کتاب ”دارالعلوم دیوبند“ کا تعارف
دارالعلوم دیوبند ولی اللہی فکر کا عملی مرکز بن کر سامنے آیا۔
کتاب ”دارالعلوم دیوبند“ کا تعارف
تحریر ؛ اسامہ احمد، اسلام آباد
برعظیم ہند کی دینی و فکری تاریخ میں دارالعلوم دیوبند محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ”ہمہ گیر فکری، اور عملی تحریک“ کا عنوان ہے۔ یہ تحریک اس ”ولی اللہی منہج“ کی عملی تعبیر ہے، جس کی بنیاد حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے آج سے تقریباً تین سو سال قبل خود اپنے قلم سے مرتب کی اور جسے انھوں نے محض علمی ذخیرہ نہیں، بلکہ اُمت کی ہمہ جہت اصلاح کا ایک جامع نظام بنایا۔ یہ منہج کتاب و سنت، فقہ و حدیث، عقل و نقل اور ظاہر و باطن کے متوازن امتزاج پر قائم وہ ”جادۂ قویمہ“ ہے، جس نے برعظیم کی دینی تاریخ کی سمت متعین کی۔
حضرت شاہ ولی اللہ کے جانشین
حضرت امام شاہ ولی اللہؒ کے جلیل القدر فرزندوں نے اپنے والد کے علوم و افکار کو نہ صرف گہرائی سے سمجھا، بلکہ انھوں نے اسے، انھی کے منہج، تدریسی ترتیب اور عملی ربط کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس فکری تسلسل میں حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نے ولی اللہی اصطلاحات کی تشریح اور اس انقلابی نقطۂٔ نظر کو عمل کی سطح پر نافذ کرکے ایک زندہ وجاوید نمونہ قائم کیا۔ ان کے بعد حضرت شاہ محمد اسحاقؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ، حضرت امام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے اس فکر کو ”وسیع اجتماعیت“ کی صورت میں منظم کیا—یوں دارالعلوم دیوبند ولی اللہی فکر کا عملی مرکز بن گیا۔
شیخ الہند اور آپ کی جماعت ، تاریخی تسلسل کی امین
شیخ الہندؒ کے علوم اور ان کےہمہ گیر فکر کی امین ” جماعت شیخ الہند“ ہے، جن میں سے بالخصوص حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سے امام شاہ ولی اللہؒ کے علوم کو پڑھا اور پھر انھیں اپنی زندگی کا ”اوڑھنا بچھونا“ بنا لیا۔ اپنے زمانے میں وہ امام شاہ ولی اللہؒ کے علوم کے محقق، شارح اور عصری انداز میں تجدیدی تعبیر پیش کرنے والے مفکر تسلیم کیے گئے۔ انھوں نے ولی اللہی فکر کو سیاسی شعور اور عالمی تناظر، سے جوڑ کر اس کی وُسعت کو نمایاں کیا۔
اکیسویں صدی میں ولی اللہی علوم و معارف کے استاذ اور محقق
ولی اللہی عُلوم و مَعارِف کی تاریخی تسلسل کے ساتھ تعلیم و تدریس اور انھیں تحقیق کے ساتھ پیش کرنے والے مربی ”مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری“ ہیں۔ آپ خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے پانچویں مسند نشین ہیں۔ عصری عہد کے علمی حلقوں میں، آپ ولی اللہی علوم کی ترویج کےحوالے سے معروف شخصیت ہیں۔ آپ نے ولی اللہی علوم کی تعلیم وتشریح، تحقیق وتنقید اور نشر و اشاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا رکھا ہے—اور یہی وصف انھیں محض ایک عالِم نہیں، بلکہ تاریخی تسلسل کا ”فکری و تحریکی جانشین“ بناتا ہے۔
کجھ معنون کتاب کے بارے میں
یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کی وقیع تصنیف ”دارالعلوم دیوبند“کی تحقیق، تقدیم اور حواشی کی ذمہ داری مفتی عبد الخالق آزاد رائےپوری دامت برکاتہم نے باحسن پیرایہ میں انجام دی ہے۔ یہ کام محض فنی تحقیق نہیں، بلکہ ”حکمتِ قاسمیہ کی روشنی میں ولی اللہی فکر کی عصری تفہیم ہے“۔ ان کے حواشی اس کتاب کو تاریخی بیان سے اُٹھا کر فکری دستاویز بنا دیتے ہیں، جہاں دیوبند کی روایت، ولی اللہی منہج اور عصرحاضر کے جدید مسائل کے حل پر فکری سوالات ایک دوسرے سے قائم ہوجاتے ہیں۔
کتاب ”دار العلوم دیوبند“ کے مؤلف و شارح کی علمی خصوصیت
مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری کی علمی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ولی اللہی فکر کو نہ جامد روایت بننے دیتے ہیں اور نہ ہی اسے محض نظری مباحث تک محدود کرتے ہیں۔ ان کا منہج—بالکل حکمتِ قاسمیہ کی طرح—بامقصد، اعتدال پسند اور اجتماعی ہے، جس میں شریعت کی قطعیت، طریقت کی روحانیت اور عصرِحاضر کی فکری پیچیدگیوں کا بیک وقت حل پایا جاتا ہے۔ یوں وہ ولی اللہی فکر کے محض شارح نہیں، بلکہ ایک ترجمان اور منادِی ہیں۔
ہمارے لیے من جانب اللہ سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ ہم مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم کے زمانے میں موجود ہیں اور ہمیں ان سے استفادہ کا موقعہ میسر ہے۔ ان کی علمی و فکری خدمات دراصل ولی اللہی تحریک کے اس تسلسل کا اعلان ہیں جو دارالعلوم دیوبند سے ہوتی ہوئی آج بھی بھرپور صورت میں رہنمائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یوں ”دارالعلوم دیوبند“ نامی کتاب محض ایک ادارے کی تاریخ نہیں رہتی، بلکہ امام شاہ ولی اللہؒ سے لے کر حکمتِ قاسمیہ اور حکمت سعیدیہ (حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے خلیفہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رائےپوریؒ کے جانشین حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ مسند نشین رابع خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کی پیش کردہ عقل نقل اور کشف کی جامع فکر اور دعوت) کی متشکل تصویر بن جاتی ہے— اور وہ حضرت شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اَب اہلِ علم، طلبا دینی و عصری علوم اور فکرِ ولی اللہی کے فہم کے متمنی سنجیدہ طلب رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اجتماعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس میں پیش پیش ہوں، تاکہ وہ اکیسویں صدی کو عملیت سے آراستہ کرسکیں۔
اللہ تعالیٰ اس سفر میں ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین یارب العالمین!









