غربت کی نئی لہر اور پاکستان کا معاشی ماڈل - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • غربت کی نئی لہر اور پاکستان کا معاشی ماڈل

    حالیہ سرویز کے مطابق ملک میں غربت کی شرح گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ 7 کروڑ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے

    By Fahad Muhammad Adiel Published on Mar 16, 2026 Views 291

    غربت کی نئی لہر اور پاکستان کا معاشی ماڈل

    تحریر: فہدمحمد عدیل۔ گوجرانوالہ 

    حکومتی نمائندوں کے دعوؤں، نعروں اور اخباری بیانات کے برعکس، وطنِ عزیز میں سال 2026ء کے آغاز تک بھی معیشت غربت، بدانتظامی اور معاشی عدمِ استحکام کے بھنور سے باہر نہیں نکل سکی۔ اس کی واضح دلیل خود حکومتی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار ہیں۔ سال کے آغاز میں وزیرخزانہ کے زیرصدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکومت کے زیرِانتظام اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اِن اداروں کو مجموعی طور پر 123 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اِن خسارہ زدہ اداروں میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور پاکستان ریلویز سرفہرست ہیں۔ (1)

    اداروں کی مجموعی نااہلی کے باعث ملک میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ایک معمول بنتا جارہا ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق ملک میں غربت کی شرح گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب میں غربت کی شرح 16.5 فی صد سے بڑھ کر 23.3 فی صد ہوگئی ہے، حال آں کہ اسی صوبے میں حکومت کی جانب سے گڈگورننس کے دعوؤں پر مبنی تشہیری مہمات پر ماہانہ اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔دستیاب رپورٹس کے مطابق، اِس وقت ملک کی تقریباً 7 کروڑ آبادی مقررہ خطِ غربت سے نیچے، ماہانہ صرف 8,484 روپے کی آمدن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مزید یہ کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح بھی تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یہ گزشتہ 21 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔ (2)

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی شعور کی بنیاد پر یہ سوال اُٹھایا جائے کہ ملک کے حالات ابتری کی جانب کیوں گامزن ہیں، اور گزشتہ 78 برسوں میں معاشی آسودگی کی منزل کیوں حاصل نہیں کی جا سکی۔ اگر پاکستان کے موجودہ معاشی ماڈل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ماڈل عوام کی بنیادی ضروریات، ان کے آئینی حقوق اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں سب سے اہم وَجہ غیرمنصفانہ ٹیکس نظام ہے۔ دنیا کے ہر معقول نظامِ معیشت میں ٹیکس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے طبقے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے، مگر پاکستان میں اس کے برعکس صورتِ حال نظر آتی ہے۔ قومی خزانہ بھرنے کا بوجھ عوام الناس پر ڈال دیا گیا ہے، جب کہ مسرفانہ اور پُرتعیش زندگی گزارنے کا اختیار ملکی اشرافیہ کے پاس ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر 18 فی صد جنرل سیلز ٹیکس، ڈیزل پر 55 روپے اور پیٹرول پر 105 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی، کاربن لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر محصولات براہِ راست عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بجلی کے بلوں میں عوام اس وقت جنرل سیلز ٹیکس، الیکٹریسٹی ڈیوٹی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس اور فنانسنگ کاسٹ جیسے اضافی بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ وطنِ عزیز میں بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں 18 فی صد جی ایس ٹی تقریباً ہر شے کی خریداری پر عوام ادا کر رہے ہیں۔ اِن بالواسطہ ٹیکسوں کے نتیجے میں افراطِ زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح 7.74 فی صد بتائی جاتی ہے، جب کہ زمینی حقائق کے مطابق اشیائے خوردونوش اس وقت 25 سے 30 فی صد اور روزمرہ استعمال کی عام اشیا 40 سے 50 فی صد تک مہنگی ہوچکی ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے دوران، باوجود اس کے کہ ملک میں تقریباً ایک ماہ کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود تھا، حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے، جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 130 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا، جو ملکی تاریخ کا  سب سے بڑا  اضافہ قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دستیاب ذخیرے کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کر کے تقریباً 80 ارب روپے سے زائد رقم عوام کی جیبوں سے نکلوائی گئی۔ بعض آراء کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا، جب کہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اِس اقدام سے ڈیلرز اور تیل کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ جو بھی وَجہ ہو، اِس اضافے کے نتیجے میں عوام کو مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور افراطِ زر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ پالیسی غربت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ مسلسل افراطِ زر، قیمتوں میں عدمِ استحکام اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے باعث عوام کی حقیقی آمدن میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ سلسلہ قیامِ پاکستان کے بعد سے کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔

    مزید برآں، پاکستان کی تجارتی پالیسی ابتدا ہی سے عدمِ توازن کا شکار رہی ہے۔ ادائیگیوں کے توازن کا بحران—یعنی درآمدات کا برآمدات سے کہیں زیادہ ہونا—درحقیقت غیرضروری اور مسرفانہ اشیا کی کثرت سے درآمدات، ڈالر پر بڑھتے ہوئے انحصار اور مقامی صنعتی نظام کی بڑھوتری نہ ہونے  کا لازمی نتیجہ ہے۔ مالیاتی خسارے کی بنیادی وَجہ حکومتی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہے۔ اِنھی عوامل کے باعث پاکستانی حکمران طبقہ ہمیشہ بیرونی قرضوں پر انحصار کرتا آیا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، مفادپرستانہ رویّوں اور ذاتی کمیشن خوری کی غرض سے مرتب کی جانے والی تجارتی پالیسیوں کے تحت ایسی اشیا کی درآمد کی اجازت دے دی جاتی ہے، جن کی عوام الناس کو سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2025ء تک تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.07  ارب  ڈالر تک جا پہنچا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فی صد زیادہ ہے۔ (3)

    اسی طرح مالیاتی خسارہ بھی کم و بیش 6.17 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جو خام قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 5.38 فی صد بنتا ہے۔ اس مالیاتی خسارے کی ایک بڑی وَجہ حکومتی وزراء اور اعلیٰ بیوروکریسی کے شاہانہ اور غیرضروری اخراجات ہیں۔ پنجاب کی وزیرِاعلیٰ کے لیے نیا ہوائی جہاز، بیوروکریٹس کے ذاتی اور دفتری استعمال کے لیے علاحدہ علاحدہ گاڑیاں، اور پیٹرول کی غیرمحدود سہولتیں آج کل سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

    پاکستان میں غربت کی مذکورہ بالا وجوہات میں سے ایک نہایت اہم اور بنیادی وَجہ بیوروکریسی، کاروباری طبقات (تاجر و صنعت کار) اور حکومتی وزرا کی منظم کرپشن اور اس کے نتیجے میں کمائی گئی دولت کو بیرونِ ملک منتقل کرنا ہے۔ پانامہ لیکس اور دبئی لیکس کے بعد حال ہی میں شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹس کے مطابق 22 ہزار سے زائد بیوروکریٹس بیرونِ ملک شہریت کے حامل ہیں۔ یہاں سے کمائی گئی دولت کو جائز اور ناجائز ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل کرنا ملکی اشرافیہ کا ایک معمول بن چکا ہے۔ (4)

    پاکستان میں بڑے کاروباری افراد کو مختلف شعبہ جات میں غیرمعمولی منافع کمانے اور اسے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے بالواسطہ اور بلاواسطہ حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ ملک کے بزنس ٹائیکونز بیرونِ ملک وسیع پیمانے پر اثاثوں کے مالک ہیں، جنھیں وہ اپنی جائز کمائی قرار دیتے ہیں، حال آں کہ اس دولت کی شفافیت اور قانونی حیثیت ہمیشہ سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ورلڈاکنامکس ڈاٹ کام  کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غیررسمی یا غیرقانونی معیشت (Shadow Economy) کا حجم کم و بیش خام قومی پیداوار (GDP) کے ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے،جس کے نہ تو واضح اعداد و شمار دستیاب ہیں اور نہ ہی یہ ریاستی کنٹرول میں ہے۔بعض معاشی ماہرین کے مطابق ملک کی 40 سے 60 فی صد معیشت غیررسمی یا غیرقانونی دائرے میں گردش کررہی ہے۔اس تمام صورتِ حال کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے،اور یہی وَجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں افراد متوسط طبقے سے نکل کر خطِ غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ (5)

    اگر قانونی معیشت کا بھی جائزہ لیا جائے تو ملک میں سرمایہ پر مبنی صنعت (Capital Intensive)کو محنت پر مبنی صنعت (Labour Intensive Economy)  کے مقابلے میں  واضح طور پر حکومتی مراعات اور سرپرستی حاصل ہے۔ گزشتہ 25 برسوں کے دوران ، پاکستان میں ریئل اسٹیٹ انڈسٹری— خصوصاً ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کاروبار— نے ملک میں غربت اور امارت کے درمیان تفاوت کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ پلاٹس اور فائلوں کی جائز و ناجائز خرید و فروخت میں محنت کش طبقے کا عملاً کوئی کردار نہیں، جب کہ اس شعبے سے منسلک محدود طبقے کے ہاتھوں میں دولت کا بے تحاشا ارتکاز ہوچکا ہے۔ اس صورتِ حال نے معاشرے میں غربت اور امارت کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔

    مضمون کی طوالت مذکورہ معاشی مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی اجازت نہیں دیتی، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ریاست کا موجودہ معاشی ماڈل عوام کے معاشی حقوق اور بنیادی سہولیاتِ زندگی فراہم کرنے میں نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، بلکہ ہر سال کروڑوں افراد کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک منصفانہ اور انسان دوست معاشی نظام کے قیام کے لیے سنجیدہ جدوجہد کی جائے اور اس کے بارے میں اجتماعی شعور بیدار کیا جائے۔

    حوالہ جات:

    1. https://tribune.com.pk/story/2586364/soe-net-losses-jump-300-in-a-year

    2. https://urdu.brecorder.com/news/40283204/

    3. https://www.brecorder.com/news/40400355

    4. https://tribune.com.pk/story/2589387/dual-nationality-enigma

    5. https://www.worldeconomics.com/Informal-Economy/Pakistan.aspx

    Share via Whatsapp