالیسی سازی پر ایسے طبقات کا اَثر رہا، جن کے مفادات موجودہ بوسیدہ ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے بنیادی تبدیلی کی طرف کبھی سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
    پاکستان کا موجودہ معاشی و سیاسی ڈھانچہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ مفادات کے گرد گھومتا ہے،بلکہ عالمی سامراجی مفادات کا تحفظ  مقتدرہ کی اولین ترجیح ہوتی ہے ۔
    اس نظام میں دولت آہستہ آہستہ چند ہاتھوں میں جمع ہوتی جاتی ہے، جب کہ عام آدمی مہنگائی اور عدمِ استحکام کا بوجھ اُٹھاتا ہے۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ محض اصلاحات اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اصلاحات اسی نظام کے اندر رہ کر کی جاتی ہیں، جہاں جزوی خرابی ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور نظام کی سمت درست ہوتی ہے ، جب کہ یہاں مسئلہ خود نظام کی بنیاد میں موجود ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی مضبوط اور خودکفیل بنانا ہے تو اس فرسودہ ڈھانچے کو جڑ سے بدلنا ہوگا۔ ایک ایسا معاشی، سماجی اور سیاسی نظام قائم کرنا ہوگا جو قومی مفادات پر مبنی ہو،  جہاں سودی معیشت کے بجائے حقیقی پیداوار کو اہمیت دی جائے، دولت چند ہاتھوں میں جمع ہونے کے بجائے معاشرے میں گردش کرے اور ریاست کی ترجیح عوامی فلاح اور معاشی انصاف ہو۔ اسی طرح سیاسی ڈھانچے کو بھی ان جاگیرداروں اور بڑے سرمایہ داروں کے اَثر سے آزاد کرنا ہوگا جو دہائیوں سے اقتدار کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ جب تک اقتدار انھی مفاداتی گروہوں کے ہاتھ میں رہے گا، کوئی ایسا نظام قائم نہیں ہوسکتا جو حقیقی معاشی انصاف پیدا کرے۔ 
    مختصراً؛ عالمی جنگیں اور توانائی کے بحران ہمیں بار بار ایک ہی سبق دیتے ہیں۔ کمزور نظام ہمیشہ عالمی جھٹکوں کا شکار ہوتا ہے، جب کہ مضبوط اور خودانحصار قومیں ان بحرانوں کا مقابلہ کرلیتی ہیں۔ اگر پاکستان کو ہر چند سال بعد ایسے معاشی جھٹکوں سے بچانا ہے تو ہمیں صرف پالیسی نہیں، بلکہ نظام بدلنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس ملک کو معاشی خود کفالت، سماجی انصاف اور حقیقی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
    Share via Whatsapp