بجٹ : اشرافیہ کےبےجا اخراجات اور عوام کی قربانیوں کا سالانہ منشور - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • بجٹ : اشرافیہ کےبےجا اخراجات اور عوام کی قربانیوں کا سالانہ منشور

    ایک ہی دردی پر دو الگ الگ دنیائیں قائم ہیں ایک دنیا اختیار دولت اور دوسری محرومی کا شکار ہے ہر سال اس دھرتی کا بجٹ بھی اس طبقاتی تقسیم کا ائینہ دار ہے

    By افسر خان شہزاد Published on Jul 28, 2026 Views 113

    بجٹ : اشرافیہ کےبےجا اخراجات اور عوام کی قربانیوں کا سالانہ منشور

     تحریر؛ ڈاکٹر افسر خان شہزاد(بنوں) 

     

    پارلیمنٹ کے بڑے بڑے دروازوں سے گزرتی لگژری گاڑیوں کی قطاریں، سرکاری و نیم سرکاری پروٹوکول کے لمبے قافلے، وسیع و عریض پُرتعیش سرکاری رہائش گاہیں اور دوسری طرف جان لیوا مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے بوجھ تلے سسکتی عوام۔ یہ منظر کسی فلم کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔ ایک ہی دھرتی پر دو الگ الگ دنیائیں آباد ہیں: ایک دنیا اختیار، دولت، مراعات اور آسائشوں کی دنیا ہے، جب کہ دوسری دنیا محرومی، بے یقینی، قرض اور مسلسل معاشی اذیت کی دنیا ہے۔

    ہر سال اس دھرتی کا بجٹ بھی اسی طبقاتی تقسیم کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔ امسال یہ بجٹ بھی عام آدمی کے خوابوں، مزدور کے پسینے، کسان کی محنت، طالب علم کی امیدوں اور بے روزگار نوجوان کی پریشانیوں سے زیادہ ان طاقت ور حلقوں کی ترجیحات کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے جو ہمیشہ ریاستی وسائل کے بڑے حصے پر قابض رہے ہیں۔

    ہر سال قوم کو بتایا جاتا ہے کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، خزانہ خالی ہے، قربانی دینا ہوگی، کفایت شعاری اپنانی ہوگی،لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ قربانی ہمیشہ مزدور، کسان، ریڑھی بان، استاد، نرس اور تنخواہ دار طبقہ ہی کیوں دے؟ کیا اس ملک میں اشرافیہ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقوں کے لیے کوئی قربانی مقرر نہیں؟

    المیہ صرف اتنا نہیں کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ عام شہری کو اس پورے معاشی نظام میں فیصلہ سازی کا حقیقی حق حاصل نہیں۔ پالیسیوں کے نتائج عوام بھگتتے ہیں، لیکن پالیسیاں بنانے والوں کی زندگیوں پر ان نتائج کا اَثر بہت کم پڑتا ہے۔

    یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قرضوں کے بوجھ تلے دَبی ہوئی معیشت میں اکثر بجٹ عوامی فلاح کے بجائے قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی تقاضوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ریاست کا سب سے بڑا مقصد عوام کی فلاح نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشی ڈھانچے کو چلانا رہ گیا ہو، جس میں بوجھ نیچے والوں پر اور فوائد اوپر والوں کے حصے میں آتے ہیں۔

    مگر سوال صرف بجٹ کا نہیں، پورے نظامِ ظلم کا ہے۔ بجٹ تو دراصل اس درخت کا پھل ہے، جس کی جڑیں طبقاتی سیاست، معاشی ناہمواری، طاقت کے ارتکاز اور استحصالی ڈھانچوں میں پیوست ہیں۔ جب نظام کی بنیاد ہی چند خاندانوں، چند سرمایہ داروں اور چند طاقت ور گروہوں کے مفادات پر رکھی جائے تو پھر عوام دوست بجٹ کی توقع رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ قومی وسائل پیدا کرنے والے طبقات ہمیشہ قربانی دیتے ہیں، جب کہ قومی وسائل استعمال کرنے والے مراعات یافتہ طبقات ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں جو شخص کھیت میں ہل چلاتا ہے، فیکٹری میں مشین چلاتا ہے، تعمیرات میں اینٹ اٹھاتا ہے، اسکول میں پڑھاتا ہے یا اسپتال میں خدمت انجام دیتا ہے، وہی سب سے زیادہ معاشی دَباؤ کا شکار ہوتا ہے، جب کہ اقتدار اور دولت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے افراد اکثر انہی مشکلات سے محفوظ رہتے ہیں جن کا سامنا عوام کو کرنا پڑتا ہے۔

    یہ پورا نظامِ ظلم صرف معاشی نہیں، بلکہ فکری بحران کا بھی شکار ہے۔ عوام کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ غربت ان کی تقدیر ہے، محرومی ان کا نصیب ہے، اور طاقت ور طبقات کی حکمرانی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ حال آں کہ تاریخ کا ہر باب اس تصور کی نفی کرتا ہے۔ دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ اس وقت آئیں جب عوام نے اپنی حالت کو تقدیر سمجھنے سے انکار کیا اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، منظم ہوئے، تربیت حاصل کی، ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے اور اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ 

    افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے نظامِ ظلم کے گرد ایک مضبوط حصار قائم ہے۔ سرمایہ دارانہ مفادات، طاقت ور سیاسی گروہ، مراعات یافتہ حلقے، پیچیدہ بیوروکریسی، تھانہ کچہری اور وہ تمام ڈھانچے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے، اکثر اوقات عوام کی بجائے اسی نظامِ ظلم کے محافظ بن جاتے ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ ایک غریب شخص انصاف کے لیے سالہا سال دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے، جب کہ طاقت ور طبقے کے لیے راستے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک کال پر سب کچھ اس کے حق میں چلا جاتا ہے۔

    اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات مذہب کے نام پر عوام کو صرف صبر کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن ظلم، استحصال، ذخیرہ اندوزی، کرپشن، طبقاتی ناانصافی اور معاشی جبر کے خلاف وہ آواز بلند نہیں کی جاتی جو اسلام کے حقیقی پیغام کا تقاضا ہے۔ اسلام صرف صبر کا درس نہیں دیتا، بلکہ ظلم کے خلاف عدل کے قیام اور کمزور کے حق کے تحفظ کا بھی حکم دیتا ہے۔

    قرآن کریم اعلان کرتا ہے:

    بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“۔ (سورۃ النحل، 90) 

    اسی طرح قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے:

    تاکہ دولت صرف تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے“۔ (سورۃ الحشر، 7) 

    یہ آیت دراصل معاشی انصاف کا ایک عظیم منشور ہے۔ اسلام ایسا معاشرہ نہیں چاہتا، جس میں دولت چند ہاتھوں میں قید ہوجائے اور اکثریت محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو۔

    آج اگر بجٹ کے نام پر عوام پر نئے بوجھ ڈالے جا رہے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ سوال بھی اٹھایا جائے کہ ریاستی اخراجات میں کفایت شعاری کا آغاز اوپر سے کیوں نہیں ہوتا۔ سرکاری مراعات، غیرضروری پروٹوکول، شاہانہ اخراجات اور طاقت ور طبقات کے خصوصی مفادات پر کتنا بوجھ ڈالا گیا؟ اگر قربانی قومی ضرورت ہے تو پھر اس قربانی کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے ہونا چاہیے، نہ کہ مزدور کی جھونپڑی سے۔

    قوموں کی ترقی کا راز صرف شرحِ نمو کے اعداد و شمار میں نہیں ہوتا، بلکہ اس بات میں ہوتا ہے کہ ترقی کے ثمرات کس حد تک عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ اگر بلند و بالا خوب صورت بنگلے صرف اشرافیہ کے لیے تعمیر ہوجائیں، مگر غریب کے گھر کا چولہا ٹھنڈا رہے، اگر اسٹاک مارکیٹ ترقی کر جائے، مگر نوجوان بے روزگار رہے، اگر حکومتی دعوے بڑھ جائیں، مگر عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، تو ایسی ترقی صرف کاغذی ترقی ہوتی ہے۔

    آج ملک کا نوجوان سوال کر رہا ہے کہ آخر اس کے خوابوں کی قیمت کب تک بڑھتی رہے گی؟ کسان سوال کر رہا ہے کہ اس کی محنت کا پھل دوسروں کے حصے میں کیوں جاتا ہے؟ مزدور پوچھ رہا ہے کہ اس کے پسینے کی کمائی مہنگائی کی نذر کیوں ہوجاتی ہے؟ اور عام شہری یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر ملکی و قومی ترقی کے ثمرات اس کی دہلیز تک کب پہنچیں گے؟

    وقت آ گیا ہے کہ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ غربت تقدیر نہیں، بے روزگاری مقدر نہیں اور استحصال کوئی آسمانی حکم نہیں۔ معاشی ناانصافی انسانوں کے بنائے ہوئے ظالم نظاموں کا نتیجہ ہوتی ہے اور انسان ہی ان ظالم نظاموں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تاریخ میں کوئی بھی ظالمانہ معاشی نظام ہمیشہ قائم نہیں رہ سکا۔ ہر وہ ظالم نظام جو انصاف کے بجائے مراعات اور خدمت کے بجائے استحصال پر قائم ہوا، بالآخر اپنے تضادات کا شکار ہو کر بکھر گیا۔ عوام کی خاموشی وقتی طور پر ظلم کو طاقت دے سکتی ہے، لیکن عوامی شعور آخرکار تاریخ کا دھارا بدل دیتا ہے۔

    آج ضرورت کسی نئے نعرے کی نہیں، بلکہ شعور کی ہے۔ ضرورت کسی نئے چہرے حکمران کی نہیں، بلکہ نئے طرزِحکمرانی کی ہے۔ ضرورت صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس سوچ کی تبدیلی کی ہے جو عوام کو صرف ٹیکس دینے والی مخلوق اور اشرافیہ کو ریاست کا اصل وارث سمجھتی ہے۔

    عوام کو خیرات نہیں انصاف چاہیے۔

    عوام کو وعدے نہیں اپنے جائز حقوق چاہئیں۔

    عوام کو صبر کے نام پر خاموشی نہیں، عدل اور مساوات پر مبنی نظام چاہیے۔

    کیوں کہ جب قومیں بیدار ہوجاتی ہیں تو بجٹ کے اعداد و شمار سے زیادہ اہم سوال پوچھتی ہیں، وہ یہ پوچھتی ہیں کہ قومی دولت کس کے لیے ہے؟ ریاست کس کے لیے ہے؟ قانون کس کے لیے ہے؟ اور اقتدار کا اصل مالک کون ہے؟

    اور اس سوال کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا ہے، ریاست عوام سے بنتی ہے، عوام کے لیے ہوتی ہے اور جب عوام اپنے حق کا شعور حاصل کر لیتے ہیں — خصوصاً جب نوجوان طبقہ تربیت سے گزر کر باشعور ہو جائے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔

    Share via Whatsapp