امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاشی فکر کی عصری اہمیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاشی فکر کی عصری اہمیت

    بر صغیر کی عظیم و فکر حضرت امام ص ولی اللہ دہلی رحمت اللہ علیہ نے صدیوں پہلے اس بنیادی نکتے کو نہایت ہی بصیرت سے واضح کیا کہ معاشی نظام دراصل اخلاقی ن

    By منظور اللہ خان Published on Mar 03, 2026 Views 13
    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاشی فکر کی عصری اہمیت
    تحریر: منظور اللہ۔ ککی بنوں

    معاشی نظاموں کی بحث میں اقوام کے معاشی بحران کو عموماً اعداد و شمار، منڈی کی حرکات اور حکومتی پالیسیوں کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے، مگر یہ سوال کم ہی اُٹھایا جاتا ہے کہ معیشت انسان کے باطن، اخلاق اور رویّوں پر کیا اَثر ڈالتی ہے۔ کیا دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم صرف غربت پیدا کرتی ہے؟یا یہ انسان کے اخلاقی وجود کو بھی آہستہ آہستہ کھوکھلا کردیتی ہے؟
    برصغیر کے عظیم مفکر حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے صدیوں پہلے اس حقیقت کو نہایت بصیرت سے واضح کیا تھا کہ معاشی نظام دراصل اخلاقی نظام کی عملی شکل ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک بازار محض خرید و فروخت کی جگہ نہیں، بلکہ کردارسازی کی ایک خاموش، مگر طاقت ور تجربہ گاہ ہے۔ یہی بنیادی تصور اس تحریر کی روح ہے کہ معیشت انسانی رویّوں کو کیسے ڈھالتی ہے اور عدلِ معاش کیوں محض اقتصادی نہیں، بلکہ اخلاقی، سماجی اور روحانی ضرورت بھی ہے۔
    معیشت: کردار سازی کا خاموش معمار:-----
    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کا عروج و زوال صرف تلوار یا تخت سے نہیں طے ہوتا، بلکہ اس معاشی نظام سے جنم لیتا ہے، جس میں انسان زندگی بسر کرتا ہے۔ معیشت صرف پیٹ نہیں بھرتی، بلکہ دلوں کے مزاج اور ذہنوں کی سمتیں بھی متعین کرتی ہے۔
    امام شاہ ولی اللہؒ انسان کو مدنی الطبع قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا وجود جو سماجی رشتوں اور باہمی تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہی تعاون معاشی لین دین کے ذریعے عملی صورت اختیار کرتا ہے،مگر جب یہی لین دین انصاف سے ہٹ جائے تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور انسانی فطرت میں بگاڑ سرایت کر جاتا ہے۔
    رزقِ حلال صرف معاشی ضرورت نہیں، بلکہ روحانی طہارت کا بھی سرچشمہ ہے۔ دیانت پر مبنی کمائی دل میں سکون پیدا کرتی ہے، جب کہ ناجائز ذرائع سے آنے والی دولت خوف، بےچینی اور بے برکتی کو جنم دیتی ہے۔ یوں معیشت خاموشی سے انسان کے باطن پر اپنے گہرے اَثرات ثبت کرتی رہتی ہے۔
    ارتکازِ دولت: فاصلے صرف جیبوں میں نہیں، دلوں میں بھی بن جاتے ہیں :------
    امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا محض اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی سانحہ ہے۔ جب امارت طاقت بن جائے اور غربت محرومی، تو دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی ہوجاتی ہیں۔
    امیر احساسِ برتری میں مبتلا ہوتا ہے اور غریب احساسِ محرومی میں۔ نتیجتاً معاشرہ اعتماد سے خالی ہو کر حسد، شکوک وشبہات اور بداعتمادی کا میدان بن جاتا ہے۔ اسی لیے دین اسلام نے اپنے معاشی نظام میں زکوٰۃ، صدقات۔انفاق اور وراثت جیسے اصول بیان کیے ہیں، تاکہ دولت گردش میں رہے اور معاشرہ نفرت سے نہیں، بلکہ انسانی اخوت و محبت سے باہم مربوط و مستحکم رہے۔
    سود اور حرص کی ثقافت: اخلاق کا زوال:---
    امام شاہ ولی اللہؒ سود کو ایک ایسی بیماری قرار دیتے ہیں جو انسانی مزاج کو بگاڑ دیتی ہے۔ سودی نظام میں دولت محنت کے بغیر بڑھتی ہے۔ یوں محنت کی اہمیت گھٹتی چلی جاتی ہے اور سرمائے کی حاکمیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ خدمت کی جگہ منافع اور ایثار کی جگہ مقابلہ بازی لے لیتی ہے۔
    جب کامیابی کا پیمانہ صرف زیادہ سے زیادہ منافع بن جائے توخونی رشتوں تک مفاد کے لیے قربان ہوجاتے ہیں۔ انسان انسان نہیں رہتا، بلکہ دوسروں کا استحصال اس کاوطیرہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ اخلاقی بحران ہے، جس کی نشان دہی امام شاہ ولی اللہؒ نے اپنے زمانے میں کر دی تھی اور جسے آج ہم پوری شدت سے محسوس کررہے ہیں۔
    مثبت رویوں کی بنیاد پر عدلِ معاشی کی ضرورت و اہمیت:-----
    سماج میں جب معیشت عدل پر استوار ہو تو معاشرہ سکون کا سانس لیتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کے تصورِ عدل کے ثمرات یہ ہیں:
    امانت و دیانت
    باہمی اعتماد
    ایثار و ہمدردی
    قلبی اطمینان
    جب ہر فرد کو اس کا حق ملتا ہے تو حسد شکر میں بدل جاتا ہے اور نفرت احترام میں ڈھل جاتی ہے۔ یوں معیشت محض نظام نہیں رہتی، بلکہ اخلاقی تربیت کا عملی مدرسہ بن جاتی ہے۔
    ریاست: اخلاقی فضا کی محافظ 
    امام شاہ ولی اللہؒ ریاست کو محض نظم و نسق کا ادارہ نہیں، بلکہ عدل کی محافظ سمجھتے ہیں۔ اگر ریاست احتکار اور استحصال کا راستہ روکے، ٹیکس میں توازن قائم کرے اور عوامی فلاح کو ترجیح دے تو معاشرے میں قانون پسندی اور ذمہ داری فروغ پاتی ہے۔لیکن جب ریاست خود مفادپرستی میں مبتلا ہو جائے تو رشوت، بدعنوانی اور موقع پرستی عام ہوجاتی ہے، کیوں کہ انسان اپنے ماحول کی پرچھائیوں سے زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکتا۔
    آج کی ذمہ داری:
    ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کا پیغام: فکرِ شاہ ولی اللہؒ کے پیٹرن پر سماجی تبدیلی کی دعوت:-----
    آج یہ فکر محض کتابوں تک محدود نہیں رہا۔ امام شاہ ولی اللہؒ کے فکری ورثے کو آگے بڑھانے والا ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور آج بھی قرآن فہمی، عدلِ معاشی اور اخلاقی بیداری کے ذریعے سماجی تبدیلی کی جدوجہد کررہا ہے،جس کی مؤقر شاخیں پورے ملک میں اپنی بہاریں بکھیر رہی ہیں ۔
    خصوصاً نوجوانوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام اور دعوت ہے کہ وہ خود اس فکری قافلے کا حصہ بنیں، کیوں کہ حقیقی سماجی تبدیلی نعروں سے نہیں، بلکہ کردار سے جنم لیتی ہے۔
    خلاصہ_ :
    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے:
    معاشی وسائل کی صرف تقسیم نہیں،بلکہ اس پر اپنے مزاج اور رویوں کی تشکیل ہے۔کیوں کہ عدل پر قائم معیشت دِلوں کو جوڑتی ہے، جب کہ ظلم پر قائم معیشت محنت کشوں کے آہنی حوصلوں کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں کو بھی توڑ دیتی ہے۔
    اگر ہم دیانت، سکون اور ہمدردی کو معاشرے میں واپس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنےبازار کے سارے سسٹم کو دینی اخلاقیات کے تابع کرنا ہوگا۔ کیوں کہ کردار کی تعمیر صرف مسجد اور مدرسے تک محدود نہیں ، بلکہ اسی بازار میں اس کی کردار سازی ہوتی ہے، جہاں انسان اپنی روزی کماتا ہے اور اپنا ضمیر آزماتا ہے۔
    Share via Whatsapp