جدید مادہ پرستانہ معاشیات کا فریب اور امام شاہ ولی اللہ کا معاشی فکر - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • جدید مادہ پرستانہ معاشیات کا فریب اور امام شاہ ولی اللہ کا معاشی فکر

    ہمارے زمانے میں معاشیات کو عموماً ایک خشک، سائنسی اور تکنیکی علم سمجھا جاتا ہے۔ عام آدمی کے ذہن میں معاشیات کا مطلب مہنگائی، بجٹ، ٹیکس، شرحِ نمو، قرضے

    By Kashif Hassan Published on Jun 09, 2026 Views 207

    جدید مادہ پرستانہ معاشیات کا فریب اور امام شاہ ولی اللہ کا معاشی فکر

    تحریر: کاشف حسن ، پشاور


    ہمارے زمانے میں معاشیات کو عموماً ایک خشک، سائنسی اور تکنیکی علم سمجھا جاتا ہے۔ عام آدمی کے ذہن میں معاشیات کا مطلب مہنگائی، بجٹ، ٹیکس، شرحِ نمو، قرضے، تنخواہیں، منڈی، قیمتیں اور اعداد و شمار وغیرہ ہے۔ 

    یونیورسٹیوں میں بھی اکثر معاشیات کو اسی انداز سے پڑھایا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو جذبات، اخلاق، مذہب، تہذیب اور سماجی اقدار سے الگ رہ کر صرف یہ بتاتا ہے کہ وسائل کیسے استعمال ہوں، پیداوار کیسے بڑھے، منڈی کیسے چلے اور دولت کیسے پیدا ہو۔

    بہ ظاہر یہ بات بہت معقول لگتی ہے۔ بلاشبہ علم کو غیرجذباتی، سائنسی اور معروضی ہونا چاہیے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشیات واقعی اقدار سے آزاد و بے نیاز ہوسکتی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کسی اخلاقی یا نظریاتی تصور کے بغیرانسان، دولت، ضرورت، ترقی، نفع، فلاح اور ریاست کے بارے میں بات کریں؟۔

    حقیقت یہ ہے کہ معاشیات کبھی بھی سماجی اقدار سے خالی نہیں ہوتی۔ چاہے کوئی اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے، معیشت انسان اور معاشرے کے بارے میں کوئی نہ کوئی تصور ضرور رکھتی ہے۔

    جب جدید معاشیات یہ فرض کرتی ہے کہ انسان اپنے ذاتی مفاد کو ہر حال میں ترجیح دینے والا فرد ہے، تو یہ محض ایک سائنسی بیان نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے بارے میں ایک خاص مادہ پرستانہ تصور ہوتا ہے۔ 

    جب آزاد منڈی کو وسائل کی تقسیم کا سب سے بہتر ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تو یہ بھی ایک نظریاتی انتخاب ہوتا ہے۔

    جب ترقی کو زیادہ تر شرح نمو، پیداوار اور آمدنی کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے، تو اس کے پیچھے بھی ایک خاص تصورِ ترقی کام کر رہا ہوتا ہے۔

    جب پالیسی ساز یہ کہتے ہیں کہ پہلے معیشت کو مستحکم کریں، بعد میں عوامی فلاح دیکھی جائے گی، تو یہ بھی ایک قدر پر مبنی فیصلہ ہوتا ہے۔ 

    فرق صرف یہ ہے کہ اسے تکنیکی اصطلاحات میں چھپا دیا جاتا ہے۔

    یہی جدید معاشیات کا سب سے بڑا فریب ہے۔ وہ اپنے آپ کو اقدار سے آزاد علم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ حال آں کہ اس کے اندر مادہ پرستانہ اقدار موجود ہوتی ہیں۔ البتہ یہ اقدار کھلی ہوئی اخلاقی زبان میں سامنے نہیں آتیں۔وہ اعداد، گراف، ماڈلز، پالیسی اصطلاحات اور تکنیکی الفاظ کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔ یوں عام آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ معاشی فیصلے تو ماہرین کا کام ہیں، ان میں اخلاق، عدل، انسانی وقار یا اجتماعی بھلائی کے سوالات اُٹھانا شاید غیرعلمی بات ہے۔

    حال آں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب کسی ملک کا بجٹ بنتا ہے تو یہ صرف حساب کتاب نہیں ہوتا، یہ فیصلہ بھی ہوتا ہے کہ:

    ریاست کن طبقات کو ترجیح دے رہی ہے۔ 

    جب ٹیکس لگایا جاتا ہے تو یہ بھی طے ہوتا ہے کہ بوجھ امیر پر پڑے گا یا عام صارف پر۔

    جب سبسڈی ختم کی جاتی ہے تو یہ صرف مالیاتی نظم کا سوال نہیں رہتا، یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا اَثر ایک مزدور، ایک طالب علم، ایک مریض، ایک چھوٹے ملازم اور ایک غریب خاندان پر کیا ہوگا۔

    جب قرض کی شرائط پر پالیسیاں بنتی ہیں تو یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ان پالیسیوں سے ملک آزاد ہوتا ہے یا مزید معاشی انحصار میں جکڑتا چلا جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے معاشروں میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہاں معیشت پہلے ہی نوآبادیاتی ورثے، طبقاتی ناہمواری، بیرونی قرضوں، کمزور ریاستی ترجیحات اور طاقت ور مفاداتی گروہوں کے دَباؤ میں تشکیل پاتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر معاشیات کو صرف تکنیکی علم مان لیا جائے تو عوام کی زندگی سے جڑے بنیادی سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ پھر بحث یہ رہ جاتی ہے کہ:

    خسارہ کتنا کم ہوا؟

    شرحِ نمو کتنی بڑھی؟

    سرمایہ کاری کتنی آئی؟

    مگر یہ سوال کمزور پڑ جاتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئی یا نہیں؟

    گھر کا چولہا جلا یا بجھ گیا؟

    بچوں کی تعلیم، علاج، روزگار اور عزتِ نفس محفوظ ہوئی یا نہیں؟

    یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشیات کو دوبارہ انسانی اخلاق اور معاشرتی عدل کے ساتھ جوڑا جائے۔ معیشت کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسی اجتماعی زندگی قائم کرنا ہے، جس میں انسان کی حقیقی ضروریات پوری ہوں، کمزور محفوظ رہے، طاقت ور حدود میں رہے، دولت چند ہاتھوں میں ہی گردش نہ کرتی پھرے، اور معاشرہ حرص، مقابلہ بازی اور طبقاتی تفاخر کے بجائے تعاون، توازن اور ذمہ داری کی طرف بڑھے۔

    اسلامی معاشی فکر، خاص طور پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معاشی حکمت، اس حوالے سے نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک معاشی زندگی کا مرکز محض نفع یا منڈی نہیں، بلکہ انسانی حاجات اور ضروریات کی درست تکمیل ہے۔ وہ انسان کو صرف کمانے، خرچ کرنے اور فائدہ حاصل کرنے والی مشین نہیں سمجھتے، بلکہ اسے اخلاقی، سماجی اور تمدنی زندہ و حساس وجود کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں معاشیات ،اخلاقی خوبیوں، تجرباتی بصیرت، اجتماعی مصلحت اور اعتدال کے تابع ایک جامع معاشی فریم ورک کا نام ہے۔

    یہ فکر ہمیں بتاتی ہے کہ ہر خواہش ضرورت نہیں ہوتی، ہر منافع مفید نہیں ہوتا، ہر قانونی صورت انصاف پر مبنی نہیں ہوتی اور ہر ترقی انسانی فلاح کی ضمانت نہیں دیتی۔ ایک ایسا نظام جو انسان کی خواہشات کو مسلسل بھڑکائے، قرض کو سہولت بنا کر پیش کرے، نمود و نمائش کو کامیابی قرار دے اور دولت کی دوڑ کو زندگی کا مقصد بنا دے، وہ بہ ظاہر ترقی یافتہ ہوسکتا ہے، مگر اندر سے انسان کو بے چین، معاشرے کو غیرمتوازن اور اخلاق کو کمزور کر دیتا ہے۔

    اسی لیے ”اقدار سے آزاد معاشیات“ کا دعویٰ قبول کرنے سے پہلے ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ:

    یہ معاشیات کس قسم کے انسان کو اپنا موضوع بحث بناتی ہے؟ 

    خود غرض فرد کو؟

    یا ذمہ دار انسان کو؟ 

    یہ کس ترقی کو کامیابی سمجھتی ہے؟

    دولت کے بے مہار پھیلاؤ کو؟

    یا انسانی جان، مال اور عزت و ناموس کے تحفظ کو؟

    یہ کس معاشرے کو بہتر کہتی ہے؟

    وہ معاشرہ جہاں منڈی آزاد ہو، مگر انسان مجبور ہو؟

    یا وہ معاشرہ جہاں پیداوار، دولت اور پالیسی سب انسان کی حقیقی فلاح کے تابع ہوں؟

    آج اصل ضرورت یہ نہیں کہ ہم جدید معاشیات کے تمام آلات کو رَد کر دیں۔ اعداد و شمار، بجٹ، منصوبہ بندی، مالیاتی نظم، پیداوار اور پالیسی تجزیہ اپنی جگہ اہم ہیں۔ مسئلہ ان آلات کا نہیں، بلکہ اس فکری بالادستی کا ہے جو انھیں حتمی حقیقت بنا دیتی ہے۔ ہمیں اعداد کی ضرورت ہے، مگر انسان کو اعداد میں گم نہیں کرنا۔ 

    ہمیں منڈی کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر منڈی کو اخلاق اور معاشرے سے بالاتر نہیں ماننا۔ 

    ہمیں ترقی چاہیے، مگر ایسی ترقی جو انسان کو قرض، خواہشات، طبقاتی دَباؤ اور اخلاقی خلا کا غلام نہ بنا دے۔

    اقدار سے آزاد معاشیات کا فریب توڑنے کا مطلب یہی ہے کہ معیشت کو دوبارہ انسان کی حقیقی ضروریات، اخلاقی اصولوں، اجتماعی عدل اور قومی مقاصد کے تابع کیا جائے۔ جب تک جدید معاشیات اپنے نظریاتی اور اخلاقی مفروضات کو چھپاتی رہے گی، وہ طاقت ور طبقات اور غالب سرمایہ داری نظام کی خدمت کرتی رہے گی، لیکن جب معاشیات کو اخلاق، عدل اور انسانی وقار کے ساتھ جوڑا جائے گا تو وہ محض دولت بڑھانے کا علم نہیں رہے گی، بلکہ معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنے گی۔

    امام شاہ ولی اللہؒ کی معاشی حکمت اسی تبدیلیِ نظر کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ معیشت انسان کے لیے ہے، انسان معیشت کے لیے نہیں۔ دولت ضرورت ہے، مقصد نہیں۔ منڈی ذریعہ ہے، حاکم نہیں اور ترقی اسی وقت حقیقی ہے جب وہ انسان کو وقار، معاشرے کو توازن اور اجتماعی زندگی کو عدل کی مضبوط اساس فراہم کر دے۔

    Share via Whatsapp