ڈیجیٹل مشقت و فری لانسنگ کے پاکستانی سماج پر اَثرات
پاکستان میں فری لانسنگ جدید ڈیجیٹل غلامی کی وہ شکل ہے جہاں نوجوان ڈالر کمانے کی دوڑ میں اپنی ذہنی صحت، خاندانی جڑت اور سماجی وجود گنوا رہے ہیں۔
پاکستان میں فری لانسنگ جدید ڈیجیٹل غلامی کی وہ شکل ہے جہاں نوجوان ڈالر کمانے کی دوڑ میں اپنی ذہنی صحت، خاندانی جڑت اور سماجی وجود گنوا رہے ہیں۔
آج کا انسان، بالخصوص پاکستانی معاشرہ، جس سب سے گہرے کرب سے گزر رہا ہے وہ محض غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ ایک درد و انبوہ میں ڈوبی بے کراں خاموش ۔۔۔۔
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ
افراط زر کی شرح کو calculate کرنے کے لئے کنزیومر پرائس انڈیکس calculate کیا جاتا ہے۔مضمون میں اسی معیار کے ذریعے ایک موازنہ اور تجزیہ کیا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں جب بھی ”کرپشن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے صرف پیسے کی ہیراپھیری مراد لی جاتی ہے۔ حال آں کہ مالی اعدادوشمار تو صرف اس بیماری کی۔۔۔۔
درالحکومت کے وسط میں ایک عمارت تھی جسے لوگ ایوان کہتے تھے اسکے دروازے پر نہ کوئی مذہبی علامت تھی نہ قومی۔ فیصلے یہاں ہوتے ہیں اعلان کہیں اور۔
آج کا دن ان سب عظیم جوانوں کے نام جو شادی کے چند ہفتے بعد پردیس کی فلائٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا "ATM" بن جاتے ہیں۔۔۔۔
فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.
آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دولت کی فراوانی ، وسائلِ پیداوار کی ترقی اور حیرت انگیز معاشی ارتقاء نظر آتا ہے اس کے باوجود انسانیت فقروفاقہ