ڈگری ملتی ہے، زندگی نہیں
پاکستان میں ہر سال لاکھوں طلبا ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں کردار ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں، مگر ....
ڈگری ملتی ہے، زندگی نہیں
پاکستان کے تعلیمی نظام کا اصل بحران
تحریر؛ سلیمان علی (پشاور)
پاکستان میں ہر سال لاکھوں طلبا ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں کردار ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں، مگر ان میں ایک بڑی تعداد مہارت و ہنر، روزگار اور درست سمت کے بحران کا شکار ہوتی ہے۔ یہ ناکامی صرف ان نوجوانوں کی نہیں، بلکہ اُس مکمل نظام کی ہے جس نے اسے ڈگری تو دی، مگر عملی زندگی کی مہارت اور درست سمت نہیں دی۔
پاکستان میں تعلیم کو قومی ترقی، شعور، سماجی ترقی و تبدیلی کا ذریعہ مانا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ہمارا تعلیمی نظام اپنے بنیادی مقصد سے ہر گزرتے دن دور ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم ایک طرف بنیادی اور آئینی حق ہے، مگر دوسری طرف یہاں پر یہ کاروبار بن چکا ہے، جس طبقے کے پاس وسائل ہیں وہی بہتر اساتذہ، سکولز اور زبان خرید لیتے ہیں۔ اس کے برعکس غریب طبقہ سرکاری سکولوں یا پھر انتہائی غیرمعیاری نجی اداروں کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔ یوں سسٹیمیٹک طریقے سے سوسائٹی میں برابری پیدا کرنے کے بجائے مزید طبقاتیت کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔
2024ء کی پاکستانی اکنامک سروے کے مطابق ملک میں شرح خواندگی کی مجموعی صورتِ حال انتہائی گھمبیر ہے۔ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پنجاب میں یہ شرح 66.25 فی صد ہے۔ سندھ میں 57.54 فی صد، خیبرپختونخوا میں 51.09 فی صد، جب کہ بلوچستان میں صرف 42.01 فی صد ہے۔ اسی طرح پھر شہری علاقوں میں شرح خواندگی 74.04 فی صد ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں شرح کم ہو کر صرف 51.56 فی صد رہ جاتی ہے۔ (ادارہ شماریات حکومت پاکستان 2025ء)۔
یہ اعداد و شمار صرف تعلیمی کمزوری کو نہیں ظاہر کرتے، بلکہ ریاستی ترجیحات، صوبائی عدمِ مساوات، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طبقاتی فرق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ جب ایک صوبہ میں 66 فی صد شرح خواندگی ہو اور دوسرے میں 42 فی صد تو مسئلہ صرف سکولوں کی تعداد کا نہیں رہتا، بلکہ پالیسی سازی، وسائل کی غلط تقسیم اور حکمرانی نا اہلی کا سوال بن جاتا ہے۔
تعلیم قومی ترجیح کیوں نہیں بن سکی؟
پاکستان میں تعلیمی نظام کے لیے منصوبہ بندیاں، اعلانات، پالیسیاں اور تعلیمی ایمرجنسیاں تو اکثر سامنے آتی ہیں، مگر مستقل حل پر کام افسوس ناک حد تک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2015ء میں جولائی سے مارچ تک وفاقی اور صوبائی تعلیمی اخراجات ملک کی کل جی ڈی پی کا صرف 0.8 فی صد رہا ۔ (حوالہ بالا)۔
ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں بچے سکول سے باہر ہیں، وہاں تعلیم کو قومی ترجیحی بنیادوں پر نہ رکھنا واضح ثبوت ہے کہ مقتدرہ اس کو قومی ترقی اور معاشرتی اِصلاح کا مرکزی مسئلہ سمجھتی ہی نہیں۔
فیصل باری نے اپنے مضمون جو ڈان میں شائع ہوا ہے، میں نشان دہی کی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران یک دم پیدا نہیں ہوا، بلکہ یہ طویل عرصے کی غفلت، کمزور منصوبہ بندی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے۔
یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہمارے پالیسی ڈھانچے کی اصل کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہاں وعدے اور اعلانات تو کیے جاتے ہیں، مگر مستقل حل کے لیے کام کم نظر آتا ہے۔
رسائی کے ساتھ معیار کا سوال
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے مطابق 2021-20 میں پانچ سے سولہ (16) سال کے تقریباً 26.21 ملین بچے اسکول سے باہر تھے۔ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن 2024)۔
اس سروے کے مطابق تقریباً 38 فی صد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ بعض جگہوں پر یہ شرح اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسے بلوچستان میں 69 فی صد بچے سکول سے باہر ہیں۔ یعنی ہر (10) میں سے 7 بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ مستقبل کی ضائع ہونے والوں نسلوں کی خاموش تصویر ہے۔
یہ مسئلہ صرف سکول تک بچوں کو لانے تک محدود نہیں، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ جو بچے سکولوں میں داخل بھی ہیں، کیا وہ واقعی کچھ سیکھ بھی رہے ہیں؟ کیا ان میں مارکیٹ اور عملی دنیا میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا کی جارہی ہے؟ جب تعلیمی نظام میں رَٹے کے کلچر کو پروموٹ کیا جائے، اُس میں بنیادی سہولیات موجود ہی نہ ہوں تو وہ سکول میں بیٹھا بچہ بھی معیاری تعلیم سے محروم رہتا ہے۔
تعلیم کا خدمت سے کاروبار تک کا سفر
پاکستان میں تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ معاشرتی بہتری، سماجی ترقی، عوامی خدمت کے بجائے کاروباری شکل اختیار کرچکا ہے۔ بڑے جامعات ڈگریوں کو روزگار اور نجی تعلیمی ادارے بہتر سہولتوں کے نام پر فیس بڑھا کر کمانے کے چکر میں ہیں۔ کراچی سے لاہور تک اکیڈمیز، کوچنگ سینٹرز اور اداروں کا پورا نظام ایک منافع بخش کاروباری منڈی میں تبدیل ہوچکا ہے، جب کہ تعلیم کی روح یعنی کردارسازی، فکری تربیت، شعور اور مہارتوں سے کوسوں دور ہوچکے ہیں۔ ایسے ماحول میں تعلیم کو کاروبار اور ڈگری کو نوکریوں کے حصول تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
نصاب اور روزگار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ
اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق دیکھا جائے تو تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل مہارتیں، اخلاقی شعور اور عملی تجربہ حاصل کرنا ناگزیر ہے، لیکن ہمارا نصاب آج بھی بڑی حد تک امتحان، رَٹے، نمبروں اور رسمی ڈگری کی حد تک محدود ہے۔
مختلف اخبارات کے معتبر مضمون نگاروں نے اپنے آرٹیکلز میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کا تجزیہ کر کے بے روزگاری (جو قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے) کی وجوہات میں تعلیم اور معیشت کی عصری ضرورتوں کے درمیان اجنبیت، جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان کمزور رابطے اور مجموعی معاشی کمزوری جیسے امور کو شامل کیاہے۔ اس لیے قصور اُس نوجوان کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو اُسے ڈگری تو دیتا ہے، لیکن ہنر، عملی رہنمائی، درست سمت اور عملی دنیا میں کام کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔
یہ تعلیمی بحران پھر آگے بڑھ کر سماجی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جب ایک نوجوان برسوں محنت کے بعد بھی باعزت روزگار اور مواقع حاصل نہیں کرتا تو اُس کے اندر احساسِ محرومی، مایوسی، ذہنی دَباؤ، بے سمتی اور ریاستی نظام سے لاتعلقی پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ تعلیم جب بہتر زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتی تو پھر اس پر وقت، پیسہ اور اتنی محنت کیوں صرف کی جائے۔
حل کا ممکنہ راستہ
اس سنگین بحران کا حل سطحی طور پر نمائشی اعلانات، اقدامات یا سطحی اصلاحات سے نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے بجٹ میں تعلیم کو دی گئی جی ڈی پی 0.8 فی صد سے بڑھا کر کم از کم 4 سے 6 فی صد تک لے جایا جائے۔ (جو UN ایجوکیشن 2030ء فریم ورک کے تحت طے پایا ہے)۔ پھر ان کا استعمال شفاف اور نتیجہ خیز ہو۔ ہر جگہ کے لیے مکمل پلاننگ موجود ہو کہ کتنے بچے سکول سے باہر ہیں، تعلیم کا معیار کیسا ہے؟ مطلوبہ سہولتیں پوری ہیں یا نہیں، صلاحیت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ ان سب پر سنجیدگی سے عمل درآمد اور نگرانی کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم قدم تعلیم سے طبقاتیت کو ختم کرنا ہے۔ سرکاری تعلیم کا معیار اچھا کرنا ہے، کیوں کہ نجی ادارے معاون کا کردار تو ادا کر سکتے ہیں، لیکن وہ ریاست کا متبادل نہیں بن سکتے۔ پس ماندہ علاقوں یا دیہی علاقہ جات جو کسی بھی صوبے میں ہوں وہاں کے کمزور تعلیمی علاقوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
تیسرا اہم قدم نصاب اور امتحانی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ رَٹے کے بجائے فہم، اخذ، عملی منصوبوں، اخلاقی تربیت، تجزیاتی صلاحیت، فنی مہارت اور پیشہ ورانہ رہنمائی کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ شروع سے ہی کیریئر کونسلنگ کے ذریعے سمجھایا جائے کہ کون سا شعبہ کس ہنر، روزگار اور سماجی ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح جامعات کو ڈگری چھاپنے اور دینے والی مشین کے بجائے تحقیق، صنعت، معیشت اور سماجی مسائل سے منسلک کر دیا جائے۔
مختصراً یہ کہ پاکستان کے پاس مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں لوگ تعلیمی نظام سے نکل کر عملی زندگی میں آتے ہیں، جب ایک بار نوجوان بے سمت اور ہنر و صلاحیت کے بغیر میدان عمل میں آجائے تو پھر اُسے سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ بحران کسی ایک حکومت، ایک صوبے، ایک نصاب یا ایک ادارے کا نہیں، یہ پورے نظام کی ترجیحات کا بحران ہے۔ جب تعلیم کو نوکری یا کاروباری حد تک محدود کر دیا جائے تو پھر ڈگریاں تو بڑھتی ہیں، مگر شعور، صلاحیتیں، کردار اور روزگار نہیں بڑھتے۔ پاکستان میں تعلیم کو خیرات نہیں، بلکہ بنیادی حق، خرچ نہیں، بلکہ مفید سرمایہ کاری اور ڈگری نہیں، بلکہ زندگی کی تیاری سمجھنا ہوگا۔ یہی سوچ نوجوان نسل کو بوجھ کے بجائے قومی سرمایہ بنا سکتی ہے۔









