الفاظ سے حقیقت تک: پاکستان میں ماحولیاتی بحران کا لسانی و بیانیاتی پہلو
پاکستان میں ماحولیاتی بحران دراصل ایک لسانی و فکری المیہ ہے جہاں 'ترقی' اور 'وسائل' جیسے بیانیے فطرت کے حقیقی استحصال اور انسانی غفلت کو چھپانے کے لیے
الفاظ سے حقیقت تک: پاکستان میں ماحولیاتی بحران کا لسانی و بیانیاتی پہلو
تحریر: سلیمان علی ، پشاور
پاکستانی معاشرے، ترقی کے بیانیے، اور فطرت سے بگڑتے ہوئے رشتے پر ایک تنقیدی نظر
ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماحول کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانے سے پہلے اسے زبان میں کمزور کر دیا۔ دریا محض ”وسیلہ“ بن گیا، جنگل خام مال میں تبدیل ہو گیا، زمین ”استعمال“ کی چیز قرار پائی، اور ”ترقی“ کا مفہوم سڑکوں، عمارتوں اور پھیلتے شہروں تک محدود ہو کر رہ گیا۔یہی وہ مقام ہے، جہاں سوال اُٹھتا ہے: کیا ہمارا اصل بحران صرف ماحولیاتی ہے، یا اس سے پہلے یہ ایک لسانی اور فکری بحران بھی ہے؟ ماحولیاتی لسانیات (Eco linguistics) ہمیں بتاتی ہے کہ انسان فطرت کے ساتھ صرف رہتا نہیں، بلکہ زبان کے ذریعے اسے سمجھتا، نام دیتا اور پھر اسی کے مطابق برتاؤ بھی کرتا ہے۔ Arran Stibbe نے اسے “stories we live by” کہا ہے — وہ بیانیے جن پر معاشرے اپنی اقدار اور ترجیحات استوار کرتے ہیں (Stibbe, 2021)۔
الفاظ بدلنے سے دریا صاف نہیں ہوجاتے اور نہ جنگل واپس آ جاتے ہیں، لیکن زبان ہمارے شعور، پالیسیوں اور رویوں کی سمت ضرور متعین کرتی ہے۔ جب فطرت کو صرف ”وسائل“ کہا جاتا ہے تو اس کی اپنی داخلی قدر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ جب ”ترقی“ کو صرف کنکریٹ اور اسٹیل سے جوڑا جاتا ہے تو اس کی ماحولیاتی قیمت نظرانداز ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر شدید ہے۔ عالمی بینک کی Pakistan Country Climate and Development Report (2022) واضح کرتی ہے کہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ (urban sprawl)، کمزور فضلہ انتظام، آلودگی اور سبز جگہوں کی کمی نہ صرف ماحول، بلکہ انسانی صحت اور معاشی ترقی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسی طرح ”ترقی“ کا لفظ ہمارے ہاں اتنا خوش نما بن چکا ہے کہ اس پر سوال اُٹھانا بھی اکثر غیرضروری مزاحمت سمجھا جاتا ہے۔ نئی سڑک، نیا پل یا نئی ہاؤسنگ سکیم فوری طور پر ترقی کا استعارہ بن جاتی ہے، مگر کم ہی پوچھا جاتا ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے — درخت، پانی، مٹی یا آنے والی نسلیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی National Climate Change Policy 2021 خود اس خامی کو تسلیم کرتی ہے۔ پالیسی میں مناسب land use planning، افقی پھیلاؤ کے بجائے عمودی ترقی (vertical development)، خطراتی نقشہ بندی، شہری جنگلات کاری اور Green Building Code کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ Ten Billion Tree Tsunami جیسے اقدامات بھی اسی سمت میں اُٹھائے گئے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد اَب بھی محدود ہے۔
پانی کے معاملے میں ہماری زبان حقیقت کو اور بھی ادھورا کر دیتی ہے۔ ہم اکثر ”پانی کی کمی“ کی بات کرتے ہیں، جب کہ ”آلودگی“، ”غلط تقسیم“، ”ضائع کاری“ اور ”آبی انصاف“ جیسے اہم پہلو پس منظر میں رہ جاتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ بتاتی ہے کہ زمین کی زرخیزی کا نقصان اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی کمی، محفوظ پینے کے پانی کی دستیابی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ PCRWR کی Annual Report 2023–24 کے مطابق جولائی 2023ء سے جون 2024ء تک 763 بوتل بند پانی کے نمونوں میں سے 90 غیرمحفوظ پائے گئے۔ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں 45.2 فی صد آبی ذرائع انسانی استعمال کے لیے غیرمناسب تھے۔
سیلاب کے بیانیے میں بھی یہی فکری خامی نظر آتی ہے۔ ہر سیلاب کو ”قدرتی آفت“ کہہ کر ہم انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی، آبی گزرگاہوں پر قبضے اور ماحولیاتی بگاڑ کے سوالات کو دھندلا دیتے ہیں۔ 2022ء کے سیلاب کی Post-Disaster Needs Assessment کے مطابق نقصانات 14.9 ارب ڈالر، معاشی خسارہ 15.2 ارب ڈالر اور بحالی کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر درکار تھے (Government of Pakistan et al., 2022)۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیلاب کو صرف ”قدرت کا قہر“ کہنا مسئلے کے ایک بڑے حصے کو زبان میں ہی چھپا دینا ہے۔
پاکستانی تحقیقی کام بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ماحولیاتی بحران کی تشکیل میں زبان اور میڈیا کا کردار بنیادی ہے۔ Habib اور Zahra (2024) نے سیلابی نمائندگی کے Eco linguistics مطالعے میں دکھایا کہ میڈیا تباہی، جذباتی اثر اور لچک جیسے پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ Saleem اور Khan (2025) نے Dawn اخبار کی 2020-2025 کی آب و ہوا سے متعلق خبروں کے تجزیے میں framing اور erasure جیسے بیانیاتی طریقوں کی نشان دہی کی۔
نتیجہ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم فطرت کے بارے میں اپنی زبان اور سوچ دونوں بدلیں۔ ہمیں ایسی زبان درکار ہے جو دریا کو محض پانی کی لائن نہ سمجھے، بلکہ زندہ ماحولیاتی نظام مانے، درخت کو لکڑی نہ کہے، بلکہ زندگی، توازن اور بقا کا ستون سمجھے، اور ترقی کو سیمنٹ و سریے سے آگے لے جا کر انصاف، پائیداری اور آئندہ نسلوں کے حقوق سے جوڑے۔
نظامی ناکامیوں کو بھی زبان کے پردے میں چھپانا بند کرنا ہو گا۔
ناقص منصوبہ بندی کو ”قدرتی دَباؤ“، غلط پالیسی کو ”چیلنجز“ اور ادارہ جاتی کمزوری کو ”صورتِ حال کی نزاکت“ کہہ کر ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتے۔
جب تک ہم فطرت کو خام مال، سیلاب کو محض قدرتی حادثہ اور ترقی کو صرف تعمیری پھیلاؤ سمجھتے رہیں گے، ماحولیاتی بحران حل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں ہمیں ماحولیاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ بیانیاتی اصلاح کی بھی شدید ضرورت ہے۔ کیوں کہ بعض اوقات معاشرے پہلے زبان ہارتے ہیں، پھر زمین ہارتے ہیں۔









