حقیقت کی جستجو:ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ ؒ کا مکالمہ
یہ مکالمہ سرمایہ داریت، اشتراکیت اور اسلامی نظامِ حیات کے درمیان ایک فکری ٹکراؤ ہے، جہاں شاہ ولی اللہ انسانی فطرت پر مبنی ایک متبادل حل پیش کرتے ہیں ۔

حقیقت کی جستجو:ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ ؒ کا مکالمہ
تحریر: سفیان خان۔ بنوں
تعارف شخصیات:
ایڈم سمتھ (1723-1790ء): جدید سرمایہ داری (Capitalism) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی مشہور کتاب The Wealth of Nations میں انھوں نے آزاد منڈی، لامحدود نجی ملکیت، مسابقت اور خودکار معاشی نظام کے اصول پیش کیے۔
کارل مارکس (1818-1883ء): سوشلسٹ اور کیمونسٹ نظریات کے بانی، جنھوں نے Das Kapital میں سرمایہ داری پر سخت تنقید کی۔ انھوں نے سرمایہ داری کے ردِعمل میں اپنا فکر پیش کیا۔
شاہ ولی اللہؒ (1703-1762ء): برصغیر کے عظیم اسلامی مفکر و مجدد، جنھوں نے حجۃ اللہ البالغہ اور دیگر تصانیف میں جدید دور کے مطابق اسلام کا عادلانہ نظام پیش کیا۔
شاہ ولی اللہؒ نے حجۃ اللہ البالغہ 1734ء میں تحریر کی۔ یہ وہ وقت تھا، جب دنیا ابھی سرمایہ داری اور اشتراکیت کے نظریات سے ناآشنا تھی۔ ایڈم سمتھ کی دی ویلتھ آف نیشنز (1776ء) کو آنے میں ابھی بیالیس سال باقی تھے، جب کہ کارل مارکس کی داس کیپیٹل (1867ء) تو ڈیڑھ صدی بعد منظرعام پر آئی۔ مگر شاہ صاحب نے اس سے کہیں پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک ایسا عادلانہ نظام پیش کر دیا تھا جو انسانی فطرت، معیشت، سیاست اور معاشرت کے حقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔
ایڈم سمتھ بولا!
دنیا کا نظام مسابقت پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بہ خود خوش حال ہوجائے گا۔ یہی کیپیٹل اِزم کا حسن ہے۔ آزاد منڈی میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
کارل مارکس نے کہا!
مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف مشین کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمھاری آزادمنڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصال کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔
ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):
دیکھو! یہ تگ و دو ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
کارل مارکس (تلخ لہجے میں):
یہی تو تمھارا دھوکا ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمھاری مسابقت دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب ہوجاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلاب فرض ہوجاتا ہے۔
ایڈم سمتھ (سرگرداں ہوکر):
رُکو بھائی! کون سا دھوکا، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت، یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آرہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے کیوں کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
کارل مارکس (غصہ ہوکر):
انھیں تو آپ رہنے ہی دیجئے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہؒ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں۔)
سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے اور مارکس! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بہ خوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روح کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مذہب کو رَد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔
کارل مارکس (حیران ہوکر):
عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا۔ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):
یہ تمھاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (by default version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزادمنڈی کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی تمھارے انقلاب کی بے روح مادیت کو۔ یہ تو انسان کی جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اُٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔
ایڈم سمتھ (مداخلت کرتے ہوئے):
شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہے۔ یہاں طاقت ور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے شہرت ہے اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصل ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیوں کہ اس کے پاس Bargaining power نہیں ہوتی۔
شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں):
سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پاؤ گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ طاقت ور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقت تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں۔لیکن اس کے لیے اساس محنت ہے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا، بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب.....!!
کارل مارکس (سوچ میں ڈوب کر):
یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹل اِزم کے ردِعمل میں جذباتی ہوکر فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کردی...!
شاہ ولی اللہ (اطمینان سے):
یہی مکالمہ کا حسن ہے!
سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں.... اور مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!