ایسٹ انڈیا کمپنی کا عہد شکنی پہ مبنی استحصالی کردار
ایسٹ انڈیا کمپنی نسل پرستانہ سوچ اور بار بار عہد شکنی کی بنیاد پر ہندستان پر قابض ہو کر یہاں کے وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا عہد شکنی پہ مبنی استحصالی کردار
تحریر: رانا رفاقت علی۔ بہاولپور
رومن ایمپائر کے خاتمے کے بعد یورپ میں صدیوں پہ محیط تاریک دور شروع ہوا جو کہ پانچویں صدی عیسویں سے لے کر سولہویں صدی کے آغاز تک جاری رہا۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ ایک طویل اور ارتقائی عمل تھا، جس میں مسلمانوں اور عربی زبان کا اہم کردار تھا۔ اندلس میں مسلمانوں کا عملی ذخیرہ یورپ کے فکری ارتقا کا ایک بڑا عامل تصور کیا جاتا ہے(سلمی خدرہ جایوسی-دی لیگیسی آف مسلم اسپین)۔ یورپی اقوام نے سائنسی علوم اورنظام کی تشکیل اندلس سے سیکھی، لیکن ان کے فکر کا مرکز نسل پرستی کا رہا۔ سولہویں صدی میں یورپی طاقتیں بالخصوص پرتگال اور اسپین زر کی تلاش اور اور یورپین نسل کی بالادستی کی فکر کے ماتحت دنیا کی دوسری اقوام کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے سمندر کے راستے کالونیاں بنانے میں مصروف عمل ہوئے۔
4ستمبر 1599 ءکولندن میں ایک گروہ نے ملکہ الزبتھ اول کو درخواست بھیجی کہ مشرقی ممالک سے تجارت کے لیے ایک نئی کمپنی کے قیام کی منظوری دی جائے۔ 31 دسمبر 1599ء کو ملکہ نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے اجازت نامہ جاری کر دیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو اگلے15 سال کے لیے مشرق میں تجارت کی مکمل اجارہ داری دے دی گئی۔ بعد میں کمپنی کو یہ اختیاربھی دے دیا گیا کہ وہ اپنی فوج بھی بھرتی کرسکتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کا مقصد صرف تجارت کرنا نہ تھا، بلکہ تجارت کے درپردہ دیگر عزائم بھی شامل تھے۔
اگست 1608ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بحری جہاز نے ہندوستان کی طرف سفر شروع کیا اور گجرات کےشہر سورت میں رکا۔ جہاز کے کپتان ولیم ہاکنزاس وقت کے ہندستانی بادشاہ جہانگیر کے دربار میں حاضرہوا، اور تجارت کی اجازت حاصل کرنے کی درخواست کی، جسے بادشاہ نے قبول نہ کیا۔1615ءمیں برطانوی بادشاہ کنگ جیمز اول نے اپنا سفیر تھامس رائے، بادشاہِ ہند جہانگیر کے دربار میں بھیجا، جس کا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ہندستان میں تجارت کی اجازت لینا تھا ۔ بادشاہ اس اجازت کے لیے تیار نہ ہوا،لیکن برطانوی سفیر نےہمت نہ ہاری، کیوں کہ وہ ہندستان کی دولت اور سونا چاندی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ تھامس رائے لکھتا ہے کہ ”بادشاہ جو ہیرے استعمال کرتا تھا، ان میں کئی ہیرے اخروٹ جتنے بڑے تھے“۔(دی انارکی، ولیم ڈیل رمپل)۔ ہندستان کی دولت کا تذکرہ فرانس کے مشہور سیاح برنیئر اپنے خط میں مسٹر کالبرٹ سے ان الفاظ میں کرتے ہیں : ”یہ (ہندوستان) ایک ایسی خلیج ہے جس میں دنیا بھر کے سونے اور چاندی کا بڑا حصہ ہر طرف سے آکر جمع ہو جاتا ہے“۔1619ءمیں بالاخر بادشاہ نے تھامس رائے کو سورت میں فیکٹری بنانے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت اور معاہدہ کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی نےمصالحے، سلک اور چائے یورپ برآمد کرنا شروع کردی۔
پرتگال، ہالینڈ(ڈچ) اور فرانس نے بھی ہندوستان میں کالونیز بنا رکھی تھیں۔ ان یورپی ایسٹ انڈیا کمپنیز کے ساتھ معاہدات صرف تجارت کی حد تک محدود تھے۔ 1632ء میں پرتگالی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان تجارتی معاہدات کو پسِ پشت ڈال کربنگال میں قلعہ بنانا اور مقامی آبادی کو قید کرنا شروع کردیا۔ بادشاہ کو علم ہوا تو انھیں سبق سکھانے کے لیے فوج لےکر لشکر کشی کی۔ قلعہ فتح کیا اور پرتگالیوں کو عہدشکنی پر سخت سزائیں دیں۔
1681ءمیں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے منافع میں مزید اضافہ کے لیے ہندوستانی تجارت پر اجارہ داری حاصل کرنا چاہی اور معاہدات کے مطابق ٹیکسز دینے سے انکاری ہوگئے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی معاہدہ شکنی کا ارتکاب کیا۔ بنگال کے گورنر شائستہ خان نےکمپنی کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر اس وقت کے شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کو مطلع کیا کہ ”۔۔۔ انگریز گھٹیا، جھگڑالو اور دغاباز تاجر ہیں۔۔۔ “ (ایضاً) ۔ مغل فوج نے سورت اور پٹنہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فیکٹریوں پر قبضہ کرلیا۔ انگریزوں کو زنجیروں میں جکٹر کر ہندوستان کی گلیوں میں گھمایا گیا۔ پھر اِن انگریزوں کو سورت اور ڈھاکا کے قیدخانوں میں بند کردیاگیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے اِن انگریزوں کی رہائی کے لیے دو برطانوی سفیر جارج ویلڈن اور ابرام نوار ، شہنشاہ ِہند کے دربار میں رحم کی اپیل لے کر پیش ہوئے۔ جب یہ سفیر اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دربار میں پیش ہوئے تو ان کےہاتھ بندھے ہوئے تھے،سرجھکائے شہنشاہ کے حضور پیش ہوئے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین کے لیے معافی کے طلبگار ہوئے۔ رحمدل ہندستانی بادشاہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کومعاف کر دیا اور معاہدات پر کاربند رہنے کا حکم دیا۔ لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد ہی جرائم پیشہ افراد پر تھی، جیساکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تشکیل کے وقت کمپنی نے گورنمنٹ آف برطانیہ کو جو ریزولوشن بھیجا اس میں کہا گیا: ”کسی ذمہ داری کے کام پر جینٹلمین (شریف آدی) کو نہ رکھا جائے اور گورنمنٹ سے درخواست کی جائے کہ ہمیں اپنے کاروبار کے لیے اپنے ہی قسم کے لوگوں کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے (تاریخ برٹش انڈیا، جیمزمل)۔
1707ءمیں اورنگ زیب عالمگیرؒ کی وفات کے بعد ہندوستان کی مرکزی حکومت زوال کا شکار ہوگئی ۔ بعد میں آنے والے حکمران انتظامی قابلیت میں ماہر نہ تھے، جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس احسان فراموش برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مکاری، عیاری اور لالچ کا استعمال کرتے ہوئے تجارت کے پردے میں انتظامی معاملات پر قابض ہوکر اپنے عزائم کو عملی شکل دینا اور ہندوستانی عوام کا استحصال کرنا شروع کردیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757ء میں ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل کر کے اور مقامی غداروں کو ساتھ ملا کر لارڈ کلائیو کی سربراہی میں جنگ پلاسی میں فتح حاصل کی۔ بنگال کی دیوانی ایسٹ انڈیا کمپنی کے اختیار میں چلی گئی ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ اخلاقی اقدار سے عاری عہدشکنی اور انسانیت سوز واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جیسا کہ ڈبلیو، ڈبلیو ہنڑ اپنی کتاب’دی انڈین مسلمان‘میں لکھتے ہیں ”ہم نے بنگال کی دیوانی مسلمانوں سے اِس شرط پر لی تھی کہ ہم اسلامی نظام کو برقرار رکھیں گے، لیکن جوں ہی ہم نے اپنے آپ کو طاقت ور پایا ، اس وعدے کو فراموش کر دیا “۔
انتظامی اختیارات پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہر طرح کے عہد و پیماں سے انحراف کر کےلوٹ مار کا بازار گرم کردیا۔ جنگ پلاسی کا فاتح رابرٹ کلائیو پہلی دفعہ وطن واپسی پر ہندوستانی لوٹ کھسوٹ سے 2 لاکھ 34 ہزار پاونڈ برطانیہ لےکر گیا۔ 1765ء میں دوبارہ ہندوستان آیا اور دوسال کے قیام کے بعد تقریبا 4 لاکھ پاونڈ مالیت کا مال و زر لے کر برطانیہ گیا (عہدِ ظلمات، ششی تھرور)۔ لارڈ کلائیو اور گورنر جنرل وارن ہسٹنگز کی ہندستان سے لوٹی گئی دولت کا اتنا چرچہ ہوا کہ برطانوی پارلیمنٹ کو ان کا مواخذہ کرنا پڑا۔
یورپین اقوام کی مادیت اور نسل پرستی کی سوچ نے اقوامِ عالم کے وسائل کو پوری دنیا سے نکال کر یورپ پہنچانا شروع کر دیا ۔ اس زمانے میں برطانوی ہند سے 30 لاکھ پاؤنڈ کا سالانہ نکاس ہو رہا تھا۔” اتنا مستقل اور مجموعی نکاس اگر انگلینڈ سے بھی ہوتا تو اسے بھی جلد ہی محتاج(اور کنگال) کر دیتا۔۔ (منٹگمری مارٹن، مشرقی ہندستان)“ وہ ہندوستان جسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، اسے کنگال کرکے برطانیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ جیسا کہ بروکس ایڈمسن اپنی کتاب قانون ِ تمدن و تنزل میں لکھتے ہیں ”انگلستان کی صنعتی ترقی بنگال کے بے شمار دولت کے ذخیروں اور کرناٹک کے خزانوں کی بدولت ہوئی۔“
اٹھارویں صدی کے آخر میں ہندوستان ایک ایسی بدعہد استحصالی طاقت کے رحم و کرم پر تھا، جس کے بارے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک گورنر وارن ہسٹنگز بیان کرتا ہے کہ ” انگریز ہندوستان میں آکر بالکل نیا(اور مختلف) انسان بن جاتا ہے،جن جرائم کی وہ اپنے ملک میں جرات نہیں کرسکتا، ہندوستان میں اُن کے ارتکاب کے لیے انگریز کا نام جواز کا حکم رکھتا ہے۔ اُس کو سزا کا خیال تک نہیں ہو سکتا“ (نقشِ حیات، مولانا حسین احمد مدنی)
ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاشی استحصال سے ہندوستان کا سماج بری طرح متاثر ہوا۔ کمپنی کی طرف سے کسانوں اور مزدورں پر بے جا ٹیکسز لگائے گئے، جس سے سماج کی حالت دگرگوں ہو تی چلی گئی۔ اس خستہ حالی کا ذکر سر ولیم ڈگبی نے”پراسپرس برٹش انڈیا “میں بہت تفصیل سے کیا ہے کہ 1793ء سے 1900ء تک کے 107 سالوں میں پوری دنیا میں کل ملا کر جنگوں میں 50 لاکھ لوگ مارے گئے، جب کہ 1891ء سے 1900ء کے دس سالوں کے دوران کالونیل اِزم کے طفیل ایک کروڑ نوے لاکھ لوگ قحط سالی سے ہلاک ہوئے (عہد ظلمات، ششی تھرور)
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز کا نوجوان نوآبادیاتی دور(کالونیل اِزم ) کی اِس تاریخ سے نا بلد ہے، جب کہ دنیابھر میں نوآبادیاتی دور کے ظالمانہ ،غلامانہ، معاشی اور سماجی استحصال کی تاریخ زیرِبحث ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو بغیر کسی مرعوبیت کے شعوری بنیادوں پر اپنی تاریخ کے اجتماعی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تجزیہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ برطانوی لیبرپارٹی کےلیڈر جیرمی کاربائن نے تجویز پیش کی تھی کہ ”انگریزوں کی جانب سے نوآبادیاتی استحصال اور قتل و غارت گری کی تلافی کی سب سے بہترین شکل شاید یہ ہوسکتی ہےکہ برطانوی سکولوں میں غیررومانی(اور حقیقت پر مبنی) نوآبادیاتی تاریخ پڑھانا شروع کردی جائے“۔