ملکی معیشت کے بگاڑ میں اشرافیہ کا کردار
پاکستان کے بننے سے ابتک چند خاندان ہی اس ملک پر مسلسل حکمرانی قائم رکھے ہوئے ہیں اور ان کے فیصلہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔
پاکستان کے بننے سے ابتک چند خاندان ہی اس ملک پر مسلسل حکمرانی قائم رکھے ہوئے ہیں اور ان کے فیصلہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔
اسلام کے معاشی نظام کی روح انسانیت دوستی و انسانی خدمت ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا مقصد انسانیت کا استحصال اور سرمایہ و دولت کی حرص و ارتکاز
کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے مستحکم معاشی نظام کا قیام ناگزیر ضرورت ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں عوام کی چیخ و پکار کا سارا ملبہ ایک حکومت سے دوسری اور دوسری حکومت سے تیسری حکومت پر ڈالا جاتا ہے۔
عدمِ استحکام سرمایہ داریت کے دوام کے لیے از حد ضروری ہے
سرمایہ دارنہ یا سامراجی نظام کی چھتری تلے ہونے ہونے کسی بھی قسم کی سماجی یا معاشی سرگرمی مظلوم و محکوم لوگوں کے لیے استحصال کا باعث بنتی ہیے -
Capitalist system creates Non level-playing field in the society, hence widening the rich-poor divide.
کوئی بھی شخص خدا کو تب تک نہیں پہچان سکتا جب تک وہ دنیا میں اپنے بھیجے جانے کے مقصدکو نہ جان لے۔
بحران, سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہیں۔ تمام بحران اسی نظام کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ بحران اور سرمایہ داریت لازم و ملزوم ہیں۔
مسلمانوں کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد جب اس خطہ پر انفرادیت و گروہیت پر مبنی فکر کی اساس پر ظالمانہ سیاسی و معاشی نظام مسلط کیا گیا تو اس معاشرے کی تباہی
اس تحریر کا مقصد لوگوں کو معاشیات اور اخلاقیات کے باہمی ربط سے آگاہ کرنا ہے